وادی تیرہ میں آج جو ہوا اُس سے سب کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ عمران خان نے یہ کیوں کہا تھا کہ میں آپ لوگوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہو۔ ابوذر فرقان
@AbuzarFurqan
سورس لنک https://t.co/kQDop6p79l
“ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے۔”
- عمران خان
#FascismUnderAsimLaw
Now this is too much.
کیا کسی نے فوجی جوانوں پر فائرنگ کی ؟۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
تو پھر نہتے لوگوں پر فائرنگ کس کے حکم سے اور کیوں کی؟
#عوام_پر_گولی_کیوں_چلائی
جب یہ ہمیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں بھیجنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو تب نکلنے کے بجائے آج نکل کر اپنا امن حاصل کریں ،
مراد سعید کا قبائلیوں کو پیغام
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
رجیم چینج آپریشن اور 9 مئی ، دونوں ہمارے خلاف سازش تھی اور ہمیں ہی مجرم بنا کر ہمیں ہی سزا دی ��ارہی ہے۔ دونوں معاملات میں ہم نے انکوائری کی ڈیمانڈ کی اور دونوں میں انکوائری نہیں کی گئی۔
میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ جس نے ۹ مئی کی فوٹیج چرائی اسی نے ہی ۹مئی کروائی۔
ہمارے خلاف سازش ہوئی اور ہماری حکومت گرائی گئی ۔ سائفر ہمارے خلاف آیا تھا اور اس کا کیس مجھ پر اور شاہ محمود قریشی پر بنا دیا گیا۔اس سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ مجھے ملٹری کی حراست میں لے لیا جائے ۔
اس وقت پاکستان بنانا رپبلک بن چکا ہے جہاں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے ۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ اب دنیا بھر میں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ پاکستان میں بجلی کا بل گھر کے کرائے سے زیادہ ہو گیا ہے۔آئی پی پی کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں پسی ہوئی عوام پر ہر مہینے بجلی کا بل قہر بن کر گرتا ہے۔ ان چند خاندانوں نے خاص طور شریف اور زرداری خاندان نے اپنے ذاتی فائدے اور دولت بنانے کے لیے ملک میں بجلی کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ دو سال میں معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے فیصل آباد میں فیکٹ��یاں بند ہو گئی ہیں اور یہ ان کی ساری توجہ تحریک انصاف اور مجھے کرش کرنے پر لگی ہوئی ہے۔
کنفرم اطلاعات ہیں کہ اورکزئی کے تقریبا" بیس پولیس اہلکاروں اور کرک کے کچھ ایف سی اہلکاروں نے چند دن پہلے نوکری اس لئے چھوڑ دی کہ وہ اپنے لوگوں پہ گولی نہیں چلانا چاہتے تھے۔ جو ہو رہا ہے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کروایا جا رہا ہے۔ پورے صوبے کو لوگوں کو اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا