آج سے یہ اکاؤنٹ میں نے اپنے مینٹر اور ٹیچر سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے حوالے کر دیا ہے۔۔ مرشد سے جڑے ہمارے سر نے ہم سب کو بھی مرشد سے جوڑ دیا ہے۔۔ ۔ امید ہے آپ لوگ سر کے ٹویٹس کو انجوائے کریں گے۔۔ بوجوہ سر کا نام صیغہ راز میں رہے گا۔۔ والسلام
خیبرپختونخواہ پر قبضہ معدنیات سے منسلک کرنا اخیر درجے کی سادگی ہے ۔ کیونکہ معدنیات کا کوئی بھی بڑا پروجیکٹ آؤٹ پٹ دینے میں 5 سے 8 سال لیتا ہے
وجہ افغانستان بھی نہیں اس کیلئے پہلے بھی صوبائی حکومت سے کون پوچھتا تھا
اصل وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف ناپاک منصوبہ مکمل کرنے میں KP بڑی رکاوٹ تھی۔ جس پر PTI کے کچھ لوگوں کے تعاون سے کنٹرول حاصل کیا گیا
اب آخری وار کی کوشش کی جائیگی اس لئے جلد از جلد جوابی صف بندی ضروری ہے
Pakistani Army Generals, who control all courts, are trying to make a case to force X (formerly Twitter) to shut down Imran Khan’s X Account; Team X & all US Global Platforms need to understand that 250 million Pakistani people are fighting the most important battle anywhere in the Muslim world against Military Authoritarianism & Team X should be ready to defy these brutal Generals & their tricks! Please Retweet! https://t.co/dlgucZoQPr
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا آج یومِ شہادت ہے۔ قائداعظم سے جان چھڑوانے کے بعد یہ جرنیلی ٹولہ اقتدار پر مکمل اختیار چاہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ایک فوجی سپاہی تھا، جسے انکوائری اور گرفتاری میں لینے کی بجائے گولی مار دی گئی۔ اس کے خاندان کی اسی دن فوج سے پنشن لگ گئی۔ اس کی بیوی، جس کا انتقال چند سال پہلے ہوا، کو فوج نے گھر بھی دیا، اور آج بھی اس کی اولاد اس پنشن کے مزے لے رہی ہے اور امریکہ میں مقیم ہے۔
ہماری مادرِ ملت، جنہوں نے جمہوریت کا علم بلند کیا اور متحرک ہو گئیں، ان کے مقابلے پر آمر ایوب خان کی رعونت اور جسارت تو دیکھیے کہ اُس نے فاطمہ جناح کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ ایوب خان دھاندلی کرکے ان سے الیکشن جیت گیا، لیکن پھر بھی جرنیلی رعونت ختم نہ ہوئی۔ فاطمہ جناح کو زندگی ہی میں رسوا کرنا شروع کر دیا گیا، ان کے اوپر پانی چوری جیسے مقدمے بنائے گئے۔ تب بھی بدلے کی آگ ختم نہ ہوئی تو اس جرنیلی ٹولے نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دل لرز اٹھے گا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً میرے نوجوانو! میں آپ کو دہائیوں سے ان کے کردار اور ان کی حرکتوں کی طرف متوجہ کرتا آ رہا ہوں۔ خوشی ہے کہ ان کا یہ کردار عمران خان کے تسلسل سے آپ تک پہنچا۔ ان کے منہ کو آپ کا خون لگ چکا ہے۔
