حالیہ قانون سازی کے حوالے سے ہمیں تو چھوڑیں خود حکومت کو بھی پتہ نہیں تھا کہ کیا بل آرہا ہے۔ ہم پارلیمان کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے تمام تر فیصلے پارلیمان سے باہر ہورہے ہیں، یہاں تک کہ ان پر بحث تک نہیں ہوتی۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
13) خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع میں تمباکو کے ذریعے حکومت اور تجارتی کمپنیاں سالانہ اربوں روپے کما رہی ہیں مگر تمباکو کے کاشتکاروں کی صورتِ حال روز بروز دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ اے این پی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس تمباکو کو فصل ڈیکلیئر کرنے اور کاشتکاروں کی حالتِ زار کا مداوا کرنے کا پرزور مطالبہ کرتا ہے۔
14) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس شمالی وزیرستان، کرم اور دوسرے علاقوں میں مسلسل کرفیو کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکام سے عوام کی روزمرہ زندگی میں سہولت پیدا کرنے کی پرزور اپیل کرتا ہے۔
15) اے این پی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس باہر کے ملکوں میں طب اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو پاکستان میں امتحانات دینے اور ڈگری مساوات کا مطالبہ کرتا ہے اور پی ایم ڈی سی پر زور دیتا ہے کہ میڈیکل کے طلبہ کے لیے سہولت پیدا کرے۔
16) اے این پی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس خصوصی طور پر بلوچستان کے پشتوں بیلٹ جیسے کوئٹہ، زیارت، شاہرگ، ہرنائی سمیت شیرانی ت�� چمن تمام علاقوں میں مصنوعی دہشت گردی کو جواز بناکر سوات و باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک میں پہلے سے آزمودہ پالیسی کے تحت مقامی آبادیوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کی پالیسی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ مقامی آبادیوں کی بیدخلی کا بنیا��ی مقصد قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا اور اور برخورد غلط تزویراتی اہداف کے حصول کیلئے ہے۔
#ANP | #AimalWaliKhan
جب ہم دہشتگردی کے خلاف اپنے سینے، اپنے بچے، اپنا مال اور اپنی جان قوم کے لیے پیش کر رہے تھے تو کہا جاتا تھا کہ یہ سب ڈالر کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اب یہ بھی غیرت کریں، ڈالر لیں اور قوم اور دہشتگردوں کے درمیان دیوار بنیں۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کے اجلاس27 ا��ست 2026 کو اسلام آباد میں مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی زيرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قراردیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:
9) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس محکوم اقوام (پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی یہاں تک کہ کشمیری اور گلگت بلتستانی)کی مشترکہ سیاسی، جمہوری، ترقی پسند، سیکولر اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کی حامی ہے اور آج بھی درپیش سنگین قومی و معاشی مسائل کا حل مشترکہ جدوجہد کو سمجھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قبائلی بنیادوں پر برادر اقوام کے درمیان منافرت کی مذمت کرتا ہے۔
10) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس اسلام آباد میں سب سے بڑے سرکاری ہسپتال(پمز اسلام آباد)میں معصوم بچوں کے جھلس جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس سانحے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو کڑی قانونی سزا کا مطالبہ کرتا ہے۔
11) مرکزی کونسل کا یہ اجلاس ملک بھر میں پشتونوں کے لاکھوں شناختی کارڈوں کو بلاک کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ شناختی کارڈوں کے اجرا میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور طریقۂ کار کو سہل بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ داخلہ امور کی وزارت اور نادرا حکام اس سنگین مسئلے کا جلد از جلد نوٹس لے۔
12) مرکزی کونسل کا یہ اجلاس سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد، پنجاب کے مختلف شہروں، اسلام آباد اور بین الصوبائی شاہراہوں پر چیکنگ کے نام پر پشتونوں کی توہین و تضحیک؛ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں پشتون و بلوچ طالب علموں کے ساتھ ناروا سلوک؛ اور مذکورہ بالا شہروں اور صوبوں میں پشتون تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام دکانداروں پر آئے روز قدغنوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
#ANP | #AimalWaliKhan
5) اے این پی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان ملکی حاصلات کے موجودہ فارمولے(این ایف سی کے موجودہ فارمولے)کو مرکز کی طرف سے چھیڑنے، منسوخ کرنے، تبدیل کرنے یا حاصلات کا توازن مرکز کی طرف جھکانے کی ہر سازش کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
