“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزر��وں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی ��ہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں ا��ر جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پار��ی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
اسی طرح قوم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے صحافیوں، وکیلوں اور سیاستدانوں کو بھی دیکھ رہی ہے کہ کون آئین، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کیساتھ کھڑا ہے اور کون بادشاہ سلامت کے حکم کی پیروی میں انہیں روند رہا ہے۔ جو سیاستدان لیلوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکے ہوئے ہیں قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔”
چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء، کارکنان اور میڈیا سے گفتگو (۵ جون، ۲۰۲۵)
“انسانی معاشرے دو چیزوں پر چلتے ہیں انصاف اور اخلاقی قوت پر۔ جانوروں کا معاشرہ طاقت کی حکمرانی پر چلتا ہے۔ جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہوتا ہے جبکہ انسانوں کے معا��رے میں جب طاقت کے زور پر حکمرانی کی جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے میں تواتر سے مولانا رومی کے قول کا حوالہ دیتا ہوں: “جب اللہ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ کیوں رہے ہو”-
آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جس نے انصاف اور جمہوریت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ اس ملک کے آزاد ججز کو پیچھے کر دیا گیا ہے اور سرکاری ججز کو آگے کر دیا گیا ہے۔ آج پاکستان میں کمزور کے پاس کہیں بھی جانے کا راستہ نہیں ہے۔
ایٹم بم سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات کی گراوٹ قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انتہائی بےشرمی سے اخلاقیات اور جمہوریت کو ت��اہ کر رہے ہیں۔
مجھے زیر کرنے کیلئے جو ناروا سلوک میری اہلیہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں گراوٹ کی اپنی مثال ہے۔ انتقام کے طور پر شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی بیگمات کو بھی کبھی جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں دھکیلا گیا جیسے مجھ سے انتقام لینے کیلئے میری اہلیہ کیساتھ کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کو 14 ماہ سے قید تنہائی میں انتہائی برے حالات میں رکھنے کے پیچھے صرف مجھے سزا دینا مقصود ہے۔ القادر جیسے بے بنیاد کیس میں سزا سنا کے بشریٰ بی بی کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے جس میں ان پر اعانت کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ القادر کیس ٹرائل میں پراسیکیوٹرز نے اعانت کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا-
جنگل کے بادشاہ نے عہدے سے برطرفی کے بعد زلفی بخاری کے ذریعے بشریٰ بی بی کو پیغام پہنچایا کہ “آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں”۔ مگر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہذا میں ملاقات نہیں کرونگی۔ جس کا عاصم منیر یہاں اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کے ذریعے انتقام لے رہا ہے۔ غیر قانونی طور پر تعینات اس کرنل کے نزدیک عدالتی احکامات کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں۔ عاصم منیر اب ذاتیات پر اتر آیا ہے، اسی کی ایماء پر میری اور بشریٰ بی بی کی چار ہفتوں سے شیڈول ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی اور قیدیوں کو میسر دیگر بنیادی انسانی حقوق بھی مکمل معطل ہیں۔
تحریک انصاف واحد وفاقی سیاسی جماعت ہے۔ ہم ملک کو جوڑنے والے ہیں، ہم بحیثیت ملک کی سب سے بڑی وفاقی سیاسی قوت کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے-
اس ملک کو غداری کے الزامات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا- ماضی میں شیخ مجیب اور اکبر بگٹی کو غدار قرار دے کر ملک کا بہت نقصان کیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور ہم سب سیاسی لوگ ہیں، غداری کے لیبل لگانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
پیکا قانون کے ذریعے زبردستی اور اشتہارات کی ذریعے رشوت دے کر میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ ناجائز 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم اسی مقصد کیلیے لائی جارہی ہے کہ “بادشاہ سلامت” کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی جرآت نہ کرے۔ جو بھی بادشاہ کے سامنے جھکے گا اسکے سارے کیسز معاف کر دیے جائیں گے اور جو بھی بادشاہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اسکا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی ہوگی۔ پاکستان میں جو بھی آزاد صحافی تھا بزور جبر یا تو اسے ملک بدری پر مجبور کر دیا گیا، چپ کرا دیا گیا یا اسے اٹھا لیا گیا۔ آزاد صحافیوں کیلئے جیسے زمین تنگ کر دی گئی انکی فیملیز کو جیسے ہراساں کیا گیا ملکی تاریخ میں اسکی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔
بے ضمیر، بے شرم چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ نے بادشاہ سلامت کی بادشاہی کے قیام کیلئے بھرپور سہولت کاری کی۔