عاصم منیر کی رعونت اور فرعونیت کا بھی وہی عالم ہے۔ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی تذلیل سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
تحریک انصاف سے منسلک تین لوگ یوٹیوب پر تواتر سے ولاگ کرتے ہیں۔ شہباز گل نے دسمبر 2023 ، شہزاد اکبر نے جولائی 2023 اور قاسم سوری نے جنوری 2026 میں ولاگز شروع کیے۔ ان تینوں کے یوٹیوب شروع کرنے سے پہلے رجیم چینج ہوا۔ پنجاب حکومت ناجائز گرائی گئی۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ارش�� شریف کی شہادت ہوئی۔ ری��ائر ہوجانے والے جرنیل کو آرمی چیف لگا دیا گیا۔ الیکشن ملتوی کردیے گئے۔ آرمی چیف کا سالا وزیر اعلی پنجاب لگا گیا۔
زمان پارک پر حملے ہوئے۔ ظل شاہ کی شہادت ہوئی۔ عمران خان پر گندے غلیظ کیسز بنا کر ان کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ عمران خان کو احاطہ عدالت سے اغواء کیا گیا ، تحریک انصاف پر ریڈ لائن لگا دی گئی۔ گھروں میں گھس گھس کر بیڈرومز میں جا جا کر رہنماؤں سے پارٹی چھڑوائی گئی۔ انکی ننگی ویڈیوز لیک کی گئیں۔ ہزاروں لوگوں پر مقدمات بنائے گئے۔ یعنی تحریک انصاف کے لوگوں کے ولاگز شروع کرنے سے پہلے فوج یہ کرچکی تھی ۔
تحریک انصاف کو غدار تو فوج نے قرار دیا۔ تحریک انصاف کو توڑے کی کوشش تو فوج نے کی۔ تحریک انصاف پر گند تو چالیس نیوز چینلز اور دو سو صحافی پھینکتے رہے۔ یعنی آپ فوج کو کلین چٹ دے کر سارا ملبہ تحریک انصاف پر ڈال رہے ہیں؟ شہباز گل پر تشدد ہوا۔ شہزاد اکبر پر برطانیہ میں دو حملے ہوئے۔ قاسم سوری دربدر اوبر چلاتا رہا۔ آپ انہی کو ظالم قرار دے رہے ہیں؟
شہباز گل پر سب سے زیادہ تنقید کس نے؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے۔ عادل راجہ پر سب سے زیادہ تنقید کس نے کی؟ تحریک انصاف نے۔ تھوڑی سی گنجائش ملی نہیں اور شروع ہوگئے کہ عمران خان کو اور تحریک انصاف کو سارا نقصان پہنچایا ہی باہر بیٹھے یوٹیوبرز نے ہے۔ حیا کو ہاتھ ماریں۔
راجہ گِدھ
مُرداروں کے ماس سے
اپنے تَن کی بُھوک مٹانے والا
کالے اور تِیکھے پنجوں کی ہیبت پر
اِترانے والا
اپنی ہَوس کی بُو سے
میرے دیس میں آگ لگانے والا
یہ بدفطرت راجہ گِدھ بھی
کتنا جیئے گا
اک دن آخر مر جائے گا
نوشی گیلانی
الزام نہیں ۔ مگر واقعات کا تسلسل اور ان پر سوال آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ خود فیصلہ کیجیئے۔
گنڈاپور کے دو لانگ مارچ میں کردار کے بعد انہیں ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیر اعلی بنایا گیا جس کا ایک واضح مطلب تھا کہ انہیں جارحانہ سیاست کو لیڈ کرنا ہے خاص طور پر اس لئے بھی کہ ��وبائی حکومت کا بیک اپ بھی ان کے پاس موجود تھا۔
انہوں نے شروع میں پورے ملک میں موومنٹ کی جس کی وجہ سے لوگوں کی ان سے امیدیں وابستہ ہو گئیں ۔
