یہاں محبت کو صرف محبت نہیں لکھا جائے گا
خواہش کو خواہش کہا جائے گا
جسم کو جسم
بھوک کو بھوک, منافقت کو منافقت
میں تعلقات، سیکس، نفسیات اور ان سچائیوں پر لکھتا ہوں
جنہیں لوگ رات میں محسوس کرتے ہیں
اور دن میں انکار کرتے ہیں
یہ صفحہ شریف بننے کے لیے نہیں
اصل چہرے دیکھنے کے لیے ہے
اگر مجھے کسی دن حلال حرام کی تمیز بھلا کر کوئی ایک خواہش پوری کرنے کا موقع دیا جائے تو میں ہزاروں میل دوڑتا ہوا پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے تمہارے پاس آؤں گا اور تمہارے پستان چومنا چاہوں گا
ایسی عادت جسے عورت چھوڑنا بھی چاہے تو اس کا اپنا جسم اسے واپس وہیں لے جاتا ہے۔
سب سے خطرناک تعلق وہ نہیں جس میں عورت مرد کی ہو جائے۔
سب سے خطرناک تعلق وہ ہے جس میں عورت کا ذہن اسے اپنی ضرورت سمجھنے لگے۔
عورت کو ہمیشہ محبت نہیں باندھتی
کبھی کبھی اسے وہ مرد باندھ لیتا ہے جو اس کی خواہش کا راز جان لے
جو اسے اتنی شدت سے چاہے کہ اس کے بعد باقی مرد اسے بےاثر لگنے لگیں
جو اس کے مزاج، اس کی خاموشی، اس کی بھوک اور اس کے جسم کی بےچینی کو اس سے پہلے پہچان لے
پھر مسئلہ سیکس نہیں رہتا
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس عورت کا دماغ اس ایک مرد کے ساتھ سکون کو جوڑ لیتا ہے۔
اس کی آواز آئے تو جسم جاگے۔
اس کا نام آئے تو اندر کچھ کھنچے۔
اس کی غیر موجودگی میں بےچینی بڑھے۔
اور پھر وہ مرد صرف پسند نہیں رہتا۔
وہ عادت بن جاتا ہے۔
چدائی جتنی گہری اور لمبی ہوگی عورت اتنی خوش اور مطمئن رہے گی اس سے اس کی ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہو جائے گی
جب تک پھدی کو ٹھیک سے نہ پیلا جائے تب تک عورت اندر سے ادھوری رہے گی اور سب پریشانیاں بڑھتی رہیں گی
ایک زبردست چدائی ہی اس کے سب مسائل کا اصل حل ہے
اگر عورت کی چدائی ادھوری رہے تو اس کا جسم اور دماغ دونوں پھٹ پڑتے ہیں
اینگزائٹی اسے گھیر لیتی ہے ڈپریشن اسے نگل جاتا ہے
چڑچڑاپن اس کی روزمرہ بن جاتی ہے نیند خراب ہو جاتی ہے اور خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے
ایک سخت تگڑا لنڈ ہی اسے مکمل ٹھنڈا کر سکتا ہے
کیا تم مجھے وہ پل عنایت کرسکتی ہو جس میں میری روح تمہارے بدن میں اتر سکے اورہمارے بدن کے درد و لذت کے پیمانے ایک زاویئے پر برابر آجائیں ۔۔۔
متاعِ جاں۔۔۔
کہو کیا تم مجھے اس حد تک اپنے بدن کو چومنے دے سکتی ہو
کیا تم خاموشی سے ایک گھمبیر چُپ کے ساتھ مجھے اپنا بدن چومنے دے سکتی ہو؟
ایک ایسے پل میں جہاں میرے ہاتھ تمہاری چھاتیوں کو بنا کسی جھجک اور اجازت دبوچ سکیں اور ان کے ساتھ لمس کا وہ احساس حاصل کرسکیں جو آج تک کسی ذی روح کو کائنات میں میسر نہی ہوسکا!
کیاتم اپنا بدن مجھے اس حد تک چھونے دے سکتی ہو جہاں لذت اور اذیت ایک ہی لفظ کے معنی میں تبدیل ہوجائیں اور جب جب تم تکلیف سے کراہنے کا سوچو تمہارا من میرے چھونے کولذت کی گہرائی تک لے جائے اورتم دردو لذت میں فرق بھول جاؤ. ۔
بطور انسان جینے کا حق اور قانونی و سماجی تحفظ نہیں دے سکتا، اس کی بقا کا ایندھن بننا اب بند کرو، اس وحشی نظام کی نسلیں پیدا کرنا چھوڑ دو تاکہ یہ بے حس اور ظالم سماج اپنے ہی بوجھ تلے دب کر اپنی موت آپ مر جائے
#PIMS#RakshaBandhan#کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا
یہ معاشرہ نہیں، قبرستان ہے!
یہ ہرگز کوئی انسانی بستی نہیں، بلکہ یہ کمسن بچیوں کی مسخ شدہ لاشوں پر قائم ایک بدبودار جنگل ہے جہاں ہر چند روز بعد ایک معصوم کلی نوچ کر ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہے اور سارا سماج منہ پر منافقت کی کالک مل کر تماشا دیکھتا ہے۔
انہیں سکھاؤ کہ اگر کوئی میلی آنکھ سے دیکھے یا چھونے کی جرات کرے تو دہائیاں دینے کے بجائے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو اور اس کی آنکھیں نوچ لو۔ کہ تم قبر سے نہیں لوٹ سکتی مگر جیل سے ضرور رہا ہو سکتی ہو ۔
اور سنو! جو درندہ صفت معاشرہ تمہاری بیٹی کو