مفرور سزایافتہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس سمیت کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دئیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور میرے دیگر پارٹی لیڈرز کا ایک ہی جرم ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔ اگر آج وہ پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا مطلوبہ بیان دے دیں تو آج ہی انہیں ناجائز قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
آج تک قوم کسی ناانصافی کو نہیں بھولی۔ جسٹس منیر کا ناجائز فیصلہ بھی قوم کی یادداشت میں تازہ ہے اور یہ قوم کبھی بھی قاضی فائز عیسیٰ کے انصاف کے منصب پر بدترین کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔ قوم سب ججز کو دیکھ رہی ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کی طرح بادشاہ سلامت کے حکم کی بجا آوری میں قوم کے حقوق غصب کرنے کے درپے ہے۔
1/2
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf Imran Khan's Conversation with Lawyers, Workers, and Media in Adiala Jail - June 5, 2025
“Human societies are built upon two fundamental pillars: justice and moral authority. In contrast, the law of the jungle is based solely on brute force, where the powerful operate above the law. When power supersedes justice in a human society, that society inevitably collapses.
I often quote Maulana Rumi who said: ‘When God has given you wings, why do you crawl on the ground like ants?’
Today in Pakistan, justice and democracy have been ruthlessly trampled and law of the jungle prevails. Independent judges have been sidelined, while obedient, state-appointed judges have been pushed forward. The weak and vulnerable now have no recourse, no avenue for redress.
It is not nuclear weapons that destroy nations; it is the collapse of moral values that leads to national destruction. What we are witnessing is a shameless and systematic assault on morality and democracy.
The inhumane treatment of my wife, inflicted in a bid to break me, is an unprecedented act of depravity in Pakistan’s history. Wives of Sheikh Mujib, Zulfikar Ali Bhutto, or Nawaz Sharif were never subjected to political vengeance, but my wife, Bushra Bibi, has been held in complete isolation for 14 months under deplorable conditions—solely to punish me. She has been unjustly imprisoned under the baseless Al-Qadir case, in which she is falsely accused of abetment, a charge the prosecution never even argued in court.
After his removal from office, the so-called 'King of the Jungle' sent a message to Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, saying: ‘Aapa (Sister), I would like to meet you.’ She flatly rejected the request, stating clearly that she had no involvement in politics or governance and therefore had no reason to meet. That dignified refusal is what triggered the vindictive wrath of Asim Munir, who is now enacting his personal vendetta through a Colonel illegally posted at Adiala Jail, someone who holds court orders in utter contempt. Asim Munir has made this personal now. On his explicit instructions, scheduled weekly meetings between me and my wife have been denied for the past four weeks. Even the most basic human rights afforded to prisoners have been suspended without cause.
Pakistan Tehreek-e-Insaf remains the only true federal political party of this country. We are the force that binds the nation. As the largest democratic force, we are committed to uniting the country under the supremacy of the Constitution, rule of law, judicial independence, freedom of expression, and the protection of fundamental human rights. This nation has paid a heavy price for labeling political opponents as ‘traitors.’ The branding of Sheikh Mujib and Akbar Bugti as traitors inflicted irreversible harm. Today, the same narrative is being irresponsibly used against political figures like Mahrang Baloch and others. These tactics must end. Accusations of treason serve only to fracture the nation.
Media has been silenced through the draconian PECA law, and through coercion and bribery in the form of advertisements. After the unlawful 26th constitutional amendment, the 27th amendment is now being introduced with the same aim: to suppress every voice that dares to speak out against ‘His Majesty, the King’. Those who submit will have their cases wiped clean. Those who resist will languish in prison. Independent journalists have been abducted, silenced, or exiled. Their families have been harassed to the point of despair. This is one of the darkest chapters in Pakistan’s journalistic history.
