بے شغورو د شغور ژبه شروع کړه..
او ټولو خلقو د منظور ژبه شروع کړه..
د حالات به بیا د واوورو نه ساړه وی..
خو که مونږه د تنور ژبه شروع کړه...
❤️❤️❤️زما پیران..❤️❤️❤️❤️ بابک جان او منظور جان❤️❤️❤️
الله دے راته ټول عمر لکه د ګل تروتازه لري
#انگار#باجوړی
کئی بار سوچتی ہوں کہ آخر ہم بلوچوں کو انتہا پسند ، غدار کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا اس لیے کہ ہم اپنے بھائیوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں؟ یا اس لیے کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ وہ “غدار” تھے جنہیں ہم نے رات کو قرآن پڑھتے، دن کو نماز پڑھتے ، صبح کو چائے بناتے دیکھا تھا؟ اگر یہ انتہا پسندی ہے، تو پھر ہر ماں ہر بہن انتہا پسند ہے، جو اپنے گھر کی اس خالی کرسی کو نہیں بھولتی۔
#EndEnforcedDisappearances #Balochistan
پنجاب کی اشرافیہ پختونخوا اور بلوچستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتی اور ہم سے نفرت کرتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونخوا کے 86 ہزار افراد شہید ہوئے، مگر ان کی قربانیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے
وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان سے پختونخوا کے پانچ کروڑ عوام کی دل آزاری اور توہین ہوئی ہے
پختونخوا سے دہشت گرد نہیں بلکہ بجلی، گیس، تیل، پانی اور معدنیات جارہی ہیں، یہ حقیقت کیوں نظر نہیں آتی؟
ایک ہی فیڈریشن میں پختونخوا اور بلوچستان کو خطرہ قرار دینا افسوسن��ک ہے۔ 78 سال سے ہر واقعے کا الزام بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پر لگایا گیا، آج پختونخوا کے عوام ہی کو خطرہ کہا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو فورسز پنجاب میں امن قائم کرسکتی ہیں، وہ پختونخوا میں دو دہائیوں سے امن کیوں قائم نہیں کر سکیں؟
نثار باز خان
خضدار میں فوج نے گھر میں چھاپے کے دوران ایک ہی فیملی کے 4 بیگناہ بلوچوں کو قتل کردیا۔
#پنجابی سیاستدان نا اسکی مذمت کریگا
نا میڈیا اسکو دکھائیگا
نا دانشور پوڈکاسٹ کریگا
نا انقلابی احتجاج کریگا
نا قلمکار لکھے گا
کیونکہ انکا خون پنجابی مزدور کی خون کی طرح پاک نہیں، یہ بلوچ
۷ ستمبر کو عدالتی ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی کارروائی کے دوران متعدد مواقع پر ج�� کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں عمر قید یا سزائے موت سنانا پڑ سکتی ہے، جس سے عدالتی آزادی اور غیر جانب داری سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں
#ReleaseGulzadiBaloch
بی وائی سی لیڈر گل زادی بلوچ اے ٹی سی کورٹ میں پیش۔ سماعت کے بعد دوبارہ جیل منتقل۔ یاد رہے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ماہ رنگ بلوچ، گل زادی، بیبو، شاہ جی اور بیبرک زہری پر سرکار نے مختلف کیسز بنائے ہیں۔ آج گل زادی کو متنازعہ تقریر کے کیس میں پیش کیا گیا۔
محترمہ قوم کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہوتی۔ فواد چوہدری مفادات کی خاطر پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں، ان کی اہلیہ کو لگتا ہے کہ قوم بھی تبدیل کی جا سکتی ہے جو پنجابی سے ڈائریکٹ پٹھان بن گئیں۔ مزے کی بات نہ زبان آتی ہے نہ آباؤ اجداد کا علاقہ معلوم ہے، بس محترمہ کو اچانک پتہ چلا کہ وہ کاکڑ ہیں
ہم تصور ہی نہیں کر سکتے کہ جیل میں کس طرح ایک عورت کے وقار کو پامال کرکے ذہنی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اپنی بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں آج آپ کی عزت آپ کی بہنوں کو آپ کی آوازآپ کے ساتھ کی ضرورت ہے
#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBeebowBaloch#ReleaseGulzadiBaloch
گل زادی بلوچ سے اُس کا قانونی حق ضبط کرکے جسٹس قادر شاہ بخاری اور جسٹس کامران ملا خیل کی جانب سے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جانا ظالم کی مُعاونت کا ثبوت ہے۔
#ReleseBycLeaders
اور ہمیں خطرہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ سے ہے،جس نے ہمارے وسائل پر قبضے اور امریکی مفادات کے لیے ہمارے خطے کو بارود کا ڈھیر بنا رکھا ہے۔جس دہشت گردی کو آپ آج پنجاب کے لیے خطرہ کہہ رہی ہیں،اس کے معمار آپ کی اپنی پنجابی اشرافیہ ہے۔آپ تپش محسوس کر رہی ہیں، ہم دہائیوں سے جل رہے ہیں۔
یہ خاندان جب بولتا ہے منہ سے نفرت کی آگ اگلتا ہے۔ پنجاب کی اشرافیہ اور مفاد پرست جرنیلوں نے وسائل پر قبضوں اور امریکیوں کو راضی کرنے کےچکر میں چھوٹے صوبوں میں قبرستان بنا ڈالے مگر اب بھی انکی پیاس نہیں بجھی۔ یہ خون پینے کے مزید بہانے تراشتے رہتے ہیں۔
لوگ درست کہتے ہیں آلِ شریف ملک کے لئے سب سے بڑا سکیورٹی رسک ہے۔ آج مریم نواز نے فیدریشن کی اساس پر حملہ کردیا۔ اِن کی زبانیں صرف ہم وطنوں کے خلاف چلتی ہیں، مودی کا نام لینے سے یہ زبانیں جلتی ہیں۔