Major Adnan Aslam, embraced martyrdom while shielding his comrade from terrorist fire. His name will forever live in our hearts, in the flutter of our flag, and in every prayer. Freedom is never free, it is guarded by lions.
#MajAdnanShaheed#MajorAdnanShaheed
راستہ نہیں کھلے گا تو یہ پاکستان کو توڑ دے گا؟ 😳
پاکستان توڑنے کی بات بھی کرنے والے کا منہ توڑ دینا چاہئے۔ پاکستان پر ایسے ہزاروں سہیل آفریدی اور عمران خان قربان۔
اور مذاق یہ ہے کہ یہ لوگ کل تک ہمیں کہہ رہے تھے کہ اقرارالحسن کو یونیفارم والے کے سامنے تمیز سے بات کرنی چاہیے تھی۔
مکمل ویڈیو:
آپ کو آپ کی فیملی کے سامنے سیاسی اختلاف کی وجہ سے کوئی سرکاری افسر تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنائے تو آپ کیا کریں گے؟؟ حیرت ہے کہ پی ٹی آئی، ایف آئی اے کے اس افسر کی بدتہذیبی کا دفاع کر رہی ہے جس کے ہر کارکن، ہر یوٹیوبر اور اُن کی فیملیز کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی پر ہم نے ہمیشہ مذمت کی۔ خان صاحب کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی۔۔۔ کوئی دوسرا ادارہ یونیفارم میں سیاست کرے تو بجا طور پر قابل مذمت لیکن اقرارالحسن کے خلاف یونیفارم میں کوئی کچھ بھی کہے اُس کا دفاع؟؟
🚨یہ کوئی میکیسکو کے کارٹیل کا ڈان نہیں۔ بلکہ رٹائرڈ ایس پی آغا اصغر اور ان کے بیٹے آغا شہیر ہیں جو سرعام اسلحہ لیکر کراچی سمیت پورے سندھ میں دھشتگردی کرتا پھرتا ہے۔ اسلحہ کہ نمائش ہوائی فائرنگ کرنا معمول ہے لیکن ایک ہفتہ پہلے اس نے ایف بی آر کے ملازم شہمیر لاشاری کو گاڑی کا سائیڈ مرر لگنے پر گولیاں مار کر زخمی کردیا۔ جو اب تک اسپتال میں ہے۔ اس کے باوجود کہ وزیراعلی نے نوٹس لیا اور دھوبی وزیر داخلہ نے بھڑکیاں ماریں ��اہم اب تک پولیس اپنے پٹے بھائی کو بچا رہی ہے۔ کوئی گرفتاری نہیں ہو رہی ہے۔ میرا مکمل پروگرام جلدی اپ لوڈ ہوگا جس میں ان کے کارستیانیاں دیکھ کر حیران ہونگیں۔
آج سے 31 سال پہلے، پاکستان میں لاہور کے قریب ایک گاؤں میں، ایک 12 سالہ لڑکا اپنے کزنوں کے ساتھ سائیکل چلاتے ہوئے گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا۔
اس کا نام اقبال مسیح تھا۔
جب وہ صرف چار سال کا تھا، تو اس کے خاندان نے 600 روپے (جو کہ 12 ڈالر سے بھی کم بنتے ہیں) کا قرض اتارنے کے لیے اسے قالین بنانےوالی ایک فیکٹری کے مالک کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ اگلے چھ سالوں تک اسے کھڈی سے زنجیروں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا۔ وہ ہفتے کے ساتوں دن، روزانہ 12 گھنٹے کام کرتا اور اسے صرف چند پیسے ملتے تھے۔ جب اس کے کام کی رفتار سست ہوتی، تو اسے قالین بننے والے کانٹے (فورک) سے مارا جاتا۔ فیکٹری مالکان بچوں کو جان بوجھ کر کم کھانا دیتے تھے تاکہ ان کی انگلیاں چھوٹی رہیں اور وہ قالین سازی کا باریک کام کر سکیں۔
دس ��ال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کا قد صرف چار فٹ تھا، جو اس کی عمر کے اوسط لڑکے سے 12 انچ کم تھا۔
ایک صبح وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ ایک ٹریکٹر کے پیچھے سوار ہو گیا جو جبری مشقت (بونڈڈ لیبر) کے خلاف ایک میٹنگ میں جا رہا تھا۔ وہاں اس نے ایک شخص کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ فیکٹری مالکان جو کچھ کر رہے ہیں وہ پاکستانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ جب اس شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی بات کرنا چاہتا ہے، تو اقبال مائیکروفون کی طرف بڑھا۔
اس کے بعد اس نے کبھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔
اس نے پاکستان بھر کی قالین فیکٹریوں سے 3,000 سے زائد بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کرانے میں مدد کی۔ اس نے پانچ سال کا اسکولی نصاب محض تین سال میں مکمل کیا۔ اس نے سویڈن اور امریکہ میں بین الاقوامی کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ بوسٹن میں بالغوں سے بھرے ایک کمرے میں اس نے کہا کہ وہ وکیل بننا چاہتا ہے تاکہ پاکستان میں غلامی کی زندگی گزارنے والے ہر بچے کو آزاد کرا سک��۔ اس وقت اس کی عمر 12 سال تھی۔ برانڈیز یونیورسٹی (Brandeis University) نے اسے مکمل اسکالرشپ کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ اس کا انتظار کریں گے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان کیوں واپس جانا چاہتا ہے، تو اس نے کہا کہ اس کا مقصد اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔
1995 میں ایسٹر کے اتوار کے دن، جب وہ سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا، اسے پیچھے سے گولی مار دی گئی۔ اسے شاٹ گن کے 120 سے زائد چھرے لگے۔ اس کے کزنوں کو خراش تک نہ آئی؛ نشانہ صرف وہی تھا۔
اس کے جنازے میں 800 افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد کے دنوں میں، لاہور میں 3,000 لوگوں نے مارچ کیا، جن میں سے آدھے بچوں کی عمریں 12 ��ال سے کم تھیں۔
اس کی وفات کے بعد، میساچوسٹس (امریکہ) کے ایک اسکول کے ساتویں جماعت کے طلباء نے—جہاں کبھی اقبال نے خطاب کیا تھا—25,000 ڈالر جمع کیے اور پاکستان میں اس کے نام پر ایک اسکول تعمیر کیا۔ اب 16 اپریل کو "بچوں کی غلامی کے خلاف عالمی دن" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس کے اعزاز میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے "اقبال مسیح ایوارڈ" جاری کیا، جو آج بھی ہرسال دیا جاتا ہے #LabourRights )Thank you @DoctorLemma
In intensive talks at highest level in 47 years, Iran engaged with U.S in good faith to end war.
But when just inches away from "Islamabad MoU", we encountered maximalism, shifting goalposts, and blockade.
Zero lessons earned
Good will begets good will.
Enmity begets enmity.
Historical video:
Zulfikar, the President of Pakistan, tore up a United Nations document when he was told that Pakistan should not possess nuclear weapons.
I didn’t know much about the Pakistani media before today, but it seems there are two camps:
* Those who recite the facts that previously happened in an objective summary
* 99% who seem just eager to praise Pakistan and saying “big announcement coming…” every 20 minutes
The most reliable news out of Pakistan has basically been Al-Jazeera - a sentence I never thought I’d say a decade ago.
We can’t trust Axios or Fox.
WSJ and NYT aren’t giving breaking updates.
The local media has too much government interference apparently.
Tasmin has been more transparent but is government aligned Iranian source so you can’t fully take that at face value.
Truly wild how far the standards globally on journalism have fallen, and I hope it’s something that can be repaired.