The morally bankrupt and shameless Chief Election Commissioner Sikandar Sultan Raja has played the role of chief facilitator in establishing this monarchy.
1/2
Fugitives and convicted criminals like Nawaz Sharif, Shahbaz Sharif, and Asif Zardari have had all corruption cases and fake accounts forgiven. Meanwhile, the only 'crime' of leaders like Dr. Yasmin Rashid, Shah Mehmood Qureshi, and others is their refusal to abandon Pakistan Tehreek-e-Insaf. If they were to issue a single statement distancing themselves from PTI today, they would immediately be released from unlawful detention.
This nation has never forgotten any injustice. The illegitimate verdict of Justice Munir remains etched in our collective memory, and the people of Pakistan will never forgive Justice Qazi Faez Isa for his betrayal of judicial principles while occupying the highest seat of justice. The nation is watching every judge closely, witnessing who stands on the right side of history in defense of the Constitution and who, like Munir and Isa, is complicit in trampling national rights to appease a dictator.
Similarly, the people are also observing the journalists, lawyers, and politicians of this era: those who stand for the Constitution, democracy, and civil rights, and those who are actively crushing them under the orders of the ‘King.’ The politicians who are like lambs, roped in by the will of the establishment will never be forgiven by the nation.”
2/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا عیدالاضحٰی کے موقع پر اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کےنام خصوصی پیغام
(05-06-2025)
“تمام پاکستانیوں کو عید الاضحٰی مبارک
یہ عید قربان ہے جس کی روح اللہ کی راہ میں صدق دل سے قربانی کرنا ہے۔ پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں سب سے بڑی قربانی حق کی راہ میں نکلنا ہے۔ حق کی راہ میں نکلنا افضل جہاد ہے۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا اسی وقت خاتمہ ہو سکتا ہے جب یہ قوم حقیقی آزادی کی جدوجہد میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی۔
مجھ سمیت تمام سیاسی اسیران اسی نیت سے جہاد کر رہے ہیں۔ مولانا رومی کا قول کہ “انسان کو اللہ نے پر دئیے ہیں تو اسے چیونٹی کی طرح رینگنا نہیں چاہیئے”ہمارے لیے مشعل راہ ہونا چاہیئے-“
Former Prime Minister Imran Khan’s Special Message from Adiala Jail on Eid al-Adha (5 June 2025)
“Eid al-Adha Mubarak to all Muslims around the world. The essence of this sacred occasion lies in sincere sacrifice in the name of Allah. Today, as Pakistan faces unprecedented challenges, the greatest sacrifice is to rise for the truth. To sacrifice for the cause of Haqeeqi Azadi: genuine freedom, which is the highest form of struggle according to Islam. Our nation’s trials will not end until we, as a united people, commit ourselves to this struggle without hesitation or fear of loss. I, along with all other political prisoners, am engaged in this very struggle with utmost resolve. Let Maulana Rumi’s quote be our guiding light, where he said that if Allah has given you wings, why do you go through life crawling like ants?”