6) اے این پی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس صدارتی نظام، نیم صدارتی نظام، ٹیکنوکریٹ حکمرانی اور اسی طرح دوسرے عوام دشمن منصوبوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ صحیح معنوں میں ��فاقی جمہوری پارلیمانی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، ہر صوبے میں ایک فعال اور بااختیار صوبائی فنانس کمیشن، جو صوبوں کے اندر مختلف اضلاع اور پسماندہ آبادیوں و کمیونٹیز کے درمیان وسائل و اختیارات اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، کا مطالبہ کرتا ہے اور ایسی بااختیار مقامی/ضلعی حکومتوں کا بھی مطالبہ کرتا ہے جس میں عملی طور پر انتظامی، مالی اور سیاسی اختیار نچلی سطح پر منتقل ہوجائے۔
7) اے این پی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس چترال سے چمن تک تمام تجارتی و آمدورفت کے راستوں کی بندش اور تجارتی راستوں کو منقطع کرنے کی پالیسی کی مذمت کرتا ہے۔ اس لئے کہ یہ پالیسی ��ہ صرف ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ تمام بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
8) اے این پی کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس تمام پرائیویٹ مسلح جتھوں، مسلح امن کمیٹیوں، مسلح لشکر سازی اور مسلح جرگوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی مذمت بھی کرتا ہے۔ عوام الناس کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
#ANP | #AimalWaliKhan | #AwamiNationalParty
عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کے اجلاس27 اگست 2026 کو اسلام آباد میں مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی زيرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قراردیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:
1) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کا اجلاس خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع، بلوچستان کے بالخصوص شمالی اضلاع اور ملک کے دیگر علاقوں میں بڑھتی دہشت گردی اور مسلح انتہاپسندی جس نے زندگی، معیشت اور کاروبارِ زندگی کو معطل کی ہے، کی مذمت کرتے ہوئے، دہشت گردی کے خاتمے اور اندرونی سلامتی کی پالیسی کو پارلیمان کے دائرۂ اختیار میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ مرکزی کونسل کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے واض�� پالیسی کا اعلان کریں۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ خطے میں عالمی اور خطے کی طاقتوں کی چپقلش کی وجہ سے تزویراتی مقاصد کیلئے پرائیویٹ مسلح ملیشیاؤں اور دہشت گردی کا جو کاروبار وجود میں لایا گیا ہے، اس کے نظریاتی اور اقتصادی ا��فراسٹرکچر کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ عوام الناس کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان کی ہے۔
2) اے این پی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس پاکستان کے وفاق کے اندر قومی وحدتوں کو وفاقی اکائیوں کا مترادف سمجھتا ہے۔ مرکز کی طرف سے قومی وحدتوں کو توڑنے کے منصوبے کو کلی طور پر مسترد کرتا ہے۔ اور مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کے اندر پختونخوا کو( خیبرپختونخوا، بلوچستان کا پشتون بیلٹ اور پنجاب میں شامل کیے گئے اٹک اور میانوالی کے اضلاع کو جوڑ کر) پاکستان کے اندر ایک وفاقی اکائی کے طور پر تسلیم کرے۔ یہ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وفاق کے اندر قومی وحدتوں کو توڑنے کی کسی بھی سازش کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
3) اے این پی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس ہزارہ صوبے کے منصوبے اور سازش کو کلی طور پر مسترد کرتا ہے اور اسے مرکز و پنجاب کی طرف سے پختونخوا کی قومی وحدت کو مزید کمزور کرنے کا منصوبہ سمجھتا ہے۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر ہزارہ پختونخوا کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ اس خطے کے عوام صدیوں سے ایک مشترکہ تہذیبی ورثے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور مستقبل میں پختونخوا اور ہزارہ کو تقسیم کرنے کی ہر صورت کی مزاحمت کریں گے۔
4) اے این پی کے مرکزی کونسل کا یہ اجلاس پنجاب میں سرائیکی وسیب/سرائیکی بیلٹ کو ایک الگ قومی وحدت سمجھتا ہے اور اسے وفاق کے اندر ایک جداگانہ وفاقی اکائی/صوبے میں تبدیل کرنے کے حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ سرائیکی صوبے کے لیے نام کا اختیار و استحقاق سرائیکی صوبے کے عوام کا ہے۔
#ANP | #AwamiNationalParty
ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔ ہم کسی کی زندگی یا تکلیف کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے کے حق میں نہیں۔ اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے مگر قانون اور انسانی حقوق سب کیلئے برابر ہونے چاہیئے۔ اے این پی آئین، جمہوریت، انسانی حقوق، امن، صوبائی خودمختاری اور مضبوط وفاق کے لیے کھڑی ہے۔
سینیٹر ایم�� ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
علی وزیر سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی سیاسی قیدی بیمار ہے تو اس کی زندگی اور صحت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ سیاسی قیدیوں سمیت ہر شہری کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا احترام ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
