Turkey: We don’t believe in cheap theatrics. No offensive pact, no troops for foreign wars just an attempt at dialogue.
Pakistan, meanwhile, seems to be discovering how complicated ‘strategic friendship’ can become when loyalty is expected to come with a battlefield
When diplomacy meets geopolitical expectations for Pakistai regime, Tom & Jerry suddenly makes perfect sense
یہ تحریر دل کو اس لیے بھی بہت بھلی لگی کہ چودہ سو برس بعد بھی اہلِ بیتؑ کی نسبت نہ صرف زندہ ہے بلکہ عزت اور شناخت کے ساتھ قائم ہے۔ شاید تاریخ کا سب سے گہرا سبق یہی ہے کہ وقت کرداروں کو نہیں، کرداروں کی حقیقت کو پرکھتا ہے کچھ نام مٹ کر بھی مٹتے نہیں اور کچھ نام باقی رہ کر بھی اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ شاید قدرت کے اشارے ہمیشہ بلند آواز میں نہیں آتے۔
وتعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر
سورہ آل عمران
@enigmaakh Agreed
Jo inko financial support kerayga uskay khilaf kyun koi action layga, simple si baat hai.
President Maduro ko abduct Kiya US regime ne, with his wife from his own country without any permission.kucg Kiya UN ne siwaye zabani Jama kharch k, no nothing 🤷🏻
Turning private DMs into public content for comments, likes and moral applause is hardly the high ground. There are perfectly adequate tools called block, restrict and ignore. If someone crosses a boundary, set it and move on. Publicly announcing every unwanted DM and naming the offender does not make one more dignified, sometimes it simply turns a boundary issue into an attention-seeking performance.
یہ بات صرف جینڈرز پہ ہی موقوف کیوں ہے یہ بات تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں ہمارے ڈی ایم میں ایسے ایسے جید حضرات جن کے اکاؤنٹ سے ہر وقت ایمان افروز باتیں کوٹ ہوتی ہیں ایسے ایسے شریف النفس جنہوں نے اپنی بیویوں کے علاوہ کسی نامحرم عورت کو دیکھا ہی نہ ہو ان کے ڈی ایم بھی ہیں 2019 سے اب تک ال موسٹ 400 میسجز ہیں جنہوں نے اپنی پسندیدگی اور محبت کا اظہار کبھی پیار اور کبھی دھمکی امیز لہجوں میں کیا لیکن ہم نے کبھی اعلان نہیں کیا ہمیشہ پردہ رکھا رکھیں گے X جیسے بڑے پلیٹ فارم پر ا کر اس قسم کی گھٹیا ٹویٹ کرنا کہ ہم شادی شدہ ہیں ہمیں ڈی ایم نہ کریں غلط ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس قسم کی گھٹیا چالیں اور باتیں خاندانوں میں ہی اچھی لگتی ہیں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر نہیں 🙏
آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے، یہ معاملہ gender کا نہیں، temperament اور boundaries کا ہے۔ DM کوئی moral courtroom نہیں کہ وہاں موصول ہونے والی ہر ناپسندیدہ توجہ کو public evidence بنا کر پیش کیا جائے۔ کچھ لوگ اپنی شرافت کا اعلان کرتے ہیں، کچھ اپنی discretion سے اسے ثابت کرتے ہیں۔ آخرکار کردار اس بات سے کم اور اس بات سے زیادہ پہچانا جاتا ہے کہ انسان کو کیا کچھ معلوم ہونے کے باوجود اسے public کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
If all the UN Secretary-General can do is express concern while the powerful act with impunity, then what exactly is he the Secretary-General of peace or the press release?
Pakistan is one of the world’s longstanding & largest contributors to @UNPeacekeeping.
It was inspiring to meet some of the Pakistani women & men #ServingForPeace with courage & distinction in some of the most world’s most difficult & dangerous environments.
I thank them for their service & sacrifice.
@antonioguterres What exactly are you the Secretary-General of if, when it comes to peace, war, sovereignty and human rights, all you can do is move your lips and issue statements of concern?
Verbal condemnation, expressions of concern and diplomatic sympathy do not constitute action. If the UN can act decisively when sanctions are imposed on Iran, Russia or other states, why does that decisiveness suddenly disappear when the issue involves powerful states or their allies?
