مفلوج !
ڈر نہیں لگتا ہے ؟
نہیں !
کیوں ؟
سارے ڈر مر گئے ہیں !
کیسے مر گئے ؟
میں نے مار دیا !
کیوں ؟
کیوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا ہے !
یعنی ؟
قاتل کو سزا دی جاتی ہے اس کے آگے آکر کیوں کیوں نہیں کہا جاتا !
کیا سزا چاہیے ؟
آخری خواہش پوچھی جاتی ہے سزا نہیں ، کیا تمہیں اتنا بھی نہیں معلوم !
سزا میں تو تم پہلے سے ہی ہو !
یعنی ؟
مفلوج زندگی خود میں ایک بڑی سزا ہے !
تمہیں فقط زندگی مفلوج لگی ہے ؟
نہیں دماغ ، دل ، جسم ،روح ہر شے مفلوج لگی ہے تبھی تو پوچھا کہ تم نے قتل کیسے کیا ؟
ڈر کے آگے اپنے مفلوج پن کر رکھا اور ڈر مر گیا !
یہ قتل تو نہ ہوا !
قتل کی مخلتف اقسام ہیں !
جیسے کہ ؟
جیسے کہ میں قتل ہوچکی ہوں !
تم اس طرح کی باتیں کیوں کرتی ہو ؟
پھر تم بتا دو کس طرح کی باتیں کروں ؟
ایسی باتیں جس سے مایوسی ختم ہو !
اگر انسان خود پورے کا پورا مایوسی ہو تو ؟
مایوسی کفر ہے !
مایوس کرنے والے پھر کون ہونگے ؟
سوال پر سوال نہیں کیا جاتا بلکہ سمجھا جاتا ہے !
تم بھی تو سوال پر سوال کر رہے ہو سمجھ نہیں رہے ہو !
کیا سمجھنا ہے ؟
کچھ نہیں !
بھوک لگی ہے ؟
نہیں !
کچھ چاہیے ؟
نہیں !
پھر جب کوئی طلب بھی نہیں ہے تو اداسی کی چادر اتار کیوں نہیں دیتی !
اداسی کو کسی طلب کے ہوتے ہی پہننا فرض ہے کیا ؟
نہیں تو میں نے ایسا کب کہا !
تم جاؤ اب !
کیوں ؟
کیونکہ تم بھی اس اداسی کی لپیٹ میں آجاؤ گے !
تمہیں ڈر لگ رہا ہے نا ؟
نہیں !
تم جھوٹ بول رہی ہو !
میں جھوٹ نہیں بول رہی !
تم ڈر رہی ہو کہ تمہاری اداسی کی پرچھائی کسی اور پر نہ پڑے!
یہ فقط اداسی نہی�� ہے یہ مایوسی ہے منحوسیت ہے پچھتاوا ہے تم یہاں سے جاؤ یہ جگہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے !
مجھے تو یہ جگہ پسند ہے میں نہیں جاؤں گا !
مشکل مت بنو ، آسانی پیدا کرو !
تم بھی خود کیلئے آسانی پیدا کرو !
آسانی ہی پیدا کر رہی تھی کہ سب خراب ہوگیا !
کیا خراب ہوگیا ہے ؟
تم نہیں سمجھو گے !
تو پھر مجھے سمجھاؤ نا !
سمجھ گئے تو محسوس نہیں کرو گے !
کیا محسوس نہیں کرونگا ؟
بس ۔۔۔
یہ محسوس کرنا ہے کہ تم نے کمرے سے پنکھا کیوں اتار دیا یا پھر یہ کہ کمرے میں اب کوئی نوکیلی چیز نہیں ہے تم کمرے کو خالی کر چکی ہو !
میری زندگی میں دخل مت دو !
تم موت سے ڈرتی ہو !
تم میرے ڈر نہیں جان پاؤ گے !
تم خود کو مار دینے سے ڈرتی ہو !
تم نہیں پہچان پاؤ گے !
تم اپنے دوسرے روپ سے خوف زدہ ہو !
میرا کوئی دوسرا روپ نہیں ہے !
تم نے ہی خوراک دے کر دوسرے روپ کو بڑا کیا ہے !
مجھے کریدنا بند کرو !
میں فقط آگاہی پیدا کر رہا ہوں !
مجھے آگاہی سے نفرت ہے !
تم آگاہی سے ڈرتی ہو !
تم نہیں سمجھو گے !
تم مفلوج پن کو گلے لگائے مفلوجیت سے اتنا دور کیوں بھاگتی ہو !
چپ کر جاؤ !
مفلوجیت کو قبول کیوں نہیں کر لیتی ہو ؟
خدا کیلئے چپ کرجاؤ !
مفلوجیت کوئی داغ نہیں ہے !
یہاں سے دفع ہوجاؤ !
تم خود کو دیکھنے سے ڈرتی ہو !
نہیں !
تم نے سارے آئینے توڑ ڈالے ہیں !
نہیں !
تم نے خود کو توڑ کر ختم کر ڈالا ہے !
نہیں !
تم نے اپنی مفلوجیت سے بھاگ کر زمانے کی مفلوجیت کو گلے لگایا !
نہیں !
تم نے خود پر ظلم کیا ہے !
خدا کیلئے چپ کر جاؤ !
تم خود کو انصاف دینے سے ڈرتی ہو !
ایسا ہرگز نہیں ہے !
تم خود کی خود ہی مجرم ہو!
میں مجرم نہیں ہوں !
تم نے سب تباہ و برباد کر ڈالا ہے !
اب بس کر جاؤ قسم سے میں بہت تھک گئی ہوں!
کس چیز سے تھک گئی ہو ؟
خود کی مفلوجیت سے اس زمانے کی مفلوجیت سے رشتوں کی مفلوجیت سے وقت کی مفلوجیت سے خوشی کی مفلوجیت سے سکون کی مفلوجیت ، میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں اس مفلوجیت کو خود پر لادھ کر میں گہری تکلیف میں ہوں ایک نہ ختم ہونے والی تکلیف جس کو آرام نہیں آرہا ہے !
تھکن کو اتار کیوں نہیں دیتی ہو ؟
تم پر اگر اپنا قتل معاف کردوں تو کیا مجھے قتل کردو گے ؟
مفلوجیت تو پھر بھی زندہ رہے گی تم سے ہٹ کر کسی اور کو چمڑ جائے گی !
یعنی ؟
خود غرض مت بنو !
پھر تم یہاں سے چلے جاؤ مجھے کچھ دیر مفلوجیت کو اوڑھ کر سونے دو !
کتنی دیر سونا چاہتی ہو ؟
جب تک خود کو بھول نہیں جاتی !
قیامت تک بھی سوتی رہو گی تو خود کو نہیں بھول پاؤ گی !
تم میری مشکل مت بڑھاؤ خدا کیلئے یہاں سے جاؤ !
اچھا میں چلا جاتا ہوں لیکن دوبارہ پلٹ کر آؤں گا یہ دیکھنے کہ تمہارے ساتھ مفلوجیت نے آگے اور کیا کیا کِیا ہے !
عباس
خواب
زندگی ہتھیلیوں میں تھام کر
آنکھوں میں بسے خوابوں کے گرد
گھوم رہا ہوں
ادھر گھڑی کی سوئیاں
مجھے کھائے جا رہی ہیں،
مگر امید ہے
جو مجھے میرے خوابوں سمیت
مدار میں رکھے ہوئے ہیں۔
تجھے اس خوف میں امید پتہ ہے کہاں سے ملے گی (اماں کے آنکھ میں آنسو تھے ) سن پتر تجھے امید کربلا کی مٹی سے ملے گی کربلا کے وارث امام زمانہ مہدی علیہ السلام سے ملے گی ایک طرف دجال ہوگا ج�� کے پاس ساری طاقتیں ہونگی اور دوسری طرف امام مہدی جن کے پاس لاڈلے حسین کی میراث ہوگی وہ امام مہدی جو دجال کو ختم کر ڈالیں گے وہ امام مہدی جن کی امامت میں اصل مسیحا آئے گا یعنی کہ مسیح عیسی علیہ السلام جس کا زکر تورات اور ہر آسمانی کتاب میں ہے سن پتر کربلا کو اسی وجہ سے ہونا تھا کہ دنیا کو مسیحا ملنا تھا وہ مسیحا جو آل محمد کا پیروکار ہوگا اماں اب کربلا کے درد کو محسوس کر کےرو رہی تھیں سن پتر حق سے کبھی دور مت ہونا یہ حق بڑا ضروری ہے کیونکہ اس حق میں لاڈلے حسین کا خون شامل ہے !