مگر اچانک انکی کور کمانڈر سے ملاقات کی خبریں آئیں جس کے بعد پہلے تو وہ ذرا سست نظر آئے پھر جب احتجاج کا موقع تھا وہ KP ہاؤس میں پانچ دن ایسے بند ہوئے کہ ان کی باڈی لینگویج ہی قابل سوال بن گئی ۔ان کی نظریں کہیں اور دماغ کہیں نظر ایا۔ ایسے میں شفیع جان ان پر حاوی بلکہ نگران نظر آئے ۔ لوگ پوچھ رہے تھے آفریدی کو کیا ہوا ۔
اس کے بعد انہوں نے یوتھ فورس بنانے کا اعلان کیا اور اس اعلان پر کبھی عمل ہی نہیں کیا گیا ۔
پھر وہ کئی ماہ بالکل غیر متحرک نظر آئے کبھی اڈیالہ آ گئے کبھی بیرسٹر گوہر اور کبھی اسد قیصر کے ساتھ لڑھکتے نظر ائے۔
لیکن جیسے تیسے کر کے 5 اگست آیا تو انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا وہ بھی 52 دن بعد 27 ستمبر کو۔ اتنے دور کے اعلان پر لے دے ہوئی مگر سب نے یہی سوچا کہ ابھی ساتھ دینا زیادہ ضروری ہے۔ 27 ستمبر کی تاریخ 4 اکتوبر پر گئی ۔ اور اللہ اللہ کر کے انہوں نے لکی مروت سے اس کا آغاز کیا ۔ انہیں کبھی بھی یہ واضح نہیں تھا کہ انہوں نے کرنا کیا ہے ۔ پہلے 8 تاریخ پشاور پہنچ کر لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا ۔ مگر پھر یہ لائحہ عمل 11 تاریخ صوابی پر منتقل ہو گیا ۔
اس دوران کے پی کے ممبران اسمبلی اٹھائے جانے لگے تو انہوں نے اس پر ایک بھی کاروائی یا اس کی کوشش نہیں کی ۔ آئی جی اور چیف سیکرٹری کھل کھیلنے لگے تو کابینہ میں ان سے اختیارات واپس لینے کا بل پاس کیا مگر یہ بل کبھی اسمبلی تک نہیں پہنچ سکا۔
بالآخر جیسے گنڈاپور عین وقت پر ��ے پی ہاؤس کے کر بارہ ضلعے پھلانگ گیا تھا اسی طرح سہیل آفریدی مردان میں اس وقت سب کو چھوڑ کر سی ایم ہاؤس گئے جب دو دن پہلے سے پشاور سیکرٹریٹ وغیرہ خالی کرنے کی کاروائی ہو چکی تھی ۔ ایمرجنسی اور گورنر راج پر صدر اور شہباز شریف کی نتیجہ خیز مشاورت اور متفق ہونے کی خبر آ چکی تھی ۔ عین ان حالات میں وہ سی ایم ہاؤس گئے اور حکومت گنوا بیٹھے ۔
حقیقت یہ ہے کہ لانگ مارچ کی انکی ٹھوس نیت کبھی واضح ہی نہیں تھی ۔ عام کارکنوں کی ٹرانسپورٹیشن کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ کنٹینر پر دو تین یاروں کے ساتھ وہ براجمان رہے مگر اپنی ہی اسمبلی کے ممبران کو وہاں نہیں بلایا ۔
حکومت گئی مگر اس کی واپسی کا امکان برقرار ہے جس میں انہیں مظلوم مجاہد کے روپ میں واپس لایا جا سکتا ہے ۔
مگر لانگ مارچ میں کبھی بھی عمران خان کی رہائی کے واضح ہدف کا اعلان تک نہ کرنے والے سہیل آفریدی اب بھی وفادار ہیں تو کیدو بھی رانجھے کا سگا یار تھا ۔۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ
سہیل آفریدی کی گرفتاری پر PTI قیادت تو خاموش ہے ہی۔ سوشل میڈیا کیوں نہیں بول رہا
دراصل سوشل میڈیا کی اکثریت سمجھتی ہے کہ سہیل آفریدی لانگ مارچ کی ناکامی میں دیدہ و دانستہ شامل تھے۔
اگر ان کے کردار پر بھروسہ ہوتا تو سوشل میڈیا اب تک طوفان اٹھا چکا ہوتا ا
As Pakistan’s government arrests opposition leaders and suspends an elected provincial government, President Trump continues to embrace its military chief.
