Deputy Commissioner, Ghotki
We, the people of District Ghotki, demands that May 24 be declared a public holiday across the district to mark the anniversary of the death of Slain Sindhi journalist Nasrullah Gadani.
ياري باشي، دعوتن جي چڪر ۾ ٻيگھيون ڪري سنڌي عوام کي بيوقوف ڪندڙ اديب امر سنڌو جي عورت دشمن پاليسيز تي ڪئين ڳالھائيندا؟
اياز ميلي تي نه وڃڻ جي قرباني گھٽ ۾ گھٽ ڏيڻي پوندن۔
@msak_official@NadirALeghari For the past three days, the برف ڪارخانہ road has remained submerged in water.
Local residents and business owners are extremely distressed and rightfully question why such negligence and injustice are being inflicted upon them? 2/2
It is deeply regrettable that the drainage system of Mirpur Mathelo, the headquarter of Ghotki District, known for it’s rich mineral resources and presence of multinational companies has completely collapsed.
1/2
@msak_official@NadirALeghari
1991 واٹر اکارڈ کہتا ہے کہ ہر صوبے کا پانی میں مساوی حق ہے، مگر حقیقت میں سندھ کے حصے کا پانی چوری ہورہا ہے.
چولستان کینال اسی زیادتی کا تسلسل ہے! کیا سندھ کے پُرامن احتجاج کو نظر انداز کرکے ریاست چاہتی ہے کہ ردِعمل کی نوعیت بدلے؟
#NoMoreCanalsOnIndus
📢 @BBhuttoZardari You have often emphasized the need for young people to take the lead in Pakistan's politics. However, it is disappointing to see that within your own party, there are feudal elements that are undermining this vision. The recent incident involving Haris Jhakrani, son of MNA Aijaz Jhakrani, is a case in point.
Haris Jhakrani was involved in a fatal attack on Abubakar Siddiqui, a member of a respected business family. Despite the severity of the crime, the Sindh government's police force has been protecting Haris Jhakrani. Moreover, Abubakar Siddiqui is now facing threats for pursuing justice, with warnings not to mention Haris Jhakrani's name in the media or face further brutality.
It is unacceptable that your party's elected representatives are involved in such criminal activities and are using their influence to evade accountability. As the chairman of PPP, it is your responsibility to ensure that your party members uphold the law and do not use their power to exploit others.
I urge you to take immediate action against Haris Jhakrani and other feudal elements within your party who are involved in such criminal activities. It is essential to demonstrate that your party is committed to justice and the rule of law, even when it involves taking action against its own members.
#JusticeForAbubakar
وہ جنگلات کی کٹائی کے خلاف بولتا ہے، وہ مزدوروں کے لیے مقررہ ملازمتوں کے لیے بولتا ہے، وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے بولتا ہے، وہ صنعت کاری کے خلاف بولتا ہے، وہ کسانوں کے حقوق کے لیے بولتا ہے... تو اسے ماردو
@HamidMirPAK@VeengasJ@RiazSangi#JusticeforNasrullahGadani
Journalist Nasarullah Gadani from Mirpur Mathelo, Ghotki was attacked again by touts of local feudals.
He was previously attacked too by son of PPP feudal.
We are at Press Club Karachi against this brutality.
@VeengasJ@RiazSangi@HamidMirPAK@BBhuttoZardari@pressfreedom
🧵
Manchar & Mitho Panri
Manchar lake in Sindh, is one of the largest natural lakes in South Asia; now it is toxic due to anti-nature projects like RBOD.