اماں دجال کیسے ختم ہوگا ؟
جیسے اسکا عروج ہوگا اس عروج کی چوٹی پر اسکو ختم کر دیا جائے گا اور پوری کائنات کو واضح کردیا جائے گا کہ ہمیشہ رہنے والی ذات فقط اللہ کی ہے سن پتر دجال کے خاتمے سے پہلے میں تجھے کچھ اور بتاتی ہوں دجال چالیس دن زمین پر رہے گا پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا دوسرا دن ایک مہینے کے برابر ہوگا تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہونگے وہ وقت کو اپنے طرز پر چلا رہا ہوگا دجال علم سیکھ کر اس دنیا کا سب سے بڑا جاہل بنے گا ایسا جاہل جو اپنی ہی جہالت میں غرق ہوگا !
اماں امام مہدی ہم سب کو بچا لیں گے نا؟
ہاں وہ مقابلہ کریں گے دنیا سے سارے فتنے ختم کر ڈالیں گے اور جب دجال بھاگ رہا ہوگا اس خاص جگہ سے تو حضرت عیسی اسکو امام مہدی کی امامت میں مار دیں گے حضرت عیسی گھوڑے پر سوار ہونگے اور نیزے سے دجال ختم ہوجائے گا وہ دجال جو کچھ وقت پہلے خدائی کا دعوی کر رہا تھا وہ دجال پھر جہنم کے بدترین درجے میں بھیج دیا جائے گا !
اماں حق جیت جاتا ہے نا ؟
ہاں کیونکہ حق کا وجود ہی جیت کیلئے ہوا ہے بس ہر بار جیت الگ طرح سے ملتی ہے کبھی کبھار قربان ہوجانا پڑتا ہے اور کبھی سب کو ختم کر دینا پڑتا ہے !
اماں وہ جگہ کون سی ہے جہاں دجال مارا جائے گا ؟
تل ابیب کے گاؤں لُد کے پاس ائیر پورٹ ہے جہاں پر دجال کو مار دیا جائے گا اور ساتھ ہی یہودی بھی ختم کر دیئے جائیں گے اور پھر امام زمانہ اس پوری دنیا میں امن قائم کریں گے !
اماں امام مہدی کے ساتھ کون کون سے لوگ ہونگے !
وہ ہرشخص امام مہدی کے ساتھ ہوگا جس کے دل میں حق کی روشنی ہوگی جس کے دل میں خدا کی عقیدت کی سیڑھی یعنی امام مہدی کی مح��ت زور پکڑے گی!
اماں میرا ڈر ختم ہوگیا ہے دل کو تسلی ہوئی ہے !
سن پتر اس تسلی کا جو سبب بنا ہے اس سے عقیدت پیدا کر علم کا حق یہ ہے کہ علم کو خود میں پوری طرح سماں لینا ہوتا ہے کہ علم آپ میں جھانکتا نظر آئے وہ علم جس کے بارے اللہ نے نبی پاک سے پہلی وحی میں فرمایا تھا کہ پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جو ہر شے کا خالق ہے ، سن پتر یہ علم کی بنیاد ہے جو یہ بھول جاتا ہے دجالیت میں غرق ہوجاتا ہے وہ دجالیت جو موجودہ دور میں ہر طرف جوش مارتی نظر آرہی ہے !
اماں نے ایک گہرا سانس لیا میری طرف نم آنکھوں سے دیکھا اور کہنے لگی کہ پتر اپنے آپ کو کربلا کے حق کے حصار میں رکھنا اس حصار سے کبھی باہر ��ہ نکلنا یہ حصار تیرا تحفظ کرے گا وہ حصار جس کا وجود میرے لاڈلے حسین علیہ السلام کی وجہ سے ہوا وہ حصار جو امام مہدی کی اصل ہے وہ حصار جو امن کا پرچم ہر طرف لہرائے گا !
عباس
کربلا کے لاڈل حسین علیہ السلام !
امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام اور فتنہ دجال !
(پندرہواں حصہ )
اماں مجھے صبح سے مطالعہ کرتا دیکھ رہی تھیں میں کتابوں میں غرق دنیا سے بےخبر اپنے علم کے حصول کی چاہ میں مگن تھا وہ مجھے دیکھتی اور مسکراتی پھر رات کے وقت میرے پاس آکر بیٹھ گئی ، پتر میں تجھے علم کا ایک خوبصورت راستہ بتاؤں جہاں یہ کتابیں بھی سر کو جھکا لیتی ہیں سن پتر وہ راستہ عقیدت کا راستہ ہے ،میں نے اماں سے پوچھا کہ اماں عقیدت کیسے پیدا ہوتی ہے اور اماں نے مجھے مسکرا کر دیکھ کر کہا کہ پہلے ڈر پیدا ہوتا ہے ڈر کے بعد امید ملتی ہے پھر ڈ�� ختم ہوجاتا ہے امید کو تقویت ملتی ہے اور پھر عقیدت پیدا ہوتی ہے جب ہر شے صاف واضح ہوجاتی ہے !
سن پتر میں تجھے فتنوں میں موجود سب سے بڑے فتنے کے بارے بتاتی ہوں وہ فتنہ جو باقی تمام فتنوں کی پیداوار ہے سن پتر یہ وہ فتنہ ہے جس سے پیارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پناہ کی دعا مانگی ہے وہ فتنہ جس کے بارے ہر نبی نے پہلے ہی بتا دیا تھا یعنی کہ فتنہ دجال ، دجال یعنی کہ امن کا دشمن خدا کا دشمن جو خدائی کا دعوی کرے گا ، وہ فتنہ جس کو یہودی نجات دہندہ سمجھتے ہیں سن پتر میں آج جو جو بتاتی جاؤں لکھتا جانا اور ساتھ ساتھ خدا سے پناہ مانگنا ، میں اماں کی ہر بات لکھ رہا تھا اور اماں مجھے عقیدت تک پہنچنے کا سفر کروا رہی تھیں !
سن پتر میں تجھے کچھ نشانیاں بتاتی ہوں وہ غور سے سننا دجال مسیحا ہونے کا دعوی کرے گا وہ مسیحا جس کا ذکر تورات میں ہے وہ مسیحا جو حضرت عیسی تھے جن کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا حضرت عیسی جن کو مارنے کی کوشش ہی یہودیوں نے کی تھی سن پتر یہ حق اور باطل کی جنگ تب سے جاری ہے جب ابلیس نے سجدے سے انکار کیا تھا دجال ابلیس کی سب سے بھیانک شکل ہے !
اماں مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے حضرت عیسی اگر مسیحا ہیں تو دجال کیوں دعوی کرے گا ؟
کیونکہ یہودیوں نے حضرت عیسی پر یقین نہیں کیا تھا وہ یہودی جن کو لگتا ہے کہ تیسری بار ہیکل سلیمانی یروشلم کی تعمیر یہودیوں کو گریٹر بنا دے گی اور انکو گریٹر دجال بنائے گا یہودی وہ واحد قوم ہیں جو دجال کو مسیحا سمجھ کر بدترین گمراہی میں ہیں !
اماں کیا امام مہدی علیہ السلام دجال کا خاتمہ کریں گے ؟
ہاں اس وقت دنیا باقاعدہ دو حصوں میں تقسیم ہوگی ایک طرف حق ہوگا دوسری طرف باطل ویسے ہی جیسے کربلا میں تھا سن پتر آل محمد کو شہیدکرنے والے اصل میں دجال کے پیروکار تھے وہ ہر شخص جو طاقت چاہتا ہے جو ظلم کرتا ہے جو خدا کی طرف آواز بلند کرتا ہے وہ دجالی ہے !
اماں دجال کی نحوست کیا مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ��
ہاں وہ جن کے ایمان کمزور ہیں جن کی عقیدت کچی ہے اسی لیے تو تجھے یہ سب بتا رہی کہ تیری عقیدت اس اونچائی پر پہنچ جائے جہاں مدینہ ہے وہ خوبصورت پناہ گاہ جہاں دجال کا کوئی وار داخل نہیں ہوسکے گا !
اماں دجال وار کیسے کرے گا ؟
دجال اپنی دجالیت کے ذریعے لوگوں کو اندھا کر دے گا سن پتر اب میں تجھے کچھ حقائق اور نشانیاں بتا رہی ہوں دجال ہر شے کو قابو میں کرے گا ہوا بارش زرخیری سب اس کے قابو میں ہوگی اسکی آواز ہر جگہ سنائی دے گی اسکی سواری ایسی ہوگی جس کے دونوں کانوں کے درمیان اسی ہاتھ کا فاصلہ ہوگا وہ ہر جگہ موجود ہوگا ہر انسان پر حکومت کرے گا حتی کہ لوگ اسکو خدا ماننے لگ جائیں گے وہ کرشمے کر کے دکھائے گا کسی کو اس کے مردہ ماں باپ سے ملائے گا لوگوں کے دو حصے کر کے درمیان سے گزرے گا اور پھر انکو دوبارہ زندہ کرے گا وہ اصل میں ٹیکنالوجی کے عروج کو کنٹرول کر رہا ہوگا وہ عروج جہاں وہ سرکش بنا فقط ظلم اور بربریت کرے گا اس نے اپنی جہنم اور جنت بنائی ہوگی جو اسکی بات مانے گا اسکو جنت میں ڈال دے گا جو نہیں سنے گا اسے جہنم میں !
بالکل اسی طرح جس طری یزید نے کیا ؟
ہاں پتر ہر ظالم کے ظلم کرنے کا پیٹرن ایک جیسا ہوتا ہے بس اس پیٹرن کو پہچان کر حق اور باطل میں فرق کرنا آنا چاہیے !
اماں یہ سب خوف میں مبتلا کرنے والا ہے !
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
جاری ہے
کربلا کا کل رقبہ شاید زیادہ سے زیادہ ٥٠ کلومیٹر ہوگا۔ اس چھوٹے سے شہر میں اربعین کے دن لاکھوں انسانوں کا ایک سمندر اکٹھا ہوتا ہے۔ ہر سال اربعین پر کربلا کی زیارت کیلئے آنے والے زائرین کی کل تعداد تین کروڑ سے تجاوز کرتی ہے جو اس دفعہ چار کروڑ کراس کر چکی ہے ماشاء اللہ، جو اس اجتماع کو کرہِ ارض کا سب سے بڑا اور سب سے پراثر انسانی اجتماع ثابت کرتی ہے۔ یہ کروڑوں لوگ اُس حسین مظلوم علیہ السلام کی محبت میں جمع ہوتے ہیں جسے اکسٹھ ہجری میں تنہا اور پیاسا شہید کر دیا گیا تھا۔ آج ہر زائر پکار ��کار کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں حاضر ہوں میرے مولا ع، آج آپ اکیلے نہیں۔
ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس دن حرمِ امام حسینؑ اور حرم مولا عباسؑ کے سامنے رہے۔ کربلا کی چھوٹی چھوٹی گلیاں ہوں، بین الحرمین ہو یا حرم کی طرف آنے والی بڑی سڑکیں۔ ان سب پر موکب لگے ہوتے ہیں، لوگ فٹ پاتھ پر چادریں بچھائے بیٹھے ہوتے ہیں، چلنے والے چل رہے ہوتے ہیں، زیارت پڑھنے والے زیارت پڑھ رہے ہوتے ہیں، گریہ کرنے والے گریہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہیں پر کھانا پانی قہوہ تقسیم ہورہا ہوتا ہے۔ اسی دوران صفائی والا عملہ اپنا کام بھی کرتا جاتا ہے۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس کربلا کی سڑکوں اور گلیوں میں جھاڑو دینے والے اور کچرا اٹھانے والے ان خداموں کو دیکھ کر مجھے کئی ��ار ان کی قسمت پر رشک آیا تھا۔ دل چاہا تھا کہ ان سے درخواست کرکے کچھ نوکری میں بھی کر سکوں لیکن شاید میں ابھی اس قابل نہیں تھا۔
کربلا میں موجود یہ عشاق امام حسین و مولا عباس علیھم السلام کا مجمع پرسکون ہوتا ہے۔ مجھے کوئی ایک انسان بھی غصے میں نظر نہ آیا۔ کہیں جھگڑا ہوتے نہ دیکھا، کہیں بھگدڑ مچتے نہ دیکھی۔ دن رات زائرین کیلئے طعام کا بندوبست کرنے والوں کے چہروں کو بغور دیکھتا رہا، غصہ تو کجا، کسی کے ماتھے پر ایک شکن تک نہ نظر آئی۔بلکہ ان کے چہروں پر اُس وقت مایوسی ضرور نظر آئی جب ان کے اصرار کے باوجود زائرین ان کا شکریہ ادا کرکے بغیر تبرک چکھے جاتے رہے۔
۔
انسانی عقل چاہے بھی تو اس حقیقیت کو نہیں سمجھ پائے گی کہ ایک چھوٹے سے شہر میں جہاں چھوٹی چھوٹی تنگ سی گلیاں ہیں، وہاں اتنے انسانوں کا بیک وقت انتظام کیسے ممکن ہوپاتا ہے۔ انتظام تو ایک طرف، یہ انسان یہاں سما کیسے جاتے ہیں۔ سوائے اس کے اور کوئی جواب نہیں ملتا کہ یہ انتظام اُنہی کریم مولاؑ کا اور اُن کے بھائی مولا عباسؑ کا ہوتا ہے جن کی زیارت کیلئے یہ زائرین دور د��ر سے کربلا آتے ہیں۔
۔
سفر ِعشق ِ کربلا !
کربلا فقط ایک داستان تو نہیں ہے !
کربلا تمام کی تمام انسانیت ہے
کربلا فقط ایک زمین تو نہیں ہے
کربلا وہ جنت ہے جو خدا کے لاڈلوں کے خون سے آباد ہوئی ہے
کربلا صرف ایک دکھ نہیں ہے
کربلا ایک چیختی روتی چلّاتی روح ہے
وہ روح جو ہر بار جاگتی ہے
اور یاد کرتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے !
سب کا دکھ منانے کا الگ انداز ہے
ہر ایک دکھ کو الگ طرز سے محسوس کرتا ہے
اور جب میں محسوس کرتا ہوں تو میں میں نہیں رہتا ہوں
میں کمرے میں تنہا بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں
آنسو جاری ہوتے ہیں
اور لگتا ہے کہ کربلا کی طرف سفر کر رہا ہوں
اور آگے بڑھ رہا ہوں
کربلا کی طرف جاتے میرے قدم ڈر جاتے ہیں
کہتے ہیں کہ آگے بڑا ظلم ہوا ہے
میں کہتا ہوں کہ جس کا میں عاشق ہوں انکے ساتھ ظلم ہوا ہے
میں کیسے رک جاؤں
سفر رکتا نہیں ہے
جاری رہتا ہے !
میں جب سفر کرتا ہوں
تو مجھے شام کے زندان اور کربلا دونوں نظر آتے ہیں
کربلا جہاں میرے امام انتظار کر رہے ہیں
اور وہ زندان جہاں سے امام کی بہن کربلا کی طرف دیکھ رہی ہیں
بھلا اسیری سے بڑی بھی کوئی بےبسی ہے؟
ایسی بےبسی جہاں علی کی بہادر بیٹی بیٹھی روتی ہے
اور پھر اسیری کے بعد اپنے بھائی سے ملنے کا سفر کرتی ہے
ان کے اٹھتے قدم عشق کو رقم کر رہے تھے
اب عشق کی رقم اتنی بڑھ گئی ہے کہ
کوئی اس عشق کو خرید نہیں سکتا ہے
اسکو لکھ نہیں سکتا ہے
جب میں کربلاکی طرف سفر میں تھا
تو سب کہتے رہے کہ تمہارے پاؤں زخمی ہیں
میں کہتا ہوں میرا دل زخمی ہے
کہ میرا دل ان زخموں کو محسوس کر رہا ہے
جو زخم کربلا کے ساتھیوں کے ملے !
میں چلتا رہتا ہوں کہ
لوگ کہتے ہیں تم گر جاؤ گے
میں کہتا ہوں کہ میں کربلا کے عشق کے سفر میں مرنا چاہتا ہوں
میں کربلا پہنچ کر دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتا ہوں
میں امام حسین کا چہلم منانا چاہتا ہوں
یہ میری خواہش ہے
حسرت ہے
میں ہر کربلا کو جانے والے کو بڑے رشک سے دیکھتا ہوں
آنکھیں نم ہوتی ہیں کہ
میں اپنے اصل سے دور ہوں
میں بےگھر ہوں کہ
میرا گھر کربلا ہے !