The pattern is difficult to ignore: where the UN chooses to act, it finds mechanisms, sanctions and political will. Where it does not wish to act, there is another statement of “deep concern” followed by silence.
And this is not about Pakistan alone. Palestine, Yemen, Venezuela and countless other cases expose the same uncomfortable contradiction: international law cannot be selectively enforceable.
If the Secretary-General is genuinely powerless to do anything beyond issuing statements, then what exactly is the responsibility attached to that office?
Because peacekeeping cannot mean merely moving your mouth while the world burns.
And if the office has been reduced to that, perhaps it is time to step aside rather than repeatedly telling the world how concerned you are.
کفِ لسان اپنی جگہ ایک محتاط اور قابلِ فہم اصول ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کفِ لسان کا مطلب حقائق سے بھی آنکھیں بند کر لینا ہے؟
اگر تاریخ میں کسی واقعے کی حقیقت تک رسائی مشکل ہے تو تحقیق، سوال اور علمی دیانت کو ترک کرنے کے بجائے اپنے علم کی حدود تسلیم کیجیے۔ لیکن یہ کہنا کہ چونکہ ہم فیصلہ نہیں کر سکتے، اس لیے دیکھیں بھی نہیں، تحقیق بھی نہ کریں، اور جو کچھ سامنے آئے اس پر گفتگو بھی نہ کریں یہ کفِ لسان نہیں، کہیں نہ کہیں کفِ نظر بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور بصیرت دی ہے۔ تحقیق کرنا، شواہد کو پرکھنا اور ظلم کو ظلم کہنا لازماً کسی شخصیت کی نیت کا حتمی فیصلہ کرنا نہیں ہوتا۔
اور اگر کفِ لسان واقعی اصول ہے تو پھر یہ اصول ہر تاریخی واقعے پر یکساں ہونا چاہیے صرف وہاں نہیں جہاں کسی مقدس سمجھی جانے والی شخصیت کے بارے میں سوال اٹھتا ہو۔
کربلا ہو، واقعۂ حرّہ ہو، مکہ پر حملہ ہو یا تاریخ کے کوئی اور المناک ابواب ہمیں کم از کم اتنی علمی دیانت تو رکھنی چاہیے کہ جو کچھ ثابت ہے اسے ثابت کہیں، جو متنازع ہے اسے متنازع کہیں، اور جو معلوم نہیں اسے معلوم نہ ہونے کا اعتراف کریں۔
مجھے مسئلہ خاموشی سے نہیں خاموشی کو اصول بنا کر تحقیق کے دروازے بند کر دینے سے ہے کیونکہ تاریخ سے آنکھیں بند کر لینے سے تاریخ بدل نہیں جاتی۔
کفِ لسان اگر عدل ہے تو سب کے لیے عدل ہونا چاہیے، ورنہ یہ کفِ لسان نہیں، کفِ نظر ہے۔
مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں اہل سنت کا عقیدہ کفّ لسان کا ہے یعنی زبان بند رکھنا ہے..
تاریخ اتنا کچھ آلودہ ہے کہ درست بات تک رسائی ناممکنات میں سے...
آج سے 1400 سال پہلے دو صحابہ کا آپس میں کس بات پر نزع پیدا ہوا.. دونوں کی نیت کیا تھی... کون حق پر تھا کون باطل تھا.. یہ سب طے کرنا اور بتانا میری کونسی دینی ذمہ داری ہے.. اس سب سے پہلے بنیادی بات جو میرے اخلاق و کردار سے متعلق ہے وہ یہ کہ میں کس طرح آج ان شخصیات بارے فیصل بن گیا.. یہ اختیار انسان جری ہو کر قبول کرے تو کرے ورنہ معاملہ تو ڈر جانے والا ہے...
اہل سنت میں سے جو لوگ اس میدان میں آئے وہ بھی ہمارے ہاں ایک مخصوص فضا کے زیر اثر ہو کر لکھنے بولنے لگے.... مشاجرات صحابہ پر کف لسان ایک معتدل راستہ ہے..
