پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کا اپنے شہید جوان کی میت کو خود کندھا دینا محض ایک فوجی رسم نہیں، یہ قیادت، وفا اور عہدِ شہادت کی وہ تصویر ہے جو قوم کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی
یہ منظر دشمن کے لیے بھی ایک دوٹوک پیغام ہے پاکستان کے دفاع میں بہنے والے خون کا ایک ایک قطرہ ہمارے لیے امانت ہے۔ شہید کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، اور وطن کے خلاف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو اس کی قیمت چکانی ہوگی
یہی وہ قیادت ہے جو اپنے جوانوں کو صرف احکامات نہیں دیتی بلکہ مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جو اپنے سپاہی کے جنازے کو اپنا غم سمجھتی ہے اور شہادت کو محض ایک خبر نہیں بلکہ قومی قرض سمجھتی ہے
ہمارے شہداء ہماری طاقت، ہماری غیرت اور ہماری آزادی کی قیمت ہیں۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں ہونے دیا جائے گا
شہداء کا لہو ہماری پہچان ہے، پاکستان ہماری جان ہے!
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کرنے والے #پنجگور کے رہائشی سجاد نے دہشت گردی کا رستہ ترک کر کے امن کا راستہ اختیار کرلیا۔پنجگور پریس کلب میں آپنے اہل خانہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سجاد نے اعتراف کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کمانڈر مطلب کے لیے ہتھیار رکھتا تھا اور اس کے لیئےسہولتكاری کرتا تھا۔ والدین کے سمجھانے پر اس نے ٹی ٹی پی دہشت گرد مطلب سے کہا کہ اپنا سامان واپس لے جائے، جس کے بعد مطلب نے ہتھیار واپس لے لیے۔ریاستی اداروں کی کارروائی میں مطلب کے مارے جانے کے ایک ہفتے بعد مطلب کے بھائی نے سجاد کو پیغام بھیجا کہ اس کا نام ٹی ٹی پی کے لیے آیا ہے۔ اس کے بعد سے وہ چھپتا پھر رہا تھا اور آج اس نے ہمت کر کے خود کو سرنڈر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سجاد کا کہنا تھا کہ اسے اپنے عمل پر شرمندگی ہے اور وہ تمام اداروں سے معافی کا طلب گار ہے۔ سجاد کا ہتھیار چھوڑ کر امن، قانون اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مؤثر ریاستی اقدامات، مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور عوامی تعاون سے دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پنجگور میں امن کے لیے ایک مثبت قدم ہے بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کا انجام تباہی ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ وفاداری، قانون کی پاسداری اور امن کا راستہ روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
یہ “Leak” نہیں، ایک sloppy اور مشکوک دستاویز ہے جسے @brief_pk نے سرکاری مراسلہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
ذرا اصل تصویر کو غور سے دیکھیں:
📌 File No. میں واضح طور پر 2023 درج ہے، جبکہ Memo کی تاریخ “Islamabad, the 02nd January, 2026” ہے—یعنی تقریباً 3 سال کا غیر واضح gap۔
📌 سب سے حیران کن بات quoted Power Division text میں موجود English mistakes ہیں:
“metntioned”
“electricitygeneration”
“BESSIntegrate”
“hasssignificantly”
“andplanned”
“powerevacuation”
“theview”
“However.provision”
“supply-demandat”
“waterstorage”
“Indiannefarious”
“Divison”
“matte”
یہ run-together اور غلط spellings باقی پورے document کی clean formatting سے بالکل مختلف ہیں۔ کیا کوئی سنجیدہ سرکاری وزارت ایسا official text تیار کرے گی؟
مزید سوالات: stamp box خالی، Zarqa Ghani کے نام کے نیچے کوئی visible wet signature نہیں—اور بعد میں کہا گیا کہ signatures/QR “source protection” کے لیے ہٹا دیے گئے۔
اور سب سے اہم: 29–30 August کو Ministry of Economic Affairs، Power Division اور WAPDA نے 4,500 MW power-generation component ختم ہونے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ Power Division کے مطابق یہ component موجودہ اور future IGCEP میں committed ہے، جبکہ WAPDA نے MW-2 پر civil works June 2027 سے شروع کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
Writing "Fake News" on something doesn't make it fake. We are releasing the document the story is based on after scrubbing it. Does MOE Power Division now deny that this is a real numbered document that was sent to them?