آنسو اب بھی جاری ہے کہ
میں عشق کر نہیں پا رہا ہوں
میں عشق کو شاید محسوس نہیں کر رہا ہوں
آنکھیں کھول لیتا ہوں
اور تڑپ اٹھتا ہوں
ایک ایسی تڑپ جو میرے دل کو بند کر دیتی ہے
اور میں ہوش کھو کر دوبارہ کربلا پہنچ جاتا ہوں
وہ ہی پہلے والا منظر سامنے ہوتا ہے
تپتی دھوپ میں چلتی دلیر زینب جو آنسوؤں کو آنکھ میں بھر کر چلتی آرہی ہیں
وہ بس کربلا پہنچنے والی ہیں
بس کچھ قدم اور
کربلا کی مٹی نے زینب کو دیکھ لیا ہے
کربلا کی مٹی نے بین کرنا شروع کردیا ہے
فرات جاگ گیا ہے
وہ معافی مانگ مانگ کر بےہوش ہوجاتا ہے
دیکھو کربلا والوں
تمہاری زینب اب پہنچ چکی ہے
بوڑھی زینب اسیری کی مصیبتیں خود پر لادھ کر پہنچ گئی ہے
اب زینب رو رہی ہے
دیکھو کربلا والوں تمہاری بہن رو رہی ہے
دیکھو کربلا والوں تمہاری ماں رو رہی ہے
زینب کے آنسو میرے دل سے خون جاری کرتے ہیں
ایک غم جو مجھے طمانچے مارتا ہے
عشق کی انتہا جہاں میں بےبس ہوچکا ہوں بےخبر ہوچکا ہوں
آنکھیں دوبارہ کھل گئی
اور ربط ٹوٹ گیا
یہ ربط قائم کیوں نہیں ہو رہا ہے
میں عشق میں کچا پڑ گیا ہوں
میں روتا رہا
میں بہت زیادہ رویا
کہ پھر حقیقت میں ہی کربلا کے سفر میں پہنچ گیا
اب ربط نہیں ٹوٹے گا
اب میں چل رہا کربلا کی جانب
میں چہلم منانے جا رہا ہوں
میں بی بی زینب کی سنت نبھانے جا رہا ہوں
اب میں اور میرے ساتھ عشق چل ��ہا ہے
دھوپ ہے آگ ہے پاؤں زخمی ہیں لہو بہہ رہا ہے
لیکن مجھے اپنا آپ محسوس نہیں ہو رہا ہے
بس ہر بڑھتے قدم کے ساتھ کربلا اور قریب محسوس ہو رہی ہے
اور میں تڑپتا گرتا سنبھلتا آگے بڑھ رہا ہوں
اب میرے سامنے کربلا ہے
میرے سامنے خدا کے لاڈلوں کا ڈیرا ہے
اور میں یہاں ہی کربلا کی مٹی میں ڈھیر ہوگیا
میں بڑا رویا
اب کربلا میرے اندر اور باہر موجود تھی
درمیان میں میں تھا
دیکھیں حسین میں آیا ہوں
آپ سے ملنے
دیکھیں غازی عباس میں آیا ہوں
دیکھیں علی اکبر عون و محمد اور قاسم میں آیا ہوں
دیکھیں شہزادے علی اصغر میں آیا ہوں
دیکھیں آخر کار آپ سب کے پاس پہنچ گیا
دیکھیں میں اپنے اصل کے پاس پہنچ گیا
میں سفر ��شق کر کے عشق کے میدان پہنچ گیا !
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت!
(انیسواں اور آخری حصہ )
وقت گزر رہا تھا کبھی سخت اور ک��ھی نرم!
شعیب بڑا ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ اسکا وقار ہر جگہ بول رہا تھا شعیب کو عزت مل رہی تھی باقی سب سے زیادہ ہر کوئی اب شعیب کو دیکھ کر سلام کرنا ضروری سمجھتا تھا شعیب اب تیس سال کا تھا وہ کمرہ اب فقط ایک کمرہ نہیں رہا تھا وہ بڑھ چکا تھا وہ ایک مسجد بن چکی تھی ہجڑوں کی مسجد ، وقاص کی موت تب ہوئی تھی جب شعیب بیس سال کا تھا!
ہر آنے والا اپنے آنے کا مقصد پورا کرتا اور مر جاتا!
ہجڑے نامکمل ہوتے ہیں لیکن وہ نامرد ہرگز نہیں ہوتے ہیں ہجڑے عورت نہیں ہوتے ہیں لیکن ان میں ممتا موجود ہوتی ہے ہجڑے گھر نہیں بسا سکتے ہیں لیکن وہ گھر بسانے کی دعا ضرور دیتے ہیں یہ بڑے بےغرض ہوتے ہیں کسی غرض کے بغیر مخلصی کو اوڑھ کر رکھتے ہیں ہجڑے جو راتوں کو جاگ کر روتے ہیں یہ اس لیے نہیں روتے کہ وہ نامکمل ہیں بلکہ اس لیے روتے ہیں کہ کوئی انکو انسان ہی نہیں سمجھتا ہے شعیب کے پاس ایسے بہت سے ہجڑے آئے جن کے جسموں کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا وہ ہجڑے جو زمانے کی سختی برداشت کر کر کے تھک گئے تھے وہ ہاجرہ کے شجر کے سائے میں پناہ لینے لگ گئے تھے شعیب کی خود داری آخری دم تک زندہ رہی تھی اس نے کبھی کسی کے ��گے ہاتھ پھیلانا نہیں سیکھا اس نے خود اپنا مقام بنایا ہر طرح کی محنت کی اور کما کر اپنا گزارا کیا شعیب کو اب کوئی ہجڑا نہیں کہتا تھا ہاں البتہ سب اسکو اب شعیب کی جگہ حافظ کہتے تھے لوگ اسکو اپنے مقابلوں میں دینی مجالس میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرتے تھے اکثر لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے شعیب نے اپنی پوری زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھال لیا تھا وہ جھک کر چلنے والا کالی چادر اوڑھ کر رکھتا تھا وہ جو ہر وقت اب یہ سعی کر رہا تھا کہ ہجڑوں کو کیسے ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے اور کیسے انکو اس ذلت سے بچانا ہے!
____
دیکھیں امی میں آیا ہوں(وہ ہاجرہ کی قبر پر عصر کے بعد جاتا تھا اور روز آکر یہ ہی کہتا کہ امی میں آیا ہوں )
امی آپ بہت یاد آتی ہے جب میری سالگرہ ہوتی ہے تب مجھے قورمہ بنا کر دینے کیلئے آپ نہیں ہوتی ہیں حالانکہ اب ہزاروں لوگ مجھے چاہنے لگ گئے ہیں میری سالگرہ پر سب قورمہ بھی لاتے ہیں لیکن وہ والی سالگرہ اب تک نہیں بھول پاتا جب آپ نے گھر میں سب کی گالیاں کھا کر قورمہ بنایا تھا جب آپ نے آنسوؤں کو روک کر نوالے میرے منہ میں ڈالے تھے امی اب وہ ہی اسکول جس میں مجھے ایڈمشن نہیں ملا تھا اس اسکول میں مجھے مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے مجھے تب آپ بڑی یاد آتی ہیں جب وہاں سے آپکو جانے کا کہا گیا تھا امی آپ نے میری وجہ سے کتنی دھتکار برداشت کی ہے وہ دھتکار جو میری قسمت کی تھی وہ سب آپ نے برداشت کی ہے امی یحییٰ بھائی اب بوڑھے ہوچکے ہیں آپ نے کہا تھا انکی خدمت کرنا امی میں انکا خیال رکھتا ہوں وہ بڑا پیار کرتے ہیں مجھے دیکھ کر روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنا علم سہی ہاتھوں میں سونپ چکا ہوں امی عمرے پر گیا تھا تب آپ بہت یاد آئی تھیں میں حضور کے روضے کی جالیوں سے لگ کر بڑا رویا تھا کعبہ کی چادر پکڑ کر میں نے بڑی التجا کی تھی کہ اب کوئی ہجڑا میرے معاشرے میں تالیاں نہ بجائے امی سنیں آپ نے میرے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی میں سب عورتوں کو دیکھتا تھا کہ سب کے سہاگ ان کے ساتھ تھے بال بچوں والی عورتیں جو لال چوڑیاں پہنتی اور ان کے سہاگ ستائش کرتے اور آپ انکو دیکھ کر چہرہ نیچے کر لیتی تھیں تب آپکا دکھ محسوس ہوتا تھا کہ آپ کو ابو یاد آتے ہیں امی جی آپ نے میری وجہ سے ابو کو بھی چھوڑ دیا نانا ابو کو بھی چھوڑ دیا ماموں کو بھی چھوڑ دیا نانی اماں کو چھوڑ دیا حتی کہ اپنا حصہ جو وراثت میں تھا وہ بھی مع��ف کر ڈالا امی جی اتنی قربانیاں تو ان کی مائیں بھی نہیں دیتی جن کے بچے مکمل پیدا ہوتے ہیں امی جی سنیں آپ کا نام قائم رہے گا میں آپ کے نام کو آگے بڑھاؤں گا امی جی اب فقط ہجڑے نہیں بلکہ مکمل لوگ بھی مجھ سے دین سیکھنے آتے ہیں میں انکو بتاتا ہوں کہ ترازو میں اخلاق اور دین کو کیسے تولنا ہے کب کہاں کیسے بولنا ہے!
امی جی آپ یاد آرہی ہے آج میری سالگرہ ہے لیکن آپ نہیں ہیں(شعیب اب رو رہا تھا دبی دبی آواز میں اور پھر اس نے سورہ رحمن کی تلاوت کی اپنی خوبصورت ترین آواز میں درد کے ساتھ آنسوؤں کے ساتھ)
دیکھ تیرے لیے قورمہ بنا کر لایا ہوں ( یحییٰ آہستہ آستہ قدم اٹھا کر آیا تھا ) چل کھا اور سالگرہ مبارک ہو حافظ شعیب!
یحییٰ بھائی کتنا مشکل تھا نا یہ سفر؟
ہاں بہت مشکل تھا لیکن تو جیت گیا ہے سرخرو ہوا ہے اب تیرے سے زیادہ اور کوئی مکمل نہیں ہے !
اب میں یہ کہہ سکتا ہوں نا کہ میں ایسا خواجہ سرا ہوں جو مکمل ہے؟
ہاں !
الحمداللہ !