The United States should stand with the Pakistani people, not enable political repression. We must press for the release of political prisoners, including Imran Khan.
https://t.co/evitvY5gwk
پارلیمانی پارٹی والو! آپ مذاکرات کی باتیں کر کے اپنی اہمیت صفر مت کریں۔ آپ عمران خان کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ ایسی باتیں کر کے اس سسٹم کو وقعت دے رہے ہیں۔ اُس کی اجازت کے بغیر ایسے عمل نا کریں۔
عدالتیں بھی انکی ہیں اور قانون بھی ان کے لئے مکڑی کا جالا جسے وہ بڑے جانور توڑ کر نکل جاتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کو پھنسانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ چیلنج ہی کرنا ہے تو سڑکوں پر کرو، ورنہ باقی سب بکواس ہے!
اے میرے پیارے رب،
اے میرے سوہنے رب…
ہم تو یہ کہتے رہے کہ اگر فرعون ہے تو موسیٰ بھی آئے گا۔
ہمیں کیا خبر تھی کہ امتحان یعقوب والا ہو جائے گا آنکھوں کی روشنی چھننے کا، صبر کے آخری کنارے تک پہنچ جانے کا۔
اے یعقوب کی بینائی لوٹانے والے رب، ہمارے ملک پر رحم فرما!
اس ایک شخص پر رحم فرما جس نے اپنی آزادی، اپنی راحت، اپنی صحت تک قربان کر دی۔ وہ تنہا کھڑا رہا، مگر جھکا نہیں۔ اسکی آنکھوں کی روشنی تک آزمائش میں ڈال دی گئی۔
اے رب کریم، ہم شاید اس ��ابل نہیں کہ اپنے لیے کچھ مانگ سکیں، مگر تیرے حضور یہ گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر دیا ہے؛ عزت دی، وقت دیا، سکون دیا، سب کچھ تیرے نام پر اور اس قوم کے لیے چھوڑ دیا۔
اے میرے رب، اگر ہم کمزور ہیں تو اپنی قدرت سے مدد فرما۔ اگر ہم خاموش ہیں تو ہماری خاموشی کو قبول نہ کر، ہمیں جگا دے۔ اسکی بینائی کی حفاظت فرما�� اسکی جان کی حفاظت فرما، اسے اپنے خاص حصار میں لے لے۔
اے اللہ، اس سرزمین پر رحم فرما۔
ہم ٹوٹ رہے ہیں،
بکھر رہے ہیں،
ہماری مدد فرما۔
ہماری مدد فرما.....
ہمیں ہرگز اکیلا مت چھوڑ.....
آمین۔
Pakistan has imposed emergency rule in Imran Khan’s stronghold of Khyber Pakhtunkhwa, suspending its elected provincial government and detaining opposition workers amid PTI protests.
Is Islamabad acting on security concerns or tightening its grip on political opposition?
Watch the full report on #VantageOnFirstpost with @hemsaroya at 9PM: https://t.co/zAEOXIFauM
آپ نے نوٹ کیا ؟ کہ
لانگ مارچ کے پورے دورانیہ میں عمران خان کی رہائی نعرہ یا مطالبہ تھی ہی نہیں۔ اور لانگ مارچ کے خاتمے کو بھی عمران خان سے منسلک نہیں کیا گیا ۔
کسی بھی طرف سے
اگر رہائی مطالبہ تھا تو احتجاج تو اب بھی جاری رہنا چاہیئے۔ احتجاج کا گورنر راج ہا ایمرجنسی سے کیا تعلق
Sohail Afridi, the elected Chief Minister of Pakistan’s Khyber Pakhtunkhwa province, has been taken into custody, handcuffed and abducted straight from the CM House
Where is the UN Human Rights Organization now? I think @UNHumanRights is only interested in Indian affairs 😏