Will the Power Division now retract its "fake" allegation?
This document is fake. Stop dressing it up as a leak.
File No. from 2023. Memo dated 2 January 2026. A three-year hole no real EAD file carries.
The “quoted” Power Division paragraph is stuffed with run-together garbage the rest of the page does not have: metntioned, electricitygene, BESSIntegrate, hasssignificantly, andplanned, powerevacuation, Indiannefarious, Divison, matte. That is not how a ministry types.
Blank stamp box. No wet signature over Zarqa Ghani. Then you claim you “removed signatures and QR for source protection.”
Power Division, EAD and WAPDA all called this false on 29–30 August. The 4,500 MW component is still in IGCEP. Work on MW-2 is still planned for 2027.
Your account: April 2023, United States, US App Store, one username change. You sit outside Pakistan and drop a sloppy memo as if it were official.
Lt Gen Saeed has issued a timely and necessary clarification on the Diamer Bhasha Dam project. WAPDA has clearly stated that the federal government has taken no decision to drop the power generation component. This is a multipurpose national project designed for 8.1 million acre-feet of water storage and 4,500 MW of installed hydropower capacity, with the potential to generate 18.1 billion units of clean energy every year. The power component remains part of the IGCEP and was approved in 2023. WAPDA has reaffirmed its plan to begin civil works on MW-2 by June 2027, followed by the electromechanical packages. Spreading uncertainty about a project of this scale only creates unnecessary doubt. Pakistan needs both water security and reliable indigenous power. Completing Diamer Bhasha as a full multipurpose dam serves the long-term national interest.
@msaeed26198
https://t.co/SNHnOoAaFN has done a story on Diamer Basha Dam Project, claiming its power generation ( PG) part has been dropped from the ongoing construction schedule . It has also been claimed that only Storage Dam will be constructed and PG will be implemented in future , accepting very serious risks . WAPDA as an executing agency assures the people of Pakistan that no such decision has been taken by the federal government .
The Diamer Basha dam project is a multipurpose project.
It has a gross water storage capacity of 8.1 MAF and an installed power generation capacity of 4500 megawatts with potential to produce 18.1bn units of clean & green energy annually .
Diamer Bhasha Dam generation component is a committed project in the IGCEP (Indicative Generation Capacity Expansion Plan).
The PG component was approved at a cost of Rs 1424bn in April 2023 comprising four major components - MW2, Hydromech-2, Electromech-1 & 2.
Wapda is fully committed to start work on the civil work portion MW-2 of the PG component by June 2027 and the EM-1 will follow suit in end Dec 27.
Chief of Defence Forces, Field Marshal Syed Asim Munir Visits Pakistan Ordinance Factory ,Wah.
Field Marshal Syed Asim Munir, COAS & CDF, visited Pakistan Ordnance Factories (POF) in Wah, where he reviewed the facility’s production capabilities, export potential and role in strengthening Pakistan’s defence industrial base.
He was briefed on POF’s ongoing indigenisation, modernisation and corporatisation efforts, including the progress of two new industrial plants expected to begin production by the end of 2026.
The Field Marshal also witnessed tests and trials of locally designed and manufactured arms and ammunition, highlighting Pakistan’s focus on self-reliance, indigenous defence production and technological innovation.
#پنجگور میں 151 مستحق افراد کے لیے ریاست کا ایک اور احسن فلاحی اقدام
پنجگور میں ضلعی انتظامیہ اور کمانڈنٹ پنجگور رائفلز کی زیرِ نگرانی 151 بیواؤں، یتیموں اور معذور افراد میں نوبت لسٹ کے ٹوکنز کی تقسیم کی گئی جس کا مقصد مستحق خاندانوں کو معاشی سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ نوبت لسٹ کی تقسیمِ مستحقِ خاندانوں کو معاشی طور پار خود مختار بنانے کی جانب ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔بلاشبہ ریاست کی اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور مستحق شہریوں کو محض امداد کا محتاج بنانے کے بجائے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرے۔
پنجگور کے عوام کی فلاح، محروم طبقات کی سرپرستی اور روزگار کے ذریعے معاشی خودمختاری کی جانب یہ احسن قدم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی خدمت صرف دعووں کا نام نہیں بلکہ عملی اقدامات کا نام ہے۔ ایسے اقدامات ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتے اور معاشرے کے کمزور طبقے کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
🇵🇰 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اور مضبوط قدم!
واہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF) کا دورہ کیا، جہاں انہیں دفاعی پیداوار، جاری ترقیاتی منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
POF میں مقامی سازی اور صنعتی اپ گریڈیشن کا عمل پوری رفتار سے جاری ہے۔ دو نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب جاری ہے اور رواں سال کے اختتام تک ان کی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے یہ پاکستان کی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط اور خود انحصار بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط اور خود کفیل دفاعی صنعت ناگزیر ہے۔
واہ کی سرزمین پر قائم POF صرف ایک صنعتی ادارہ نہیں، بلکہ پاکستان کی دفاعی خودمختاری، قومی صلاحیت اور خود انحصاری کی علامت ہے۔
🇵🇰 A Powerful Message from Wah!
Field Marshal Syed Asim Munir’s visit to Pakistan Ordnance Factories (POF) Wah reflects Pakistan’s unwavering commitment to defence self-reliance and modern indigenous production.
With two new industrial plants under installation, alongside continued efforts toward localization, advanced technology and increased production capacity, Pakistan’s defence industry is moving forward with determination.
The stronger our indigenous defence industry, the stronger and more secure Pakistan will be. 🇵🇰
This is not merely production it is the building of national strength, self-reliance and strategic confidence.
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔ ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو آگاہ کیا تاکہ فیملی میں کسی کو معلوم ہو۔ ڈاکٹر آئینہ اس دوبارہ وقوعے کو ہونے سے گھبرائی بھی ہوئی تھیں۔ ان کی پشاور والی بہن نے فون بند ہوتے ہی کرنل اسفند کو کال کر دی حالانکہ ڈاکٹر آئینہ نے منع بھی کیا تھا، بہن نے بہنوئی کو بتایا کہ آئینہ بہت گھبرائی ہوئی ہے خدانخواستہ اس کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ کرنل اسفند اس وقت آفس کی طرف جا رہے تھے۔ انہوں نے وہیں سے گاڑی یونیورسٹی کیطرف موڑ لی۔ ڈاکٹر آئینہ نے فون کر کے اپنے شوہر کو نہیں بلایا تھا۔۔!!! کرنل اسفند کے مطابق ان کا ارادہ قطعا کسی کو hurt کرنے کا نہیں تھا وہ صرف یہ سمجھ رہے تھے کہ غالبا صرف ایک شخص جدون خان ہے جو ڈاکٹر آئینہ کے پاس موجود ہے اور انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ردعمل ایک شوہر کا اپنی بیوی کے لئیے مکمل فطری ہے۔ لیکن کرنل اسفند جب اہلیہ کے پاس پہنچے تب دیکھا کہ وہاں تو اچھا خاصا مجمع جمع تھا۔ مجمع نے بھی جب کرنل اسفند کو دیکھا، اور یہ ذہن میں رکھئیے کہ یہ وہ جُھنڈ تھا جو جدون خان نے پلاننگ کے تحت ڈاکٹر آئینہ کیخلاف اکٹھا کر رکھا تھا، سو مجمع نے کرنل اسفند کیخلاف بھی گالیاں نکالنا اور مغلظات بکنا شروع کر دیے۔ Mob mentality پاکستان میں کیسی ہوتی ہے یہ ھم سب اچھے سے جانتے ہیں۔ جُھنڈ میں سے ایک لڑکا خاص طور پر کرنل اسفند کیخلاف زیادہ گالیاں نکال رہا تھا اور کرنل اسفند کو مارنے کیلئے بھی لپکا تھا۔ کرنل اسفند نے اس لڑکے کو غالبا تھپڑ یا سٹک سے مارا جو ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس سے جُھنڈ کو موقع مل گیا اور وہ ڈاکٹر آئینہ پر بھی چھپٹے اور کرنل اسفند پر بھی۔ ایسے موقع پر کرنل اسفند نے self defence میں گولی چلا کر جُھنڈ کو منتشر کرنا چاہا کیونکہ جب آپ اپنی بیوی سمیت مجمع میں پھنس جائیں تو mob mentality کیا کر گزرے کسی کو پتہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
اس وقوعے کے بعد سے جدون خان مفرور ہے عین ممکن ہے اپنے علاقے بنوں فرار ہو گیا ہو۔ جو لڑکے ڈاکٹر آئینہ پر حملہ آور ہوئے ان کیخلاف FIRs ہو چکی ہیں۔
تصویر کا دوسرا اور اصل رخ جو چند سیکنڈ کی ویڈیو میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ EXCLUSIVE اھم ترین حقائ
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا،
تھریڈ ۔۔۔!!!