عباس
@AbbasKhan251 شاہکار♥️
خوبصورت اختتام ۔
ایک ماں کی قربانیوں صبر اور خدا کی ذات پر کامل یقین نے اسکی اولاد کو بہترین مقام دیا ۔
مزید یہ کہ مشکلات جتنی بھی ہوں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
اور سب سے خوبصورت پہلو معاشرے کی نظر میں جو نا مکملیت تھی اس کی اس قدر حسین تکمیل
کمال کمال ♥️👌
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(اٹھارہواں حصہ )
ایک سچ جس پر اکثر کم ہی لوگ غور و فکر کرتے ہیں اور اگر اس پر غور کر لیا جائے تو انسان حقیقتاً افراتفری فتور اور بےراہ روی سے محفوظ رہے وہ سچ جس کا اندازہ ہاجرہ کو شعیب کی پیدائش پر ہ��ا تھا کہ اسکو دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا ہے اور اس کے بعد اس نے اپنے مقصد کے علاوہ اور کسی چیز پر غور نہیں کیا اور جب مقصد پورا ہوگیا تو اسکو واپس اللہ نے اپنے پاس بُلا لیا !
اسی طرح ہر انسان کا دنیا میں بھیجا جانا کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہوتا ہے آپکو اپنا مقصد تلاش کر کے اس پر کام کرنا ہے جو مقصد تلاش نہیں کر پاتے وہ دوسروں کے مقاصد میں کٹھ پتلی بن کر رہ جاتے ہیں جیسے شعیب کا جو مقصد تھا وہ اسکو معلوم تھا وہ کٹھ پتلی نہیں بنا اس کے برعکس باقی شعیب کی جنس والے اپنے مقصد سے بےخبر انسانوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں !
خود کو کبھی کسی کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دیں حق پر رہیں خاموش رہیں اور اپنے مقصد پر کام کریں کیونکہ خدا روز قیامت یہ بھی پوچھے گا !
____
شعیب سے مل سکتا ہوں (دروازے پر ایک چالیس سال کا ہجڑا لال سوٹ میں لال سرخی لگائے کھڑا تھا )
ابھی وہ گھر پر نہیں ہے (مسرت نے بےدلی سے جواب دیا اور وہ ہجرا وہاں ہی دروازے کے پاس خاموشی سے بیٹھ کر شعیب کا انتظار کرنے لگا ، ہاجرہ کو مرے ہوئے دو مہینے ہوچکے تھے شعیب کالج جانا شروع ہوچکا تھا اس نے اپنی رفتار نہیں روکی تھی کیونکہ اس نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا اپنی امی کو خوشی دینی تھی شعیب دو بجے جب گھر کی طرف آیا تو اس ہجڑے کو موجود پایا )
تم شعیب ہو ؟
جی میں شعیب ہوں !
میرا نام وقاص ہے اکثر لوگ مجھے سدرہ بھی کہتے ہیں جس کو جو چاہیے ہوتا ہے وہ اس کے مطابق میرا نام لیتا ہے (اس ہجڑے کی آواز میں موجود ادھورا پن لہروں کی طرح رو رہا تھا )
میں وقاص کہوں گا آپکو ، چائے پئیں گے میں چائے بہت اچھی بناتا ہوں !
تیرے گھر والوں کو مسئلہ ہوجائے گا شعیب !
نہیں ہوگا انتظار کریں میں چائے بنا کر لاتا ہوں (اس کے بعد شعیب فوراً گھر میں گیا اور چائے بنانے لگا )
کون ہے یہ ؟(مسرت نے سوال کیا )
میرا مہمان ہے !
ایسے مہمان کون لاتا ہے شعیب (مسرت کی آواز میں سختی تھی)
مہمان مہمان ہوتا ہے پھر چاہے وہ جانور ہی کیوں نہ ہوں یہ تو پھر انسان ہے (شعیب نے اس کے بعد مسرت کی کسی بات کا جواب نہیں دیا اور چائے بنا کر وقاص کے پاس لے گیا )
سن شعیب تیرے سے ایک کام ہے ؟
جی بولیں !
مجھے قرآن پڑھنا نہیں آتا ہے کبھی کسی نے قرآن کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دیا بس گھنگھرو پہن کر پوری زندگی ناچ ناچ کر تالیاں بجا بجا کر اس نامکملیت کے ساتھ گزار دی اب دکھ ہے کہ کتنا خبیث ہوں میں کہ قرآن بھی نہیں پڑھا میں نے تجھے قرآن کی تلاوت کرتے سنا ہے سن شعیب کیا تُو مجھے قرآن پڑھا دے گا (وقاص کی آنکھیں نم تھیں اور ایک امید تھی )
ہاں پڑھا دونگا !
اگر میں اپنے ساتھ اور ہجڑے لاؤں تو کیا سب کو قرآن پڑھائے گا ؟
ہاں !
تیرے یحییٰ بھائی سے ملاقات ہوسکتی ہے جس نے تجھے قرآن پڑھایا ہے ؟
ہاں ہوسکتی ہے (اس کے بعد شعیب اسکو یحییٰ کے گھر لے گیا اور یحییٰ دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ شعیب کی زندگی اب نئی کروٹ لینے والی ہے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی )
یحییٰ بھائی یہ وقاص ہے آپ سے ملنا چاہتے تھے میں انکو آپ کے پاس لے آیا !
وقاص قرآن پڑھنا چاہتے ہو ؟
جی !
قرآن پڑھ کر عمل بھی کرنا ہوگا !
جی !
سب سے پہلے یہ سجنا سنورنا چھوڑنا ہوگا !
جی !
اس کے بعد تنگی آئے گی شاید کھانے کو بھی کچھ نہ ملے بھوکے رہ پاؤ گے ؟
جی !
کچھ پوچھنا ہے وقاص ؟
کیا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے گا مجھے بس شعیب کی ماں جیسی ماں نہیں ملی اگر میری ماں بھی ایسی ہوتی تو میں کبھی نہ ناچتا !
سن تجھے شعیب ملا ہے یہ تجھے ہر شے کو پورا پورا کر کے بتائے گا یہ ناپ تول میں کمی نہیں کرے گا !
آپ ہمارا دکھ کیسے سمجھتے ہو (وقاص نے یحییٰ سے سوال کیا )
میرے دوست ابراہیم نے مجھے محسوس کرنا سیکھایا ہے اس نے بتایا ہے کہ ہر حال میں اچھا رہنا ہے !
میرے ساتھ آٹھ اور ہجڑے ہیں ہم سب اپنا اپنا کام چھوڑ کر قرآن پڑھنا چاہتے ہیں اور تلاش میں ہیں کہ کوئی عزت والا کام مل جائے !
ضرور ملے گا !
(شعیب وہاں ہی دونوں کو سن رہا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا )
سن شعیب گلی کے کونے ��یں ایک کمرے جتنا گھر ہے وہ خالی پڑا ہے اسکو صاف کر اور اسکو اپنے لوگوں کا مدرسہ بنا !
یحییٰ بھائی آپکو کیسے معلوم پڑا کہ میں جگہ کے بارے فکر مند ہو رہا ہوں !
کیونکہ میں تیرا استاد ہوں اور دوست ہوں !
(شعیب نے وہ کمرے جتنا گھر اکیلے پوری رات لگا کر صاف کر لیا تھا اب وہ اس کو ہجڑوں کے مدرسے میں بدلنے والا تھا وہ شعیب جو ہاجرہ کا شجر تھا )
عباس
@AbbasKhan251 آغاز میں تخلیق کے مقصد کو کمال انداز میں بیان کیا👌
حقیقت ہے کہ جب انسان اپنے مقصد حیات کو پہچان لیتا ہے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لئے بھی امید کی کرن بن جاتا ہے۔
بالکل ویسے جیسے شعیب اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لئے سائبان بن گیا ۔
بہترین 👌
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(سترہواں حصہ )
شعیب نے اپنی سترہ سال کی زندگی کا نچوڑ ایک تقریر میں بیان کر دیا تھا اب وہ یحییٰ کے پاس سر کو جھکائے بیٹھا تھا وہ رو رہا تھا یحییٰ کی آنکھیں لال تھیں اس مقام تک پہنچنے کیلئے یحییٰ اور ہاجرہ نے دن رات ایک کر دئیے تھے ابراہیم لیٹ پہنچا تھا وہ اب شعیب کو گلے لگا کر حوصلہ دے رہا تھا مقابلہ ختم ہونے کو تھا نتائج کا اعلان ہو رہا تھا اور پہلا انعام شعیب کو ملا اسکی قابلیت اور اسکی ذہانت پر وہ ذہانت جو اس وقت موجود حال میں کسی اور بچے کے پاس نہیں تھی ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی بہت سوں نے شعیب کیلئے اسکالرشپ کا اعلان کردیا اب ہر کالج والا یہ چاہ رہا تھا کہ شعیب ان کے کالج میں پڑھے کیونکہ شعیب جہاں بھی جائے گا وہاں کے وقار میں اضافہ کرے گا وہ ہی شعیب جو آٹھ سال کی عمر میں اسکول جانے کو ترستا وہ ہی شعیب جس کی ماں کے منہ پر کہا گیا کہ آپ کا بچہ اسکول پڑھنے کے لائق نہیں ہے آخر کار شعیب کا رونا بنتا تھا اور شعیب اب سسک سسک کر رو رہا تھا ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہونا بنتا تھا معاشرے کے بدلاؤ میں یہ پہلا قدم تھااور یحییٰ اپنی سعی میں کامیاب ہوا تھا !
