قاضی فائز عیسٰی قاضی کہلانے کے قابل نہیں تھا۔۔میں اپنا گناہ بھی مانتا ہوں میں نے بھی اسکا ساتھ دیا میں سمجھتا تھا یہ ایک آزاد جج ہے۔ میں نے اس کی خاطر عمران خان سے لڑائی کی کہ آپ غلط کررہے ہیں
حامد خان
ہمارے کچھ دوست مہنگائی کے خلاف دھرنے دیتے ہیں، حکومت سے مذاکرات کرتے ہیں اور مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے، عوام ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں آپ یہ دھرنے بند کر دیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لوگ احتجاج کر کے تھک چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان
تو گویا سپریم کورٹ کو یقین ہو گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ دانستہ طور پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ نہیں کر رہی نتیجتاً دونوں کی قید طویل ہو رہی ہے تو سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بنچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیرسماعت ہونے کے باوجود ایمان اور ہادی کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کا بڑا اور غیرمعمولی حکم جاری کر دیا. کیا رہی اسلام آباد ہائیکورٹ کی؟؟؟
یہ چھبیسویں اور ستائسویں آئینی ترمیم جو ہوئی ہے
اس کیساتھ ملک نہیں چل سکتا
ایسی ترمیم کی گئی جس سے ایک ریٹائرڈ جنرل اور جعلی صدر نے استثنی لے لی
پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ہمارا ایئر ڈیفنس ناکام ہوگیا
اس کے ڈرون شہروں میں حملے کررہے ہیں
تھوڑی بہت بہادری جو دکھائی ہے وہ پاکستان ایئرفورس نے دکھائی ہے اور اس پر ریٹائرڈ جنرل نے فیلڈ مارشل کے رینکس خود کو لگا دئے
26 اور 27 ویں آئینی ترمیم سے ججز کو دو راستے دیے گئے
پشاور کا جج میرٹ پر فیصلہ کریگا تو یہ سکھر لاڑکانہ ٹرانسفر ہوگا یا استعفی دیگا یا پھر لکھا ہوا فیصلہ سنانا ہوگا
اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود صرف 22 کلومیٹر ہے وہ کس حیثیت سے چار صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کو طلب کررہی ہے؟
صرف پختونخوا کے آئی جی اور چیف سیکرٹری سے بیان حلفی لیتی ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج وہ روکیں گے
اپنے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے اداروں کے سربراہان ہیں
آپ کیوں کسی کی غلط ہدایات پر عمل پیرا ہو رہے ہیں؟
اگر ایسا ہوا تو پہلا گھیرائو ہم ان دفاتر کا کریں گے
مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی سیاست جنرل ضیا اور جنرل جیلانی کے بوٹوں کے تسموں سے بندھی ہوئی ہے
پھر جعلی انقلابی بن گیا اور نعرہ لگایا کہ بوٹ کو عزت دو
آج پھر جنرلز کے بوٹوں سے بندھا ہوا ہے
مسلم لیگ ن کے علاوہ تمام جماعتوں سے درخواست ہے کہ کنوئیں سے اس کو نکالو
تک فوج کو سیاست سے نکالیں گے
ایک ریٹائرڈ جنرل اور غیر منتخب وزیر داخلہ صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں
ان کو صوبے بنانے کا اختیار کس نے دیا؟
چار نہیں چار سو صوبے بنا دیں فوج کی مداخلت ہوگی تو ایک چیز بھی ٹھیک نہیں ہوگی
وزیر تعمیرات و مواصلات شکیل احمد
اہم ترین، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان مالاخیل نے سپریم کورٹ میں ضلعی عدلیہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کا میلہ لوٹ لیا، صوبے کے اصل حالات سے پردہ اٹھا دیا، شرکاء کافی دیر تالیاں بجاتے رہے
سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل آپ کی محسن نقوی سے ملاقات ہوئی تھی ؟ صحافی کا سوال محسن نقوی سے آن آف ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ان کی تفصیل میں آپ کو نہیں دے سکتا ! بیرسٹر گوہر کا جواب
عمران خان سیاسی قیدی ہیں ان پر بنائے گئے کیسز سچے ہیں یا جھوٹے مگر قابل ضمانت ہیں اور اگر وہ سیاستدان نہ ہوتے تو انہیں ضمانت مل چکی ہوتی اور وہ آرام سے اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ضمانت نہ ملنا بھی سیاسی ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا
اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی اور عوام کو ، خاص طور پر پی ٹی آئی کارکنان کو پیغام دیا ہے کہ یہ عدالتیں وغیرہ کچھ نہیں ہوتیں جو بھی ڈیل کرنی ہے ہم سے کریں ۔ ہم چاہیں گے تو عدالتوں کے حکم پر عمل ہوگا ، ہم نہ چاہیں تو عمل نہیں ہوگا۔۔
مطیع اللہ جان
🚨🚨#BREAKING: Justice Naeem Akhtar Afghan's key remarks in the #SupremeCourt have raised questions
"We will have to see the conduct (#Islamabad High Court)—what is going on over there, what kind of behavior it is—then why are we sitting here to listen to this? Can the Supreme Court sit as a spectator? The Supreme Court has summoned the complete record of the Islamabad High Court's proceedings so far from Faisal Siddiqui by tomorrow in the case of #Pakistan’s most devoted human rights activists @ImaanZHazir and @AdvHadiali
جسٹس شاہد وحید کو عمر عطا بندیال چوتھے نمبر سے اٹھا کر سپریم کورٹ لائے تھے تارڑ صاحب نے کہا تھا کہ باجوہ کے کہنے پر ہم نے دو جج لگائے شاہد وحید ان میں سے ایک ہیں ! قیوم ۔۔
میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ! بیرسٹر عقیل ملک کا انکار ۔۔
بریکنگ نیوز ، عمران خان کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف
48 گھنٹوں میں شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم
سلمان اکرم راجہ کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو ۔۔
@salmanAraja@PTIofficial
https://t.co/2LAKNHCRYO
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے دبنگ فیصلے کو جس طرح جسٹس ڈوگر ، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس آصف نے کالعدم کیا ، اس پر جسٹس شاہد وحید ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کئی سوالات اٹھا دیے
سرکاری وکلا نے عمران خان سے پچھلے تین سال میں کرائی گئی ملاقاتوں کی تفصیلات بتائیں تو جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ تو ایسے بتا رہے ہیں جیسے آپ نے احسان کیا ہو ، یہ آپ کا فرض اور ذمہ داری تھی