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی۔ کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا۔ اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتی کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فورا بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کےلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اھم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کئ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!! پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اھم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
(مزید تفصیل ۔۔۔) ⤵️⤵️⤵️
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے گردش کرتی ویڈیو میں صرف ایک رخ دکھایا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب فوجی افسر کی وردی پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس نے اپنی وردی کے تقدس اور سیلف ڈیفینس کے لیے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی، جو ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس واقعے کے اصل محرکات کیا تھے؟ معاملہ کیسے اس نوبت تک پہنچا؟ چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر فوری رائے دینا، ادارے کے خلاف بولنا یا اسے بدنام کرنا سراسر غیر ذمہ داری اور پروپیگنڈا ہے۔
حقائق سامنے آنے تک کسی بھی قسم کی رائے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ ادارے تحقیقات مکمل کر کے اصل صورتحال عوام کے سامنے لائیں گے۔
ایک بات واضح ہے کہ پاک فوج کا قانون بہت سخت ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔ اس لیے ادارے پر مکمل بھروسہ رکھیں اور امید رکھیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں گی اور انصاف ضرور ہوگا۔
دیر میں کور کمانڈر #پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بُخاری کی پولیس افسران و جوانوں سے ملاقات۔کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بُخاری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی بے مثال قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے قیام کے لیے قوم کے محافظوں کی دی جانے والی یہ عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی
کور کمانڈر پشاور کی نڈر قیادت، غیر متزلزل عزم اور پاک فوج و پولیس کے درمیان مضبوط ربط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی قوت پیدا کر رہا ہے۔ اُن کا اپنے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ایک ایسے کمانڈر کی پہچان ہے جو صرف قیادت کا فرض نہیں نبھاتا بلکہ اپنے لوگوں کا حوصلہ بھی بنتا ہے۔کور کمانڈر پشاور کی دیر میں پولیس کےجوانوں کے ساتھ ملاقات اور اظہار یکجہتی امن دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رہے گی۔
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد فائرنگ واقعہ
کچھ طلباء یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، فیس اور کلاسز کے مسائل پر احتجاج کر رہے تھے۔ سٹوڈنٹ افیئرز کی ہیڈ ڈاکٹر آئینہ طلباء سے بات کرنے گئیں تو کچھ غصے میں طلباء نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر (فوجی افسر) کو مدد کے لیے بلایا۔ افسر کے پہنچنے پر طلباء نے ان کے ساتھ بھی بدتمیزی کی، جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
گردش کرتی ویڈیو میں صرف ایک رخ دکھایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب افسر کی وردی پر ہاتھ ڈالا گیا تو انہوں نے وردی کے تقدس اور سیلف ڈیفینس میں پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی۔
چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر فوری رائے دینا، ادارے کو بدنام کرنا یا پروپیگنڈا پھیلانا سراسر غیر ذمہ داری ہے۔ متعلقہ افسر کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پاک فوج کا نظامِ انضباط بہت سخت ہے اور انصاف اس کی پہلی ترجیح ہے۔ مکمل تحقیقات کے بعد جو بھی رپورٹ آئے گی، اس کے مطابق کارروائی ہوگی۔ ادارے پر بھروسہ رکھیں، شفاف تحقیقات ہوں گی اور انصاف ضرور ہوگا۔
سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ
▪️آج صبح سرحد یونیورسٹی کیمپس، اسلام آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
▪️فوج نے آفیسر کو تحویل میں لینے کے بعد اس سلسلے میں آفیسر کے خلاف انکوائری اور تادیبی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
فوج کا ڈسپلین اور تادیبی نظام انصاف اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ تمام قصور واروں کو انکے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Firing Incident at Sarhad University, Islamabad
Several students were protesting over issues related to the Head of Department, fees, and classes.