This old man is a fisherman and is making a home of stones & other fisherman saying is, "Mitha Pani Hota Na" 1/n
“ایس پی “ لاش چھوڑ کر بھاگ گیا
تحریر:طحہ عبیدی
ایس پی کلفٹن نیئر الحق نے کروڑوں روپے کی فرمائشی ریکوری کا سیاسی ٹاسک لیا ، 11 مارچ کو درخشاں تھانے میں بھتے کا مقدمہ درج کیا گیا ، ایک مبینہ ملازم گرفتار کیا گیا جسے سی آئی اے کے حوالے کردیا جبکہ اس ملزم کے والد کو گرفتار کرنے کا ٹاسک سی ویو چوکی انچارج ثناء اللہ کے سپرد کیا گیا ، ثناء اللہ بھتے کے مقدمے میں مبینہ ملزم معیز کو گرفتار کرکے تھانے لے آیا ، 14 تاریخ کی دوپہر ایس پی نیئر الحق اپنے ڈرائیور اور گن مین کے ساتھ درخشاں تھانے پہنچا اور سی سی ٹی وی کیمرے بند کرادیئے ، نیئر نامی ایس پی معیز کو تھانے کے باہر لے کر گیا اور ایک کالے رنگ کی گاڑی میں کچھ پرائیویٹ افراد کے سپرد کردیا اور خود اپنی گاڑی میں ویڈیو کال پر باتیں کرنے لگا ، ملزم معیز دو بجے تھانے سے نکلا اور پانچ بجے ایس پی نیئر الحق اور دیگر افراد کے تشدد سے معیز نامی شہری جاں بحق ہوگیا جس سے تین گھنٹوں میں ایک کروڑ روپے مل چکے تھے مگر فرمائش یہ تھی مزید رقم بھی دلوائی جائے ، ایس پی نیئر ملزم کو لے کر جناح ہسپتال پہنچا اور قتل پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کردیا جس کے بعد جناح اسپتال کی انتظامیہ شاہد رسول اور سمیعہ سید نے ناراضی کا اظہار کیا اور ایس پی کو کہا ملزم ہ��اک ہوا ہے تو مجسٹریٹ کو آگاہ کریں تاکہ قانونی کارروائی پوری ہوسکی ، یہ وہ وقت تھا جب ایس پی ایک پرائیویٹ گاڑی کے ساتھ جناح ہسپتال پہنچا تھا ، معاملات کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر نیئر نے لاش گاڑی میں ڈالی اور درخشاں تھانے کے سامنے (جو کہ ایک اسکول ہے ) لاش تھانے کے حوالے کردی ، لاش کی حوالگی نیئر ، عرفان ، دانش اور جعفر نے کی جو کہ ایس پی کے ڈرائیور اور گن مین ہیں ۔ ایس پی نیئر الحق لاش تھانے چھوڑ کر بھاگ گیا تو ایس ایچ او کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا اسی اثناء میں ایس پی روزنامچے کے دو پرچے بھی پھاڑ کر چلا گیا ۔
ایس پی تھانے سے بھاگا تو تھانہ پولیس پریشانی میں آگئی ، ایس ایچ او علی رضا کو اطلاع دی گئی اور پھر لاش کو ایک مرتبہ پھر جناح اسپتال لے جایا گیا جہاں سعید یا رفیق نامی پولیس افسر تھانے کا لیٹر پہنچا تو مجسٹریٹ نہ ہونے پر قانونی کارروائی نہیں کی گئی اور لاش چھیپا سرد خانے منتقل کردی گئی رات گئے مجسٹریٹ درخشاں تھانے پہنچے اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا ، لاش پر تشدد کے نشانات تھے ، جسم کے ��خصوص حصوں کو جلایا گیا تھا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ،ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو گرفتار کرلیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ، ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس نے ایک انکوائری ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے سپرد کی اور دوسری انکوائری ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا کی جانب سے شروع کی گئی ، دونوں انکوائریز میں ایس پی نیئر الحق ذمہ دار نکلا ، گزشتہ روز درخشاں تھانے میں رات چار بجے تک مجسٹریٹ تھانے کے ایس ایچ او ، ہیڈ محرر سمیت دیگر عملے کا بیان قلم بند کرتے رہے جہاں سب نے ایس پی نیئر کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ۔
ایس پی نیئر الحق کو پررونق ایریا ��یں پوسٹنگ لینے کا شوق ہے ، ایس پی نیئر الحق 2016 سے 2018 تک ڈی ایس پی درخشاں رہے ، 2022 کے تین ماہ ڈی ایس پی فریئر رہے جس کے بعد پھر من پسند پوسٹنگ لے اُڑے اور 10-3-2022 سے 15-3-2024 تک ڈی ایس پی درخشاں رہے اور ایس پی ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر من پسند پوسٹنگ لے گئے ۔ایس پی بیئر الحق کے خلاف سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے انکوائری کرائی جس میں یہ موصوف کو عہدے سے ہٹایا گیا ، اس کے بعد ایک اور آئی جی سندھ کلیم امام نے انکوائری کرائی جس کے بعد نیئر کو پھر عہدے سے ہٹایا گیا مگر چمڑے یا چمڑی کی چاہت ایسی تھی کہ وہیں ایس پی بن کر پہنچ گئے ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی نے جیسے وردی میں ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو لاک اپ کیا تھا اسی طرح اصل قاتل کو لاک اپ کریں تو پھر مانیں پولیس اب غیر سیاسی ہوگئی اور میرٹ پر فیصلے کرتی ہے اگر ایسا نہیں کرسکتے تو آج نہیں کل ایس پی کلفٹن کی پوسٹنگ نیئر الحق کی منتظر ہوگی ۔