اسرائیل کے جہاز نہیں گزرتے اب وہاں سے۔
ایلات کی پورٹ یمن پہلے ہی تباہ کربلا ہے
چاہیں تو Google پر چیک کرلیں۔ اسرائیل کو جس قدر ایران اور یمن نے نقصان پہنچایا ہے کسی اور نے کیا ہو تو نام بتائیں۔
ایک مجاہد تو بھیج نہ سکے فلسطینی عوام کی حمایت میں اب آئے ہیں میدان میں مسلمانوں کو مارنے۔ واہ
اور یہ جو فتوے بانٹتے ہیں یہ اپنے لئے بچا کر رکھیں۔
@RoymukhtarRoy کی نہایت پُراثر تحریر جسے سمجھنے کیلئے صرف دماغ نہیں بلکہ انصاف پسند ہونا بھی اہم ہے۔
صفین کے واقعے کو آج کے یمن کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو تاریخ کا ایک بنیادی سبق پھر سامنے آتا ہے: طاقت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنی عسکری قوت ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ اس قوت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے آج ہمیں اپنے خطے کے ایک اور تلخ سوال کا سامنا ہے: ہمارے اپنے جوانوں کو دوسرے مسلم ممالک کے تنازعات اور علاقائی کشمکش میں کس حد تک استعمال کیا جا رہا ہے؟
ہمارے سپاہی کسی دوسری طاقت کی علاقائی شطرنج کے مہرے نہیں ہونے چاہئیں۔ وہ ہمارے اپنے بیٹے ہیں، جن کی جان کسی بھی علاقائی مفاد سے زیادہ قیمتی ہے۔
مولا علیؑ کی نسبت صرف میدانِ جنگ کی شجاعت نہیں، بلکہ اقتدار کے باوجود عدل اور انسانی اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔
جنگ صفین میں باغی گروہ نے پہلے پہنچ کر دریائے فرات پہ قبضہ کر لیا
مقصد، اسلامی لشکر کو پیاسا مارنا تھا
اسلامی لشکر پہنچا تو مولا علی علیہ السلام نےدریا کا قبضہ واپس لینے کا حکم دیا
اسلامی فوج نے ایک ہی حملے میں دریا کا قبضہ واپس لے لیا
باغی گروہ کے سربراہ نے کہا کہ پانی ان کے قبضے میں چلا گیا ، ہمارا کیا بنے گا ؟
اس پر امر بن العاص نے ایک تاریخی جملہ کہا :
ہم ہم ہیں ، علی علی ہے ، وہ کبھی پانی بند نہیں کریں گے
آج یمن کیلئے وہی صورتحال ہے :
آل سعود پورے یمن میں جہاں چاہتے ہیں بمباری کرتے ہیں ، جبکہ یمن حجاز مقدس کو نشانہ نہیں بنا سکتا ، یہ بات ظالم آل سعود کو بھی اچھی طرح معلوم ہے ، اس لئے جنگ کے باوجود لاکھوں عمرہ زائرین حجاز مقدس میں آزادی سے آ جا رہے ہیں
اہل بیت رسول ﷺ کے ماننے والے کبھی ظالم نہیں ہوتے ، ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں
#یمن
What troubles me most is not merely the decades-long military relationship with Saudi Arabia but what it means for the ordinary Pakistani soldier.
DG ISPR’s admission that Pakistani forces have been stationed in Saudi Arabia for decades and have participated in operations related to Yemen should make us pause and ask a difficult question:
Are we sending our young men, our sons, and our soldiers into conflicts shaped by the strategic interests of other states, while calling it fraternity between Muslim countries?
Our soldiers deserve clarity about where, why and under whose interests they are being deployed. Pakistan’s military manpower cannot become a convenient instrument in other countries’ regional power struggles.
And there is an even deeper historical question here. Saudi Arabia’s long-standing promotion of Salafi religious networks across parts of the Muslim world, including Pakistan has been extensively documented.
So perhaps we need to ask not only who protects whom militarily but also who has been shaping whom politically, religiously and strategically and at what cost to ordinary Pakistanis?
ہمارے جوان کسی اور کی علاقائی شطرنج کی بساط پر قربان کیے جانے والے مہرے نہیں ہونے چاہئیں۔
So we have been defending one of the most reactionary regime in the Middle East for decades. And in turn, they have been supporting Salafi Islam in our part of the world.
Is this one of the drivers of regressive politics in the Muslim World?