تاریخ میں پہلی بار دو حاضر سروس جرنیل سائفر کو جھوٹا قرار دینے آئے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ تاریخ اپنے فیصلے خود کرتی ہے؛ آج عمران خان کا موقف سچ ثابت ہوا اور میر جعفر و میر صادق کے کردار واضح ہو گئے۔
🇵🇰 The man Khan fired is now running Pakistan's nukes.
Think about that for a second. Munir was sacked by Khan in 2019 after just eight months as ISI chief. Eight months. Khan threw him out after he went to Tehran with the Pakistani delegation and blew up the room, went completely off the script the government had agreed on internally, used language with Iranian officials that had no business being used, and actively wrecked what could have been a genuine step toward better Pakistan-Iran ties. Iran complained directly to Khan. Khan fired him.
That same man now controls 170 nuclear warheads with zero institutional checks left standing.
What happened between getting fired and getting the keys is the part that should make every Pakistani furious. After the sacking, Munir allegedly flew to London and sat down with Nawaz Sharif, who was conveniently living in self imposed exile at the time. Khan called it the London Plan. The deal as Khan described it was straightforward, Munir gets army chief, Khan's government gets taken apart, his party gets destroyed, the judiciary plays along. Sounds insane until you watch it happen exactly like that, step by step, over the next three years.
Munir became army chief in November 2022 in a process multiple reports said involved heavy consultations with the same Nawaz Sharif sitting in London. Within months Khan was arrested. Shariar waltzed back into Pakistan in October 2023 and had most of his convictions vacated almost overnight. By February 2024 his brother was prime minister, the elections were rigged openly and Washington and Brussels said nothing.
Then Munir really got to work. He promoted himself to Field Marshal, invented a brand new title of Chief of Defence Forces, and passed the 27th Constitutional Amendment scrapping the Nuclear Command Authority that had existed since 2000. That authority existed for one reason, to make sure no single person could ever make a nuclear decision alone. It required the prime minister, the joint chiefs, the service chiefs, all in the room. All of that is now gone. Munir replaced it with the National Strategic Command, headed by himself, answerable to nobody above him. The prime minister's only remaining role is to appoint people Munir recommends.
Pakistan has 170 nuclear warheads. Every single one of them now answers to one man.
Khan, the man who saw all of this coming and tried to stop it, has been rotting in a cell for nearly 3 years. And Munir gets called "my favorite Field Marshal" by Trump.
Source: Drop Site News
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ ��س کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی ��کومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھ��۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ ��راغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دی��ے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
Horrifying.
Israel bombed a residential building in Toul, South Lebanon.
Paramedics rushed inside to save civilians trapped under the rubble.
Israel waited for them to enter.
Then dropped another bomb on them.
Israel is hunting down and assassinating medical rescuers.
اگر زرداری یا نواز شریف کی بیٹی اس طرح گرمی میں سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کرتی تو بکاؤ میڈیا گلہ پھاڑ پھاڑ کر دکھاتا
لیکن عمران خان کی سوشل میڈیا زندہ باد 🔥
آواز اٹھائیں 🚨
کل لاہور میں اپنی مدد آپ کے تحت مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والی پی ٹی آئی کارکن فضا عالم کو رات کے وقت گھر سے اٹھا لیا گیا ہے۔
بازیابی کے لئے سوشل میڈیا بھرپور آواز اٹھائیں
میں گھر میں اپنی بچیوں کے ساتھ جاۓ نماز پر نماز پڑھ رہی تھی انہوں نے آ کے میری نماز توڑ دی اور ان کے ساتھ کوئی لیڈی پولیس بھی نہیں تھی
اس 9 مئی پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھولنا مت 💔
My reply to ISPR & attempts by PDM & their handlers to arrest me for two reasons: 1. To prevent me from campaigning bec InshaAllah when elections are announced I will be doing jalsas. 2. To prevent me from mobilising the masses for street movement in support of Constitution if PDM govt & their handlers refuse to obey the SC & violate Constitution on holding of elections.
#PAKWatch🇵🇰: Today, HUNDREDS of Pakistanis gathered outside of the Islamabad High Court to demand the IMMEDIATE RELEASE of IMRAN KHAN and his wife, Bushra Bibi.
PAK = NO RULE OF LAW = 3RD WORLD
FREE THE KHANS.
🚨تحذير عاجل الحرس الثوري الايراني ينشر:
للدول المجاورة" انتهى ضبط النفس"
@kwnn_yemen
سنقوم باستهداف البنية التحتية التابعة للولايات المتحدة والإمارات وشركائها بشكل سيحرم أمريكا وحلفاءها من نفط وغاز المنطقة لسنوات.💥🔥 https://t.co/ugMWxKEdPH
BREAKING: IRAN DECLARES THE UAE AS AN ENEMY STATE
Member of the National Security Committee in the Iranian Parliament, Ali Khedryan:
The Islamic Republic no longer views the UAE as a neighbor
The Islamic Republic no longer views the UAE as a neighbor, but as an enemy base
There is a serious suspicion that the UAE planes removed their flag and launched a direct attack on Iranian soil
From now on, the UAE will be treated like the Kurdistan region and we will attack the UAE at any moment we see necessary
BREAKING: IRAN OFFICIAL STATEMENT
Iran's military command, official statement tonight:
“The U.S. attacked two Iranian vessels near Jask and Fujairah. Then struck civilian areas in Bandar Khamir, Sirik, and Qeshm Island, "in coordination with some regional countries.”