جريمة بشعة وإبادة جماعية، ارتكبها العدو السعودي بالطيران ظهر يومنا هذا
بحق أسرة مدنية بلغ عدد الضحايا حتى الآن 10 شـهداء و17 جريحاً.
أليسوا مدنيين يا من تدينون قتل المدنيين؟
أليسوا مسلمين يا مسلمين؟
أليسوا ناساً يا من تدافعون عن حقوق الإنسان؟
اتحدى هذا العالم الجبان ان يدين هذه الجريمة التي ارتكبها العدو السعودي في منطقة سحار محافظة صعدة يومنا هذا.. لان هولاء يمنيون ولايمتلكون امولا كما تمتلك السعودية.. لكننا لن نسامح ولن ننسى.
حمران العيون رجال الله
كتائب التدخل السريع في القوات المسلحة اليمنية
في طريقها الى تعز العز والى مدينة مارب
وبأذن إلله وتوفيقه ستسعمون خلال الساعات القادمة اخبار تشفي الصدور
وبعد حسم المعارك في تعز ومارب
سيكون المسير الى عقر دار النظام السعودي #الرياض
شاهد👇🏻وشارك النشر .!
تعز میں سعودی حملوں کی ہولناک تباہی: 11 شہید، 24 زخمی، گھروں، اسکولوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا
یمن کے صوبہ تعز میں سعودی دشمن اور اس سے وابستہ مسلح دستوں کی جانب سے شہری آبادی کے خلاف کیے گئے پے در پے حملوں میں 11 افراد شہید اور 24 زخمی ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں رہائشی مکانات، گنجان آباد محلے، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان حملوں کی سب سے ہولناک صورتِ حال ضلع مقبنہ کے علاقے حمیر الجبل میں سامنے آئی، جہاں سعودی جنگی طیاروں نے شہریوں کے گھروں پر چار فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں نو شہری شہید اور خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔ متعدد متاثرین ملبے تلے دبے رہ گئے، جبکہ دشوار گزار راستوں اور امدادی وسائل کی شدید قلت کے باعث انہیں ملبے سے نکالنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد پہنچانے میں سخت مشکلات پیش آئیں۔ شدید زخمیوں سمیت متعدد متاثرین کو علاج کے لیے پڑوسی صوبہ اِب کے اسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔
ضلع الوازعیہ میں سعودی طیاروں نے المشاولہ کے علاقے میں واقع حنّہ طبی مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں، جبکہ طبی مرکز مکمل طور پر تباہ ہو کر خدمات فراہم کرنے کے قابل نہ رہا۔ یوں ایک ایسا مرکز بھی حملے کی زد میں آگیا جو مقامی شہریوں کو بنیادی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
ضلع صالہ میں 30 سالہ شہری ہشام عبدہ قائد القرینع جمعہ کی شام جولۃ القصر کے رہائشی محلے پر سعودی دشمن کے مسلح دستوں کی جانب سے داغے گئے گولے سے زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ رہائشی علاقوں پر جاری حملوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔
ضلع التعزیہ کے علاقے حذران میں سعودی دشمن سے وابستہ مسلح دستوں نے وادی حنش پر مارٹر گولے برسائے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین شہری زخمی ہوگئے۔ اسی علاقے میں ایک چوتھا شہری اسنائپر کی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ تمام زخمیوں کو ضروری طبی امداد کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
سعودی حملوں کا دائرہ ضلع المسراخ تک بھی پھیل گیا، جہاں المعیانہ اور حمّہ السفلیٰ کے علاقوں پر سعودی دشمن سے وابستہ مسلح دستوں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے پھٹنے سے تین بچے زخمی ہوگئے۔ ان بچوں کی تکلیف نے صوبے میں شہری متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ایک اور دردناک باب کا اضافہ کردیا۔
اسی ضلع میں سعودی جنگی طیاروں نے عبدان کے علاقے پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں سے ایک حملے میں المعتصم اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں پر جاری حملوں کے سلسلے کو مزید واضح کردیا۔
سعودی فضائی حملوں نے ضلع صبر الموادم کے علاقوں الصراری اور الفراوش میں واقع ایک طبی مرکز اور ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا۔ صحت اور تعلیم کی سہولتوں پر ان حملوں نے پہلے سے مشکلات میں گھرے شہریوں کی تکالیف میں مزید اضافہ کردیا اور انہیں بنیادی خدمات سے محروم کر دیا۔
یوں تعز میں سعودی حملوں سے ہونے والی تباہی کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ کہیں گھر اپنے مکینوں کے سروں پر ملبے کا ڈھیر بن گئے، کہیں علاج کے مراکز تباہ ہوگئے، تو کہیں اسکول اور رہائشی محلے حملوں کی زد میں آگئے۔ اس بڑھتی ہوئی جارحیت کے سنگین انسانی نتائج کا سب سے بھاری بوجھ بے گناہ شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
تم إطلاق إنذار من المنصة الوطنية للإنذار المبكر في حالات الطوارئ في مدينة الرياض للتحذير من خطر، اتبع الآتي:
A warning has been issued by the National Early Warning Platform in Riyadh City to alert of a potential danger. Please follow the instructions below:
محمد وناصر وأمنة وعبير، أُصيبوا جراء الضربة الجوية التي نُفذت في اليمن، والتي تسببت في إصابتهم بالسرطان. مأساة تختصر جانبًا من آلاف المآسي التي عاشها ويعيشها الشعب اليمني جراء الحرب.