“رجیم چینج کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے۔ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ اس مرتبہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے پاس بھی ایک بکرے کی قربانی کرنے کی سکت تک موجود نہیں تھی، انھوں نے مشکل سے سنت ابراہیمی کی تکمیل کی۔ غریب طبقے کی کمر تو پہلی ہی توڑی جا چکی ہے۔
اب یہ جعلی حکومت بجٹ پیش کرنے لگی ہے جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اس بجٹ میں پھر سے دو طبقات کچل دیئے جائیں گے ایک ملازم پیشہ افراد اور دوسرا کسان۔ اس جعلی حکومت نے زرعی معیشت اور کسان کی کمر توڑ دی ہے۔کسی زرعی ملک میں کسان کے بدحال ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہاں بے روزگاری میں اضافہ اور قوت خرید میں کمی واقع ہو گی۔ انڈسٹری پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
چھبیسویں ترمیم کے بعد اب ستائیسویں ترمیم لانے کی تیاری ہے تاکہ انصاف مکمل طور پر دفن کر دیا جائے اور عوام مزید مایوس ہو جائیں۔ پہلے دن سے ان کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا اور عوام کی آواز کو دبانا ہے۔ اسی لیے نو مئی کروایا گیا۔ مجھے کہا جاتا ہے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹی�� کا مطالبہ نہ کروں اور نو مئی کی ذمہ داری قبول کر لوں اور اس 17 سیٹوں والی جعلی فارم 47 کی حکومت کو مان لوں۔ میری ساری جدوجہد کا مقصد ہی قانون اور آئین کی بالادستی ہے۔
ہمارے سارے آئینی و قانونی راستے بند کر دیئے ہیں اس لئے میں نے پارٹی کو ملک گیر تحریک کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔
مینڈیٹ میرا نہیں آپ کا چھینا گیا ہے، آپ سب کو اس تحریک میں شامل ہونا ہو گا۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے بحیثیت قوم جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کے منشور اور نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہمیں ووٹ دیئے اور خیبر پختونخواہ میں ہماری جو حکومت بنی ہے وہ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں نے علی امین کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ میری مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش نہیں ہو گا-“
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو۔۔۔ ۱۰جون ۲۰۲۵
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan’s Conversation – Adiala Jail, June 10, 2025:
“Inflation in Pakistan has spiraled out of control since the regime change. It is deeply troubling that this time even the financially stable segments of society were unable to afford the sacrifice of a single goat; they barely managed to uphold the tradition of Sunnat-e-Ibrahimi. Meanwhile, the poor have already been crushed under the weight of economic hardship.
Now, this illegitimate government is preparing to present a budget that will only further compound the public’s suffering. Once again, two key segments will bear the brunt of this exploitative budget: salaried individuals and farmers. This fake administration has broken the backbone of the agricultural economy and the farming community. In an agrarian country, when farmers are in distress, it directly signals rising unemployment and diminishing purchasing power. The industry, for its part, is already teetering on the brink of collapse.
Following the 26th Constitutional Amendment, preparations are now underway for a 27th Amendment, intended to completely bury justice and further dishearten the people. Their aim has been to intimidate us and silence the voice of the people since day one. That is precisely why May 9th (2023) was orchestrated. I am constantly told not to demand CCTV footage of May 9th, to take responsibility for the events that I had no part in, and to accept the fraudulent government formed through Form 47 with merely 17 seats. But my entire struggle has been rooted in the supremacy of law and the Constitution.
All legal and constitutional avenues have been blocked for us, which is why I have instructed the party to prepare for a nationwide movement.
This mandate was not stolen from me, it was stolen from you. Each one of you must be part of this movement. Freedom is never handed over on a silver platter; it requires a collective struggle as a nation.
The people of Pakistan voted for us based on Pakistan Tehreek-e-Insaf’s vision and ideology. The government we formed in Khyber Pakhtunkhwa is a reflection of PTI’s support across the country. I have made it clear to Ali Amin that the Khyber Pakhtunkhwa budget will not be presented without consulting with me.”
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے ��ئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہ��ا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر ��یری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کو��ی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی ��ھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
“Those who uphold the truth can never be defeated. Allah Almighty states clearly in the Holy Qur’an: “And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their inhabitants were righteous”. As Hazrat Ali (RA) said, ‘A system built on disbelief may survive, but one founded on injustice will not.’ Lies and deceit inevitably unravel, and the truth prevails.
The events of May 9th (2023) were, in fact, a part of the “London Plan”, the sole purpose of which was to eliminate Pakistan’s largest political force, Pakistan Tehreek-e-Insaf. Under this premeditated plan, I and several of my party leaders and workers were unlawfully imprisoned. Our democratic mandate was brazenly stolen, and corrupt individuals were imposed upon the nation. We were subjected to relentless fascist oppression, our supporters were shot at, and baseless cases have been fabricated against us.
As Prime Minister, when I removed General Asim Munir from the post of DG ISI, he sought to approach my wife Bushra Bibi through intermediaries to discuss the matter. Bushra Bibi categorically declined, saying that she had no involvement with such affairs and would not meet him. It is General Asim Munir's vindictive nature that is behind Bushra Bibi's unjust 14-month incarceration and deplorable inhumane treatment in prison. The way my wife has been targeted for personal vengeance is unprecedented, even during Pakistan’s darkest periods of dictatorship. She was accused of aiding and abetting, an allegation for which no proof has ever been presented, and she is arrested in one false case after another. She is a private citizen, a homemaker with no political involvement. I have not even been allowed to meet her in the past four weeks. According to jail regulations, I was scheduled to meet her yesterday, but even that meeting was denied, in complete violation of court orders.