_____
امی ؟(شعیب نے دروازے سے ��اخل ہوتے ہی ہاجرہ کو آواز دی وہ خوشی خوشی امی کو آواز دے رہا تھا )
امی کہاں ہیں آپ ؟مامی امی کہاں ہیں نانی اماں امی کہاں ہیں (اب شعیب پورے گھر میں اپنی امی کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن وہ کہیں نہیں تھیں پھر جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو امی چادر اوڑھ کر سو رہی تھیں )
امی کب سے آپکو آواز دے رہا ہوں دیکھیں میں جیت کر آیا ہوں (شعیب ہاجرہ کے سرہانے بیٹھ چکا تھا ہاجرہ بخار سے تپ رہی تھیِ ) امی آپکو بخار ہو رہا ہے (شعیب نے پریشانی سے کہا اور اپنی ٹرافی ہاجرہ کو پکڑا دی اور خود دوا کا انتظام کرنے لگا گھر کے باقی لوگوں کو ہاجرہ کے بیمار ہونے سے خاص فرق نہیں پڑا تھا )
امی آپ ٹھیک ہوجائیں گی میں ہوں نا (مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور شعیب ہاجرہ کے سر پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہا تھا )
سن شعیب کبھی کسی سے مت ڈرنا ہمیشہ اپنی ماں کی طرح بہادر یحییٰ کی طرح سمجھدار اور ابراہیم کی طرح عاجزی کے ساتھ رہنا !
امی آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں (شعیب کے دل میں ایک ڈر پیدا ہوا )
سن شعیب سورہ یاسین پڑھ (ہاجرہ نے مسکرا کر کہا اور شعیب سمجھ گیا لیکن وہ حوصلہ مند رہا اور اس نے سورہ یاسین پڑھنا شروع کی وہ بلند آواز میں اب تلاوت کر رہا تھا اور ہر آیت کے ساتھ اسکی آواز ب��اری ہوتی جا رہی تھی آواز میں مکمل نمی پیدا ہوچکی تھی اس نے ہاجرہ کے ہاتھ پکڑ کر اپنے دل سے لگائے ہوئے تھے اور پھر آخری آیت پر ہاجرہ کی روح پرواز کر گئی وہ ہاجرہ جس نے پوری زندگی ایسے گزاری جیسے وہ صفاء مروہ پر چکر کاٹ رہی ہو وہ ہاجرہ جو اُنچاس سال کی عمر میں آنکھیں بند کر کے سکون کی نیند سو گئی اب بس ہاجرہ کی ایک نشانی بچی تھی شعیب جو اب رو رہا تھا وہ بِلک بِلک کر رو رہا تھا اسکا ضبط ٹوٹ چکا تھا اس کی چھت کرچکی تھی اس کی ماں مر چکی تھی اسکی عظیم ماں جس نے ایک وقت آرام نہیں کیا تھا اب وہ آرام سے سو چکی تھی سب کمرے میں آچکے تھے مسرت اماں ابا بھائی سب رو رہے تھے لیکن ہاجرہ کو فقط شعیب کے آنکھ سے نکلتے آنسوؤں سے فرق پڑنا تھا اب کوئی معافی مانگے یا تعریف کرے اب بہت دیر ہوچکی تھی مردہ جسم کے ماتھے پر معافی کا بوسہ فقط خود غرضی ہے ایسی معافی سے نفرت بہتر ہے ہاجرہ کے کمرے میں ایک ساتھ بہت سے احساسات موجود تھے )
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب شعیب نے یحییٰ بھائ کو کال کی "یحییٰ بھائی امی اس فانی۔ دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں " شعیب بس اتنا بول پایا اور پھر یحییٰ اگلے پندرہ منٹ میں پورے گھر کے ساتھ شعیب کے پاس موجود تھا گھر کے باہر ٹینٹ لگ چکا تھا رشتے داروں میں خرچہ بانٹنے کی بحث چل رہی تھی کہ کفن کون دے گا قبر کے پیسے کون دے گا آنے والے لوگوں کو کھانا کون کھلائے گا
امی نے اپنا کفن خرید کر رکھا ہوا تھا وہ اپنی قبر اور باقی سب کے خرچے کے انتظام کر کے گئی ہیں انہوں نے کہا تھا کہ میں کسی مرد کسی رشتے دار سے کچھ نہ لوں مہربانی کر کے آپ لوگ ان انتظامات سے دور رہیں میں سب کر لوں گا (شعیب سب کے درمیان موجود باوقار انداز میں بول رہا تھا شعیب کے ساتھ یحییٰ اور ابراہیم نے باقی سب انتظام دیکھے تھے اور فجر میں ہاجرہ کو دفنا دیا گیا وہ ہاجرہ جو نئی سوچ کو پیدا کر کے خود مر گئی تھی وہ ہاجرہ جو اپنے ماں ہونے کا اپنی زندگی کا حق ادا کر گئی تھی )
سب دفن کر کے جا چکے تھے ابراہیم اور یحییٰ باقی کے انتظام دیکھنے گئے تھے شعیب قبر پر بیٹھا تھا )
امی اب مجھے کون قورمہ بنا کر دے گا امی اب مجھے ماں کا پیار کہاں سے ملے گا امی مجھے اپنے ساتھ لے جاتی آپ !
عباس
@AbbasKhan251 ایک با وقار ماں جس نے ساری زندگی اولاد کی خاطر مشکلات میں گزاری اور جاتے ہوئے بھی خود داری کی عظیم مثال قائم کر گئی ۔
شعیب اپنے واحد سہارے سے محروم ہو گیا 💔
دلسوز 💔
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(سولہواں حصہ )
السلام و علیکم تمام لوگوں کو میرا نام شعیب ہے اور میری امی کا نام ہاجرہ ہے میرے ابو کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں انکا نام اپنے نام کے ساتھ لکھوں انکو اس بات سے ذلت محسوس ہوتی ہے کہ انکی ایک اولاد نامکمل پیدا ہوئی ہے ، میرے استاد یحییٰ بھائی ہیں یہ مجھے تب سے پڑھا رہے ہیں جب میں آٹھ سال کا تھا آج میں سترہ سال کاہوں مجھے سارا علم ان کے وسیلے سے ملا ہے !
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے !
آج کا میرا ٹاپک یہ ہے کہ میں آپ سب کو یہ ثابت کر کے دِکھاؤں گا کہ خدا آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبت مجھ سے کرتا ہے !
ایسا نہیں ہے کہ میں اپنی تعریف کرونگا میں بس ایک خاکہ دوں گا کہ خدا کو کیسے پانا ہے !
اللہ نے جہاں جہاں اپنے پسندیدہ لوگوں کا زکر کیا ہے تو وہاں ہمیشہ ایسے لوگوں کے زکر کے بعد خدا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے میں کچھ آیات کا مفہوم ایک ساتھ بیان کرتا ہوں جیسے خدا نے کہا کہ اللہ کے پیارے لوگ وہ ہیں جن میں عاجزی ہوتی ہے جو جھک کر چلتے ہیں جو جاہل لوگوں سے سلامتی والی گفتگو کرتے ہیں راتوں کو خدا کو یاد کرتے ہیں بخل اور اسراف سے پرہیز کرتے ہیں اللہ کو یکتا مانتے ہیں زنا نہیں کرتے ہیں اگر کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرتے ہیں جھوٹی گواہی نہیں دیتے ہیں بےمقصد باتوں پر توجہ نہیں دیتے ہیں اللہ کی آیات پر اندھے بہرے نہیں بنتے بلکہ غور کرتے ہیں اور اپنے اہل و عیال کی نیکی کی دعا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا انکو متقیوں کا امام بنائے !