ضم اضلاع کمزور ریاستی مشینری،ناکافی وسائل اور دہشتگردی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بار بار مالیاتی پیکیجز کا اعلان ہوتا ہے، لیکن وسائل اسلام آباد سے پشاور اور پشاور سے آگے مستحق علاقوں تک نہیں پہنچتے۔ ضم اضلاع کو امن، وسائل، انتظامیہ، تعلیم، صحت اور روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
پاکستان صرف نازک موڑ پر نہیں بلکہ ایک خطرناک ٹائم بم کے اوپر کھڑا ہے، مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی پولرائزیشن، ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور اداروں پر کمزور ہوتا اعتماد بارود کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسائل کا حل آئین، قانون، جمہوری مکالمے اور صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
عوامی نیشنل پارٹی کی تھنک ٹینک، مرکزی کابینہ، مرکزی ورکنگ کمیٹی اور مرکزی کونسل کے چار روزہ اجلاسوں میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں تمام صوبائی یونٹس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایف کی تنظیمِ نو اور فعالیت کے لیے جلد از ��لد پانچ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی کا اعلان کریں۔
جو صوبائی یونٹس اپنی صوبائی تنظیم کو بحال کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس حوالے سے بھی اختیار حاصل ہوگا۔
تمام صوبائی یونٹس میں آرگنائزنگ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی اور مرکزی آرگنائزنگ کمیٹیوں کے اراکین کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 28 سال مقرر ہوگی۔
#ANP | #PSF
اے این پی کو کئی مواقع پر سیاسی طور پر محدود اور عوام سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہماری قیادت کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ جب دوسری جماعتوں کے رہنما بلاخوف ہر علاقے میں سیاسی سرگرمیاں کرسکتے ہیں تو اے این پی کے لیے بار بار تھریٹ الرٹس کیوں جاری کیے جاتے ہیں؟ ہماری سیاست بند کمروں تک محدود نہیں ہوسکتی؛ ہماری سیاست عوام سے جڑی ہے اور عوام ہی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
رات کی تاریکی میں بار بار پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی حکومتی پالیسی قابل مذمت ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو پاکستان میں فوراً اضافہ کردیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اسی تناسب سے پاکستان میں قیمتیں کیوں کم نہیں کی جاتیں؟ عوام کے ساتھ یہ مذاق بند ہونا چاہیے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
عوامی نیشنل پارٹی آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اے این پی کسی شخص سے ذاتی اختلاف نہیں کرتی، لیکن سیاسی نظریات اور پالیسیوں سے اختلاف ہمارا جمہوری حق ہے۔ اے این پی نے ہمیشہ شخصیات کی بجائے اصولوں کی سیاست کی ہے اور کرتی رہے گی۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے۔ مختلف ناموں اور مختلف گروہوں نے حالات کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اگر ہم پورے پاکستان کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شروع کردیں تو حقیقی امن، خوشحالی اور ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
اے ای�� پی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار سراہتی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ حکومت کو اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ انتہائی کشیدہ معاملات پر اسی سنجیدگی اور سفارتی حکمت عملی سے کام کرنا ہوگا۔ موجودہ کشیدہ حالات کا سب سے زیادہ نقصان سرحدی علاقوں، بالخصوص پختون اور بلوچستان کے عوام کو ہورہا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
پمز جیسے سانحات معمول بنتے جارہے ہیں۔ دنیا میں سانحات رونما ہوتے ہیں، لیکن ذمہ دار ریاستیں ��ن واقعات سے سبق سیکھتی ہیں۔ اگر کسی ایک ذمہ دار کو بھی عبرت کا نشان بنایا جائے تو شاید آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ اسلام آباد کے ساتھ مزید حصہ جوڑنے والے بتائیں کہ اسلام آباد کی کیا حالت ہے؟
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
پاکستان صرف نازک موڑ پر نہیں، بلکہ ایک خطرناک ٹائم بم پر کھڑا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی تقسیم، عوام اور ریاست کے درمیان بڑھتی بداعتمادی اور ریاستی اداروں پر ��رتا اعتماد حالات کو انتہائی سنگین بنا چکا ہے۔ ہمیں آج سوچنا ہوگا، شاید کل بہت دیر ہو جائے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ریاستی رِٹ عملاً ختم ہو چکی ہے، جہاں مختلف گروہ اپنی مرضی کا نظام چلا رہے ہیں۔ اس ناکامی کی سب سے بھاری قیمت عام عوام ادا کر رہے ہیں۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر س��نیٹر ایمل ولی خان پارٹی کے چار روزہ مرکزی اجلاسوں کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
#ANP | #ANPCC2026