پڑے ہوئے تھے شاملِ قطار کیسے ہو گئے
اے کارِ زندگی ترے شِکار کیسے ہو گئے،
یہ خاکِ گُمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی
تمہاری اُنگلیوں پہ ہم شمار کسے ہو گئے،
یہ عُمر تو کسی عجیب واقعے کی عُمر تھی
یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے
اور
جب مٹی کے کیڑے
میرے دل کو کوریدنا اور کھانا شروع کریں گے،
تو
وہ ان تمام الفاظ کے درد کا ذا��قہ چکھیں گے
جنہیں میں نے کبھی زبان پر آنے ہی نہیں دیا۔🖤 🥀
اس سـے ملـے تـو ہم سارا اعتدال بُھول گئـے
سو ابتدا سے ہی ــــــــــــ بے انتہا محبت کی
نئے سِرے سے بھا گیا مجھے وہ جب بھی مِلا
سـو ایک شـخص سے میں نے بارہا محبت کی
رحمن فارس
خوشی دیکھتے ہیں نہ غم دیکھتے ہیں
فقط تیری مرضی کو ہم دیکھتے ہیں
کبھی ان نگاہوں سے تم بھی تو دیکھو
تمہیں جن نگاہوں سے ہم دیکھتے ہیں
#ردائے_سخن#قومی_زبان
کسی مرد نے لکھا ��
عورت آپ سے محبت کرتی ہے تو اس کے پاس پچیس گھنٹے ہیں آپ کو دینے کہ لیے،
لیکن اگر وہ آپ سے محبت نہیں کرتی
تو اس کے پاس ایک سیکنڈ بھی نہیں ہے۔