Yesterday, our Member of National Assembly, Abdul Latif Chitrali, was convicted in a fabricated case related to May 9th (2023). Based on what evidence? Similarly, Dr. Yasmin Rashid remains imprisoned, while Shah Mehmood Qureshi would be released if he agreed to make the statements they desire from him. Anti-terrorism courts and numerous judges are complicit in this campaign of repression. Despite repeated demands, they refuse to summon or examine the stolen CCTV footage from May 9th. Not a single judge has the courage to demand those tapes and deliver a verdict based on evidence. We are innocent. Our people are being sentenced without evidence and without the right to a fair trial. We will petition all courts to demand the release and review of that CCTV footage.
I had called for the formation of a judicial commission to conduct a transparent investigation into the massacres (of unarmed pro-democracy protesters) of May 9th and November 26th (2024). Yet there has been no movement on this demand. The judiciary in Pakistan has never been more disgraceful than it is today. In the past, there was Justice Munir, whose unjust decisions earned him global notoriety. Today, Justice Qazi Faez Isa is following in the same footsteps. The entire judicial system seems complicit, driven not by justice but by a desire to protect their own jobs and privileges.”
Former Prime Minister Imran Khan, speaking from Adiala Jail during a conversation with his legal team and the media (May 31, 2025)
2/3
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر ق��می اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہ�� اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر ��ہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“جو حق پر کھڑا ہوتا ہے وہ ہارتا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ: "میں کسی ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جو حق سچ پر کھڑی ہوتی ہے۔" حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: "کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں-" جھوٹا اور دھوکے باز خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔
۹ مئی درحقیقت لندن پلان کا حصہ تھا جس کا مقصد ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریکِ انصاف کو ختم کرنا تھا۔ جس میں مجھے اور دیگر پارٹی اراکین اور کارکنا�� کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ ہمارا مینڈیٹ لوٹ کر چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ ہم پر ہر طرح کی فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمیں پر جھوٹے کیسز بنائے گئے-
میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا میں آپ سے ملاقات نہیں کرونگی۔ بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔ مجھے زیر کرنے کیلئے جس طرح میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس طرح پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ ان پر اعانت کا الزام تھا جو کہ ثابت بھی نہیں ہوا۔ لہذا ایک کیس سے دوسرے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں- چار ہفتوں سے میری اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدال��ی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی۔
کل ہمارے ایک ایم این اے عبدالطیف چترالی کو ۹ مئی کے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے، کس ثبوت کی بنیاد پر؟ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین کو جیل میں رکھا گیا ہے اور شاہ محمود قریشی اگر مطلوبہ بیان دے دیں تو انہیں قید سے خلاصی مل جائے۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت اور تمام ججز سب ملے ہوئے ہیں کیونکہ ۹ مئی کی جو سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہوئی ہیں ججز ان کو پیش کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ کسی جج نے ہمت نہیں کی کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائے اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ سنائے۔ ہم بے قصور ہیں اور ہمارے لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی اور بغیر فئیر ٹرائل کے سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ہم تمام عدالتوں میں ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منگوانے کیلئے درخواست دیں گے۔
میں نے ۹ مئی اور 26 نومبر کے قتل عام کی منصفانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پاکستان میں عدلیہ اتنی disgraceful کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ پہلے ایک جسٹس منیر تھا جسے اسکے ناجائز فیصلے کے باعث دنیا جانتی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی و��ی روش اختیار کی۔ اب سارے ججز ملے ہوئے ہیں اور صرف اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
2/3
عمران خان کا کل ہونے والے سمبڑیال ضمنی الیکشن کے حوالے سے پیغام :
“سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ ہو سکے۔”
1/3
“Two years ago, I was asked to step aside for three years and allow the current system to function unchallenged. But I won’t stay silent even for three minutes at the behest of any Yazeed [tyrant].