میں نے یہ مختصر خاکہ سورہ الفرقان کا پیش کیا جس میں خدا نے بڑی خوبصورتی سے یہ بتایا کہ رحمان کے بندے کون ہیں جس میں اللہ نے حقوق العباد اور حقوق اللہ کو جملہ بیان کیا ہے ہاں یہ مشکل ہے کہ ایک ساتھ ہم سب سیکھ نہیں کرسکتے لیکن ایک ایک کر کے خدا کے پسندیدہ کاموں کو اپنا کر اس کے قریب ہو سکتے ہیں اور مجھے یعنی شعیب کو باقاعدہ اس چیز کی مشق کروائی ہے یحییٰ بھائی نے مجھے ان آیات پر عمل کرنا سیکھایا اور جب مجھے کھرا پایا تو کہا کہ شعیب تم اصل ہو اور اصل خدا کے محبوب ہوتے ہیں میں نے پوچھا وہ کیسے تو یحییٰ بھائی نے کہا کہ ان آیات کے آگے ہی خدا کہتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر کے بدلے بلند درجات دیئے جائیں گے ، یعنی خدا خود جانتا ہے کہ اس معاشرے میں خدا کے کہنے پر چلنا بڑا صبر کا کام ہے ہر طرف سے پتھراؤ ہوتا ہے اسی وجہ سے خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے امی کو میں نے ہمیشہ یہ کہتے سنا کہ شعیب صبر کر کہ خدا تجھ سے محبت کرتا ہے اسکی محبت تیرے لیے کافی ہے !
ہاں میں جانتا ہوں میں ہجڑا ہوں اور یہ کسی گناہ کی سزا نہیں ہے اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ کسی گناہ کی سزا ہے تو مجھے قرآن اور حدیث سے ثابت کر کے دکھائیں میں یہاں آج اپنی امی کا وقار بحال کرنے آیا ہوں وہ وقار جو میری پیدائش پر کہیں کھو گیا تھا وہ وقار جس کو امی نے فقط اس لیے چپ کروا دیا کہ انکی اولاد کیلئے کوئی مشکل نہ ہو میں اپنی ماں کے ہاں پندرہ سال بعد پیدا ہوا میری ماں کی پندرہ سال کی دعاؤں کا نتیجہ میں ہوں اور سب کہہ جاتے ہیں کہ انکو سزا ملی ہے بھلا کبھی دعا مانگنے پر سزا ملتی ہے میرے پاس بس ایک استاد ہے یحییٰ بھائی ! یحییٰ بھائی نے میری جگہ اپنے ساتھ بنائی مجھے اپنے پاس بٹھایا فقط اس لیے کہ کوئی میرے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا ہی نہیں چاہتا تھا انہوں نے مجھے احساس کمتری کی جگہ برابری کا احساس دیا اب ایک طرف دنیا ہے دوسری طرف میرا خدا ہے اللہ نے مجھ جیسوں کو کعبہ کی صفائی پر معمور کر دیا اب بتاؤ جس کے گھر کی صفائی پر ہجڑے ہوں کیا وہ ہجڑے خدا کے لاڈلے نہ ہونگے !
میری مامی کہتی ہیں کہ میں شادی نہیں کرسکتا ہوں اور میں فقط مسکرا دیتا ہوں کہ خدا نے میرے لیے کتنی آسانی کی ہے کہ اس نے مجھے دنیا میں پورے کا پورا فقط اسکا بنا کر بھیجا ہے بتاؤ کیا میں خدا کا سب سے زیادہ محبوب نہیں ہوں ؟
میں نہیں جانتا آپ سب مجھے قبول کرتے ہیں یا نہیں آگے میری زندگی میں میرے ساتھ کیا ہوگا لیکن خدا نے مجھے میری پیدائش سے قبول کیا ہوا ہے اب فیصلہ آپ لوگوں کا ہے کہ آپ خدا کی پسند یعنی مجھ کو پسند کرتے ہو یا نہیں !
میں جانتا ہوں خوشیوں پر تالیاں بجانا آج کے معاشرے میں ضروری ہے آپ لوگ تالیاں خود بجا لیا کریں اور مجھ جیسوں کو خدارا اپنے لطف کا ذریعہ نہ بنائیں نہ ہم جیسے کسی قاری صاحب کی تسکین کیلئے بنے ہیں اور نہ شادی میں آئے نام نہاد مرد حضرات کو خوشی فراہم کرنے ک��لئے !
پہلا قدم اٹھانا پڑے گا تاکہ ہم سب رحمان کے بندے بن سکیں !
(شعیب کی تقریر ختم ہوچکی تھی )
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(چودھواں حصہ )
یہ کون ہے ؟(شعیب کو اپنے لاشعور میں ٹکراتی ایک نسوانی آواز سنائی دی وہ بےہوشی کے عالم میں رسیوں سے بندھا ہوا تھا)
میں اسکی زندگی بدلنے والا ہوں اسکو خوشیاں دینے والا ہوں !
جو آج صبح تم بتا رہے تھے کیا وہ سچ تھا یا پرینک ؟
او یااار وہ سچ تھا !
تو کیا وہاں بھی زندگی بدل رہی تھی خوشیاں مل رہی تھیں !
او پلیز اب فضول سوال مت کرو اور میری مدد کرو تاکہ ہم اس ہجڑے کو اس کا اصل مقام دیکھا سکیں اور بتائیں کہ زندگی کو کیسے انجوائے کرتے ہیں (اب وہ اجنبی لڑکا ساتھ موجود لڑکی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے حصار میں لے چکا تھا )
لیکن تم زبردستی کچھ نہیں کرسکتے ہو !
میں تمہیں یہ ہی تو سمجھا رہا ہوں کہ میں کچھ بھی کرسکتا ہوں !
یہ ۔۔۔
ششش چپ تم اسکی رکھوالی کرو میں باقی سب انتظام دیکھ کر آتا ہوں اور پلیز لائف کو انجوائے کرنا سیکھو آخر کار تم میری بندی ہو تمہیں اتنا ڈرپوک نہیں ہونا چاہیے !
(وہ لڑکا چلا گیا تھا اب وہاں شعیب موجود تھا اور ساتھ وہ لڑکی جو شعیب کا جائزہ لے رہی تھی )
سنو ہوش میں آؤ اپنا نام بتاؤ کہاں سے آئے ہو (وہ لڑکی رسیوں سے بندھے شعیب کو جھنجھوڑ رہی تھی ) خدا کا واسطہ ہے کچھ تو بولو تاکہ تمہیں یہاں سے نکال سکوں (اب اس لڑکی کے باقاعدہ طور پر ہاتھ کانپ رہے تھے )
امی ۔۔۔ یحییٰ بھائی ۔۔۔امی ۔۔۔ امی ۔۔۔۔ یحییٰ بھائی (شعیب دبی دبی آواز میں اب اپنی امی اور یحییٰ کو آواز دے رہا تھا ، شعیب کے ہاتھ میں ایک بینڈ تھا جس پر ایک نمبر لکھا تھا اور جیسے ہی لڑکی کی نظر اس نمبر پر پڑی اس نے فوراً سے بھی پہلے نمبر پر کال کی )
____
کیا میرا ش��یب ملے گا یا نہیں (ہاجرہ رو رو کر نڈھال ہوچکی تھی مریم اسکو تسلی دے رہی تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے جب یحییٰ کے نمبر پر کال آئی ایک وقت کیلئے یحییٰ سکتے میں چلا گیا ابراہیم نے کال سنی اور پھر دونوں برق رفتاری سے بھاگے تھے جب یحییٰ اور ابراہیم مطلوبہ جگہ پر پہنچے تو ایک کونے پر وہ لڑکی بیٹھی تھی اور دوسرے کونے پر شعیب بےہوشی کے عالم میں پڑا تھا یحییٰ نے ایک نظر لڑکی کو دیکھا اور پھر شعیب کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا تھا ۔
رات بہت ہے گھر جاؤ (ابراہیم نے جلدی میں لڑکی کو بولا )
اچھا !
تمہاری جان کو خطرہ ہوسکتا ہے گھر جاؤ (اب کی بار یحییٰ بولا )
اس بچے کا نام کیا ہے ؟
شعیب !
خدا ہمیشہ اسکی حفاظت کرے ہر برائی سے !
خدا تمہیں ہمت اور استقامت دے مضبوط رہو لڑکی (یحییٰ نے اسکو دعا دی اور اس کے بعد وہ دونوں وہاں سگ شعیب کو لے کر چلے گئے تھے )
___
ابھی بےہوش ہے کچھ دیر میں ہوش آجائے گا !