Dr. Aina, Head of Student Affairs, went to speak with them. Some angry students reportedly misbehaved with her. She then called her husband, a military officer, for assistance.
When the officer arrived, some students also misbehaved with him, following which the unfortunate incident took place.
The circulating video shows only one side of the story. In reality, when hands were laid on the officer’s uniform, he drew his pistol and fired into the air in self-defence to protect the sanctity of his uniform as can be seen in the video itself.
Judging the entire matter from a few seconds of footage, speaking against the institution, or spreading propaganda is highly irresponsible.
The officer concerned has been taken into custody and disciplinary proceedings have been initiated against him.
The Pakistan Army’s foremost priority remains its strict system of discipline and justice. Full and transparent investigations will be conducted, and further action will be taken strictly in accordance with the findings of the inquiry.
Trust the institution. Justice will be served.
Shooting Incident at Sarhad University, Islamabad
This morning an unfortunate incident took place at the Sarhad University campus in Islamabad.
The Army has taken the officer into custody and has launched an inquiry along with disciplinary proceedings against him in connection with the incident.
The Army’s disciplinary system is based on justice and impartiality. All those found responsible will be held accountable for their actions.
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے گردش کرتی ویڈیو میں صرف ایک رخ دکھایا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب فوجی افسر کی وردی پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس نے اپنی وردی کے تقدس اور سیلف ڈیفینس کے لیے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی، جو ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس واقعے کے اصل محرکات کیا تھے؟ معاملہ کیسے اس نوبت تک پہنچا؟ چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر فوری رائے دینا، ادارے کے خلاف بولنا یا اسے بدنام کرنا سراسر غیر ذمہ داری اور پروپیگنڈا ہے۔
حقائق سامنے آنے تک کسی بھی قسم کی رائے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ ادارے تحقیقات مکمل کر کے اصل صورتحال عوام کے سامنے لائیں گے۔
ایک بات واضح ہے کہ پاک فوج کا قانون بہت سخت ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔ اس لیے ادارے پر مکمل بھروسہ رکھیں اور امید رکھیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں گی اور انصاف ضرور ہوگا۔
سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ
▪️آج صبح سرحد یونیورسٹی کیمپس، اسلام آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
▪️فوج نے آفیسر کو تحویل میں لینے کے بعد اس سلسلے میں آفیسر کے خلاف انکوائری اور تادیبی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
فوج کا ڈسپلین اور تادیبی نظام انصاف اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ تمام قصور واروں کو انکے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں، یہ اس قوم کے عزم، نظم و ضبط اور قربانی کی علامت بھی ہے۔ قدرتی آفات ہوں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا مشکل ترین حالات میں قوم کا ساتھ دینا، پاک فوج نے ہر موقع پر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ وطن کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے دی جانے والی یہ قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہیں 🫡🇵🇰⚔️
پاکستان نیوی سمندر کی محافظ، وطن کی ڈھال! 🇵🇰⚓️
بحرِ ہند کی لہروں پر سبز ہلالی پرچم کی سربلندی، دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود ناقابلِ تسخیر ہیں۔
سمندر ہو یا طوفان، پاک بحریہ ہر محاذ پر تیار!
Another Decisive Blow to Terrorists in #Panjgur
Acting on credible intelligence about the presence of terrorists near RD-85 in Panjgur, security forces launched Intelligence-Based Operation as a part of operation Raddul Fitna 3. In the ensuing fierce firefight, four terrorists were eliminated while three brave soldiers sustained injuries while confronting the enemy. This successful operation is yet another powerful demonstration of the exceptional courage, professionalism, operational preparedness and unwavering determination of Pakistan's security forces. Their relentless vigilance and willingness to face danger head-on continue to stand as Pakistan’s strongest shield against terrorism.
No sanctuary, no escape and no mercy for those who wage war against Pakistan. From the mountains of Balochistan to the remotest hideouts, our security forces are relentlessly hunting down the enemies of peace and prosperity of Balochistan 🇵🇰