I am being pressured to accept the 26th Constitutional Amendment, yet my entire struggle has been for the rule of law, and this amendment blatantly violates it.
They demand that I apologize for May 9th (2023). Yet those who owe the nation an apology are the ones who stole CCTV footage, dishonored women, desecrated homes, imprisoned thousands of political workers, and martyred innocent citizens. If even one hour of the May 9th cases were heard on merit, these baseless cases would collapse instantly. The tragedy here is not only the absence of justice, but that not even a semblance of justice is visible.
Nations do not perish under oppression. They are reborn through struggle. The Holy Prophet (Peace Be Upon Him) endured thirteen of the most difficult years but remained steadfast and was ultimately triumphant. Therefore, following in his footsteps, we too must stand firm as a nation and fight until the very end.
Peaceful protest becomes the only viable path when every door to justice is sealed shut. I call upon the entire nation, including Pakistan Tehreek-e-Insaf, to prepare for a nationwide protest.
Rule of law is entirely suspended in Pakistan. Even the dignity of women is no longer secure. My wife, Bushra Bibi, has been in solitary confinement for 14 months over mere allegations of facilitation, without a single proven charge. Dr. Yasmin Rashid, a cancer survivor and an elderly woman, has been shamelessly jailed under false cases. My sisters, aged between 65 and 70, visit me in jail under High Court orders, which is a basic right, but a Colonel obstructs them, flouting court directives with impunity. My sisters are abducted and abandoned in remote areas in the dead of night. A nation that treats its own women this way has lost its moral compass. When Maryam Nawaz was found guilty of owning five undisclosed flats in London, her bail was granted within two months, because the Sharif family had agreed to a deal. Anyone who bows before tyranny gets absolved of all charges, while those who stand on principle are punished without cause.
No foreign investment has come into Pakistan for two years because the world knows that the law here is trampled under a Colonel’s boot. Without investment, there can neither be no economic stability nor development. Investor confidence will remain non-existent as long as judicial orders remain subject to a Colonel’s whims.
The entire nation now looks to the judiciary for justice yet the 26th Amendment has crippled the judiciary.
There are two motives behind this amendment: The first is to protect a rigged election. And secondly, to keep me, PTI leadership, and its workers incarcerated, violating basic human rights without fear of accountability.
There are two direct consequences of this Amendment:
1- The judiciary has entirely surrendered to the executive. The Supreme Court has authorized military courts in direct contradiction of Article 175(3) of the Constitution, which mandates a separation of powers. Special benches are being formed to snatch reserved seats from PTI despite the people voting for us. These seats are being handed to other parties in complete violation of the Constitution.
2- The judiciary is so paralyzed that even High Courts and judges cannot assign cases of their own volition. As a result, I am being denied justice. Sometimes benches for my cases remain incomplete, while hearings are arbitrarily delayed at other times. My cases are deliberately kept in limbo. Even my basic rights under jail regulations are denied—I am not allowed to speak to my children, scheduled meetings with my wife are cancelled, and even my books are withheld. All of this is designed to break my spirit. 1/2
Previously, fascism was being imposed through Qazi Faez Isa. Now, tyranny is being protected via the 26th Amendment. If the judiciary does not stand on the right side of history today, it too will be remembered as traitors to justice alongside Justice Munir and Qazi Faez Isa.
I direct Salman Akram Raja to formally write to the Chief Justices of the Supreme Court and High Courts on my behalf, regarding the violations of human rights, abuse of women, the unconstitutional 26th Amendment, and repeated contempt of court by military officers. It is now upon the judges to restore justice and stand on the right side of history.
The Sharif family has a history of negotiating NROs. They have done it twice before and are now clinging to power by stealing elections. No matter what formula they apply, be it SIFC or any other commission, they cannot take this country forward. A nation only progresses when it is free and led by morally upright leaders.
I urge everyone to participate actively in the Sambaryal election. Your most powerful weapon is your vote. Use it to challenge this oppressive system. They have most likely orchestrated an election theft plan, but you must remain vigilant. Exit polling stations only after you have Forms 45 in your hand and do not leave the RO office until Form 47 is obtained. We must become a wall against electoral fraud and show this regime how popular it actually is.
