I've built NIKO (Copy) with @base44!
Built NIKO — an AI neurological health app using @base44 🧠 From idea to live app in one day! https://t.co/wge24W96DQ #HealthTech#Ai
I've built NIKO with @base44: users understand neurological symptoms,learn disease mechanisms and pharmacology, by symptom tracking, and connected reminders
Everyone discover brain-healthy nutrition and lifestyle tips
Try https://t.co/wge24W96DQ
#HealthTech#AI#Neurology#NIKO
I've built NIKO with @base44: users understand neurological symptoms,learn disease mechanisms and pharmacology, by symptom tracking, and connected reminders
Everyone discover brain-healthy nutrition and lifestyle tips
Try https://t.co/wge24W96DQ
#HealthTech#AI#Neurology#NIKO
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب ��ھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دی��ار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی س�� سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ ن�� جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار ��ر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
Statement by Former Prime Minister and Founding Chairman of PTI, Imran Khan, during a conversation with his legal team at Adiala Jail - April 22, 2025
Our objections to the 26th Constitutional Amendment have proven entirely justified. It is a matter of grave concern that Pakistan’s justice system stands utterly crippled. Justice is not only being denied; it is being deliberately obstructed. Our cases are not even being placed on the court roster. The Constitution and the rule of law are being trampled with impunity, and judicial decisions are treated with open contempt. This institutionalized lawlessness has devastated investor confidence.
I have directed our legal committee and senior legal experts in Parliament to hold an urgent and comprehensive press conference. They must expose how every single concern we raised regarding the 26th Amendment is now unfolding precisely as we warned. Furthermore, I have instructed PTI’s Secretary General, Salman Akram Raja, to immediately draft and dispatch a detailed letter to the Chief Justice of Pakistan. This letter will outline the blatant injustices being inflicted upon my supporters, my family, and Bushra Bibi. The Chief Justice holds a constitutional obligation to act as the guardian of the rule of law. If he chooses silence in the face of such brazen illegality, who will be held accountable when the entire legal framework collapses? It is outrageous that my party members, my legal counsel, and even my family are being denied access to speak with me.
The events of May 9th (2023) are being exploited to target PTI through politically motivated prosecutions. CCTV footage that could exonerate the innocent has been deliberately concealed or destroyed. Since day one, I have demanded that the footage be made public to expose the truth and hold the actual perpetrators accountable.
In their campaign to dismantle PTI, the ruling regime has systematically destroyed Pakistan’s institutions. The judiciary, Parliament, police, and investigative bodies like the FIA have all been stripped of credibility and functionality.
The recent surge in terrorist attacks and the loss of innocent lives is tragic and unacceptable. My government had identified this threat early on and initiated critical diplomatic engagement with the Afghan government to stem the tide of terrorism. The illegitimate regime that seized power through manipulation, failed to treat the threat with the seriousness it demands, and delayed essential dialogue with Kabul. Today, this negligence has once again plunged the nation into the flames of terror. The KP government must be granted full authority to engage with Afghanistan, as the province is bearing the brunt of the violence.
I have made it categorically clear that there will be no progress on the Mines and Minerals Bill, unless Ali Amin Gandapur, our senior allies, and KP’s leadership provide me with a comprehensive briefing. Until then, this bill is going nowhere.
The escalating terrorism in KP has become a national emergency. Every day, our brave police officers are targeted and martyred. Yet, shockingly, the media remains largely indifferent. This is not merely a provincial issue—it is the federal government’s constitutional and moral duty to protect every Pakistani life and restore security across the nation.
The handling of Afghan refugees is a disaster. The current government's hostile and shortsighted policy towards Afghanistan is only stoking resentment and fueling more violence. I instruct the KP government to immediately introduce a resolution in the provincial assembly and initiate a debate on this unlawful and inhumane forced deportation campaign.
کتنا اوپر سے آرڈر آتا ہے نہتے بے گناہ لوگوں پر فائر کھولنے کا؟
اس کے نام سے آتا ہے جس کے نام کا حلف لیتے ہو؟
قوم کی حفاظت کے لیے آپ کو یہ طاقت اور یہ بندوقیں دی گئی ہیں، اسی قوم پر تان دی ہیں؟ کیا مانگ رہے ہیں؟ اپنا آئینی اور قانونی حق؟ یہ کہ ہم نے جس کو چنا ہم پر حکمرانی وہی کرے؟ یہ کہ جنہیں نا حق پابند سلاسل کیا ہے انہیں رہا کرو؟ یہ کہ ہمیں انسانوں کیطرح جینے کی آزادی دو؟
خون بہایا، گھر توڑے، عزتوں پر ہاتھ ڈالے وہ پھر بھی آئین اور قانون کی بات کررہے ہیں۔ پرامن ہیں۔ تمہاری گولیاں کھا کر تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ تمہارے حق میں ہجوم کو تاویلیں دیتے ہیں۔ کسی کو بغاوت پر نہیں اکسا رہا مگر یہ عہدے، یہ تمغے، یہ مراعات تمہارے گلے کا طوق بن جانی ہیں جس دن کن فیکون والے کا حکم آنا ہے۔
دھمکی نہیں ہے وارن کررہا ہوں، جیسے دہ��تگردی کی نئی لہر پھیلنے سے پہلے کیا تھا۔ جیسے جبر کے آغاز میں کیا تھا۔ جیسے الیکشن کے وقت کیا تھا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو انتقام کی جنگ میں نہ بدلو۔ ہوش کے ناخن لو۔ جمہور اور جمہوریت کو سانس لینے دو، اس سے پہلے کہ بہت بہت دیر ہوجائے۔
صدر پی ٹی آئی اسلام آباد ریجن عامر مسعود مغل نے رات بھر شیلنگ اور ریاستی فسطائیت کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والے کپتان کے غیور سپاہیوں میں ناشتہ تقسیم کیا۔ یہی جذبہِ، ایثار اور اتحاد اِس تحریک کی طاقت ہے۔
#احتجاج_سے_انقلاب_تک