اسکو کیا ہوا ہے (ہاجرہ نے روتے ہوئے کہا ) یہ کیوں آنکھیں نہیں کھول رہا یہ کہاں تھا اماں دیکھیں نا میرا شعیب آنکھیں نہیں کھول رہا ہے شعیب اٹھ دیکھ تیری امی پریشان ہیں شعیب اٹھ جا دیکھ ایسے مت سو تیری امی بڑا تنہا محسوس کر رہی ہے ( ہاجرہ اب پیار سے شعیب کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی ��ھی اسکا ماتھا چوم رہی تھی )
باجی ابراہیم نے کہا ہے کچھ دیر میں شعیب ہوش میں آجائے گا اسکو بےہوشی کا انجیکشن لگایا ہے ( مریم ہاجرہ کو تسلیاں دے رہی تھی جب کہ ہاجرہ کے گھر والے ہمیشہ کی طرح سفاکیت سے تماشہ دیکھ رہے تھے )
مریم سن یہ سب اس لیے ہوا کہ شعیب ہجڑا ہے نا دیکھ مریم میں سب کچھ کرلوں تب بھی لوگ میرے شعیب کو تکلیف دیں گے دیکھ مریم اس شعیب نے آج تک کسی سے سختی سے بات تک نہیں کی ہے دیکھ مریم میرا شعیب کیسے بےجان پڑا ہے (ہاجرہ کا خوف سچ ہوا تھا وہ جذباتی تھی وہ شعیب کو بےہوشی کی حالت میں بھی دیکھ نہیں پا رہی تھی وہ تڑپ رہی تھی اسکا دل خون برسا رہا تھا وہ بےقابو تھی آخر کار وہ ماں تھی اور ماں بھی ایک خواجہ سرا کی جس کے خاطر اس نے خود کو مٹی کر ڈالا جس کے خاطر اس نے زمانے کو للکارا تھا بھلا وہ ماں اپنے بچے کو ایسی حالت میں کیسے دیکھ سکتی تھی وہ شعیب جو بہت سی دعاؤں کے حصار میں تھا وہ محفوظ اپنی ماں کے پاس واپس آیا تھا کیونکہ خدا خود بھی شعیب پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتا تھا )
_____
امی ۔۔۔ (شعیب نے دبی دبی آواز میں ہاجرہ کو پکارا اسکو آٹھ گھنٹے بعد ہوش آیا تھا )
ہاں بول شعیب دیکھ تیری ماں ادھر ہی ہے ( شعیب نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے روتی ہوئی ہاجرہ ت��ی )
امی مت روئیں ( شعیب نے ہاجرہ کے آنسو صاف کیے) امی میں ٹھیک ہوں مجھے کچھ بھی نہیں ہوا ہے !
میرا شہزادہ تجھے کچھ ہوجاتا تو میرا کیا بنتا شعیب !
امی مجھے کچھ نہیں ہوگا یقین رکھیں ( شعیب دھیرے دھیرے نڈھال آواز کے ساتھ بول رہا تھا )
امی میں حافظ بن گیا ہوں ( اب وہ ہلکا سا مسکرایا اور ہاجرہ نے ممتا سے اسکا ماتھا چوما یہ خوشی بہت بڑی خوشی تھی )
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(تیرہواں حصہ )
نامردوں کے معاشرہ جہاں بےراہ روی عروج پر ہو وہاں نامکملیت کو اوڑھے ہر انسان خطرے میں ہے !
_____
ظہر کی نماز کے بعد شعیب کی دستار بندی تھی یحییٰ اور ابراہیم نے شعیب کو عمامہ باندھا تھا لوگوں کا ہجوم موجود تھا ایک حافظ ہجڑے کو دیکھنے کیلئے اب شعیب حاظ شعیب بن چکا تھا وہ شعیب جس کو کوئی پہچان نہیں دینا چاہتا تھا اسکو خدا نے پہچان دی کہ وہ خدا کے کلام کا حافظ ب�� گیا !
اب شعیب اکیلا دستار پہنے ہوئے سب کے سامنے موجود سب سے مخاطب تھا
" شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ، السلام و علیکم تمام بچے بوڑھے اور ہم عمر ساتھیوں کو میں آپ سب کا دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ میری دستار بندی پر آئے (شعیب تین منٹ کیلئے کچھ نہ بولا مائک سے صرف اسکی سسکیاں سنائی دے رہی تھیِں) السلام و علیکم میری پیاری امی آج میں جو بھی ہوں اور یہ جو عزت آپ خدا سے میرے لیے لے کر آئی ہیں یہ اس دنیا کی سب سے خوبصورت رحمت ہے امی آپ فقط ایک انسان نہیں ہیں آپ پوری کی پوری ایک سچائی ہیں حلال سوچ والی جس نے مجھے معاشرے کی بےراہ روی کا شکار نہ ہونے دیا مجھے لگتا ہے جب خدا نے کہا کہ ماں کے قدموں کے نیچے ج��ت ہے وہ میری امی کی وجہ سے کہا کیونکہ واقعی میرے لیے میری امی شروع سے میری جنت رہی ہیں ، السلام و علیکم یحییٰ بھائی ابراہیم بھائی ، ابراہیم بھائی آپ کی بدولت مجھے یحییٰ بھائی ملے ہیں آپ ہمیشہ آگ کو ٹھنڈا کرنے کی وجہ بنے ہیں یحییٰ بھائی آپ میرے استاد ہیں آپ نے فقط مجھے قرآن نہیں حفظ کروایا بلکہ آپ نے ہر آیت کی روح مجھ میں شامل کی ، جب میں چھوٹا تھا تو یحییٰ بھائی مجھے اپنے ساتھ والی جگہ دیتے اور کہتے کہ میں تمہارا دوست ہوں انہوں نے کبھی مجھے یہ محسوس کرنے ہی نہیں دیا کہ میں الگ ہوں اور بچے مجھ سے دور رہتے ہیں یحییٰ بھائی خدا آپ سے راضی ہو میرے پاس آج جتنا علم ہے وہ آپ کی بدولت ہے (شعیب ایک ایک لفظ رک رک کر ادا کر رہا تھا اسکی آواز بھاری ہوچکی تھی تمام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اس ہجوم میں ایسے لوگ بھی تھے جو شعیب جیسے ہجڑے تھے جو تالیاں بجانے والے تھے وہ سسک سسک کر رو رہےتھے کہ چاہے جیسے مرضی لیکن آج خدا نے ہجڑوں کو اس سنگ دل معاشرے میں مقام اور رتبہ دیا تھا )
میں حافظ شعیب حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خدا کی آیت میں کوئی کمی نہیں کرونگا میں خدا کے پیغام کو اپنی آخری سانس تک لوگوں میں پہنچاؤں گا میں خود کو خدا کی راہ میں وقف کرنے کا اعلان کرتاہوں کیونکہ میری زندگی کا یہ ہی مقصد ہے اور میں اسی مقصدکے ساتھ جینا چاہتا ہوں کہ یہ مقصد مجھے بکھرنے ��ہیں دیتا افراتفری میں غرق نہیں ہونے دیتا میں شعیب آج سب سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں خدا کی ہدایت کی پیروی کرونگا کیونکہ خدا خود کہتا ہے کہ ہدایت کی پیروی کرنے والے فلاح پا جاتے ہیں اور جو گمراہ ہوں تو اسکا وبال اسی گمراہ پر ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گمراہ لوگوں کو راستہ دِکھاتا رہونگا کیونکہ یہ سیکھ مجھے یحییٰ بھائی سے ملی ہے ، خدا میرے دل کو کشادہ کردے اور میری سوچ کو سرسبز رکھے (شعیب نے پھر قرآن کی آیات کی تلاوت کی اسکی آواز میں سکون تھا ہر کوئی کچھ لمحوں کیلئے بھول گیا کہ وہ دنیا میں موجود ہے شعیب کی تلاوت ایسی تھی جیسے کوئی سیڑھی ہو جو سیدھا خدا کے پاس لے کرجاتی ہو )
_____
شعیب ہاجرہ کے ہاتھ چوم کر رو رہا تھا ہاجرہ کی آنکھیں نم تھیں سب لوگ باری باری آکر مبارک باد دے رہے تھے یحییٰ سارے انتظام دیکھ رہا تھا ایک بار شعیب نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس کے نام پر کوئی تقریب ہو اور آج اسکی وہ خواہش پوری ہو چکی تھی خدا جنس دیکھ کر دعا قبول نہیں کرتا ہے خدا یہ نہیں دیکھتا کہ کون نامکمل ہے کیونکہ خدا نے سب کو مکمل بنایا ہے اور پھر شعیب تو خدا کا لاڈلہ تھا !
تقریب اختتام کو پہنچ چکی تھی لوگ اب اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے ہاجرہ کی نظریں شعیب کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ کہیں بھی نظر ��ہیں آرہا تھا دل کو بیک وقت خوشی اور پریشانی لاحق ہوچکی تھی وہ شعیب کو ایک منٹ کیلئے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھی مغرب کی اذان ہو رہی تھی اب وہاں فقط ہاجرہ یحییٰ ابراہیم اور باقی گھر والے تھے بس شعیب نہیں تھا وہ کب کہاں گیا کوئی نہیں جانتا تھا ایک ڈر جو پندرہ سال سے دل میں قید تھا وہ سچ ہوچکا تھا کہ شعیب کھو گیا تھا
کیا کچھ پتہ چلا میرے شعیب کا ؟
نہیں باجی ہم ڈھونڈ رہیں ہیں پریشان مت ہوں وہ مل جائے گا(یحییٰ نے ہاجرہ کو تسلی دی اور سب شعیب کو ڈھونڈنے پر لگ چکے تھے)
اے رب میرے شعیب کی حفاظت کرنا(ہاجرہ نے آسمان کو دیکھا اور وہ رو پڑی چیخیں مار مار کر وہ ہاجرہ جو ا��نی طلاق ہونے پر بھی مضبوط رہی تھی)
عباس