I instruct that Aliya Hamza and the four regional presidents be included in the Punjab reorganization committee. There should be no convener. Instead, everyone must work collaboratively and equally.
Wars are fought against external forces. I urge all party members and social media to not target fellow members. Continued in-fighting only harms our cause. We must stay focused on resisting the fascist forces and ending this long reign of tyranny.
My exclusive message to Pakistan Tehreek-e-Insaf is that no one should shy away from sacrifice. If I, along with hundreds of party workers and leaders, can endure prison, then so can you. Office bearers must now decide whether they are ready to fulfill their responsibilities. Any inactive member will be dismissed. We must all contribute our share of sacrifice to rid this country of darkness.”
Former Prime Minister Imran Khan, in conversation with lawyers, media representatives, and party workers inside Adiala Jail, Rawalpindi - May 29, 2025
2/2
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال ��شکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام ��یتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے ��گے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت ��و کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
پہلے قاضی فائز عیسیٰ کے ذریعے پاکستان میں فسطائیت جاری تھی اور اب چھبیسیوں ترمیم کے ذریعے ظلم کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اگر آج عدلیہ تاریخ کی درست سمت کھڑی نہیں ہو گی تو ان کا نا�� بھی جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہی لکھا جائے گا جو ہمیشہ تاریخ میں مجرم ہی رہیں گے۔
میری طرف سے سلمان اکرم راجہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، عورتوں سے بد سلوکی، چھبیسویں ترمیم اور کرنل سطح کے لوگوں کی جانب سے مسلسل توہین عدالت جیسی قانون کی پامالی پر سپریم کورٹ کے دونوں سربراہان اور ہائی کورٹ کے ججز کو خط تحریر کریں۔ یہ بوجھ ججز کے کندھوں پر ہے کہ وہ انصاف کا نظام قائم کر کے تاریخ کی درست جانب کھڑے ہوں۔
شریف خاندان این آر او لینے کا عادی ہے۔ دو مرتبہ پہلے این آر او لیا اور اب الیکشن چوری کر کے قوم پر مسلط ہیں۔ اس ملک کو کبھی بھی ایسے لوگ اوپر لے ک�� نہیں جا سکتے چاہے ایس آئی ایف سی بنا لیں یا کوئی اور کلیہ آزما لیں۔ قوم صرف تب ہی اوپر جاتی ہے جب وہ آزاد ہو ��ور حکمران اخلاقی طور پر مضبوط ہوں۔
سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ دلایا جائے۔
میری ہدایت ہے کہ پارٹی کی پنجاب میں تنظیم سازی کے حوالے سے ترتیب دی گئی کمیٹی میں عالیہ حمزہ اور چاروں ریجنز کے صدور کو شامل کیا جائے۔ کمیٹی کا کنوینر مقرر کرنے کی بجائے سب ایک سطح پر مل ک�� کام کریں۔
جنگ ہمیشہ باہر والوں سے ہوتی ہے۔ میرا تمام پارٹی اور سوشل میڈیا کو پیغام ہے کہ اپنی تنقید کا نشانہ اپنے لوگوں کو نہ بنائیں اس سے ہمارے بیانیے کو نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں ساری توجہ فسطائی قوتوں کے خلاف مرکوز رکھنی چاہیئے تاکہ اس اندھیری رات کا جلد سے جلد خاتمہ ہو سکے-
میرا تحریک انصاف کے لیے خصوصی پیغام ہے کہ جماعت میں کسی کو بھی قربانی دینے سے نہیں گھبرانا چاہیئے۔ اگر مجھ سمیت سینکڑوں کارکنان اور لیڈر شپ جیلوں سے نہیں گھبرائی تو آپ لوگوں کو بھی نہیں گھبرانا چاہیئے۔ پارٹی عہدیداران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہونے کو تیار ہیں یا نہ��ں۔ اب جو عہدہ دار سرگرم نہیں ہو گا اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس ملک سے ظلمت کے سائے ختم کرنے کے لیے ہم سب کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہو گی” -
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ، پارٹی ورکرز اور صحافیوں سے گفتگو
2/2