جو گورنر راج اور ہمارے صوبے میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے، سب سے پہلے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف گورنر راج لگا ہے اور کہتے ہیں کہ گورنر راج آئین میں ہے، ایمرجنسی آئین میں ہے۔ تو ایک صوبے میں کچھ ایریاز میں گورنر راج ہے اور کچھ ایریاز میں ایمرجنسی ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمرجنسی میں جو انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی ہے؟ کوئی قانون ہے اس کا؟ یعنی جو غیر قانونی اور غیر آئینی کام ہو رہے ہیں، یہ میں نہیں کہتا، یہ فاروق ایچ نائیک نے کہا، جو ڈپٹی اسپیکر صاحب، آپ کی جماعت پیپلز پارٹی کا سب سے مایہ ناز آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے اور وہاں جو کمیٹی بنائی ہے، یہ غیر آئینی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کوئی قرارداد لائے گی؟ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا گورنر ہے اور انہوں نے اس اقدام کی اونرشپ لی ہے۔ ان کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
اس وقت عمران خان کی بہنیں، جن کی عمریں 70 سال ہیں، بیمار بھی ہیں، لیکن ان کو اپنے جائز حقوق، اُن کی ملاقاتیں اور اُن کا مناسب علاج بھی نہیں مل رہا۔ یہ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں عمران خان کی بہنیں عمر رسیدہ خواتین ہیں، ان کا بنیادی حق ہے، ان کو رہا کیا جائے، اور جتنے بھی ہمارے کارکنان ہیں جو خیبر پختونخوا اور پنجاب میں غیر قانونی طور پر زیرِ حراست ہیں، ان کو رہا کیا جائے۔ ہمارے رکن شیر علی ارباب صاحب نے بات کی، جو اُن کے ساتھ کل ہوا، یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ہمارے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کہاں ہیں، ہمیں کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ جیل میں ہیں، ہمیں پتہ نہیں ہے کہ وہ تین ایم پی او کے تحت ہیں، ہمیں پتہ نہیں ہے کہ کس قانون کے تحت وہ قید ہیں۔ حکومت بتا بھی نہیں رہی ہے کہ وہ کس قانون کے تحت آیا گھر میں نظر بند ہیں یا تین ایم پی او کے تحت ہیں، کس قانون کے تحت ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انتہائی قابلِ افسوس ہے، انتہائی قابلِ مذمت ہے، ہم اس کی مذمت بھی کرتے ہیں اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ ان کی حیثیت کیا ہے۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمرجنسی میں جو انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی ہے؟ کوئی قانون ہے اس کا؟ یعنی جو غیر قانونی اور غیر آئینی کام ہو رہے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا، یہ فاروق ایچ نائیک نے کہا، جو ڈپٹی اسپیکر صاحب آپکی جماعت پیپلز پارٹی کا سب سے مایہ ناز آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے اور وہاں جو کمیٹی بنائی ہے، یہ غیر آئینی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کوئی قرارداد لائے گی؟ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا گورنر ہے اور انہوں نے اس اقدام کی اونرشپ لی ہے۔ ان کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کے حجرے پر نامعلوم افراد کی جانب سے توڑ پھوڑ، گاڑیوں اور دیگر قیمتی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔کسی بھی منتخب عوامی نمائندے یا شہری کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہراساں کرنا، اس کے گھر یا حجرے پر حملہ آور ہونا اور اس کی املاک کو نقصان پہنچانا نہ صرف ناقابلِ برداشت بلکہ ایک سنگین قابلِ سزا جرم ہے۔ اس واقعے میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ سیاسی اختلافات کا جواب تشدد، انتقام اور خوف و ہراس سے دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدامات معاشرے میں نفرت، انتشار اور عدم برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔ افسوس کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے ایسے واقعات سنگین سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری اور منتخب نمائندے کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
ملاقات میں مہمان وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید کرتے ہوئے حکومتی وزراء کی جانب سے امیر جمعیت علمائے اسلام کی کردار کشی کی شدید مذمت کی۔ وفد نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور اہلِ خانہ و وکلاء کو ان تک رسائی نہ دینے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی ، سپیکر بابر سلیم سواتی ، صوبائی صدر جنید اکبر خان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی عمران خان، ان کی قیادت، فیصلوں اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہے۔ پارلیمانی پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی، انصاف اور عوام کے حقوق کے لیے عمران خان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے پوری ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
2۔ عمران خان کی رہائی اور حقوق
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی، عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور ان کے ملاقات اور رابطے کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، جن میں عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت شامل ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور ان کے علاج معالجے کے طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3۔ ایمرجنسی اور گورنر راج
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے فوری خاتمے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
غیر منتخب مشاورتی کونسل اور ایسے تمام انتظامات کو مسترد کرتے ہیں جن کے ذریعے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ایسے اداروں کو دیے جا رہے ہیں جنہیں آئین کے تحت کوئی الگ اختیار حاصل نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر تحریکِ انصاف کی منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، چھاپوں اور پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسے اقدامات صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھانے اور وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسا کہ بلوچستان میں دیکھا گیا ہے۔
4۔ سیاسی قیدی، گرفتاریاں اور چھاپے
تحریکِ انصاف کے رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گرفتاریوں، اغوا، چھاپوں، ہراسانی اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کی سخت مذمت کرتے ہیں، خصوصاً پارٹی کے لانگ مارچ سے پہلے، دوران اور بعد کی جانے والی کارروائیوں کی۔
امنِ عامہ کے قانون (ایم پی او) کے تحت گرفتار عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور تمام دیگر سیاسی قیدیوں اور گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز احمد چوہدری، محمد جمال احسن خان، میاں غوث محمد، ثناء اللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی، ڈاکٹر امجد علی خان، فضل محمد خان، عادل خان بازئی، مولانا سید نسیم علی شاہ، محمد زبیر خان وزیر اور جنید اکبر خان سمیت دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں، حراست اور بعض کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ناجائز طور پر گرفتار افراد کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کے مقام اور خیریت کی معلومات فراہم کرنے، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے حق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
عمر ایوب خان، شبلی فراز اور تحریکِ انصاف کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور عہدیداروں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں۔ شفاف عدالتی کارروائی، اپیل کے مؤثر حق، تمام متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی، ناجائز نااہلیوں کے خاتمے اور پارلیمانی نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سیاسی مخالفین، وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، جن میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ بھی شامل ہیں، کے خلاف غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور قانون کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
5۔ دہشت گردی اور امن و امان
دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ان دانستہ کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جن کے ذریعے عمران خان، تحریکِ انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کی جائز جمہوری اور آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اور متعدد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ یہ انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت صورتِ حال ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ان افراد کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں اہلِ خانہ اور عوام کو مطمئن کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹیو اور اسپیکر صوبائی اسمبلی ایوان کے کسٹوڈین ہیں۔ ان سمیت منتخب عوامی نمائندوں کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی آئین، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ سیاسی انتقام، غیر قانونی حراست اور آئینی حقوق کی پامالی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور اسے صفائی کا مکمل حق دیا جائے۔ فاشسٹ طرزِ حکمرانی اور ریاستی جبر سے پاکستان تحریک انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام متعلقہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور مقامِ موجودگی سے آگاہ کیا جائے اور انہیں وکلا تک رسائی سمیت تمام قانونی و آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وزیراعظم خیبر پختونخوا کے لیے کسی خصوصی مالی پیکج کا اعلان کریں گے، لیکن خصوصی پیکج تو درکنار، صوبے کے واجب الادا مالی حقوق اور بقایاجات کی ادائیگی کے حوالے سے بھی کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی اور مالی حقوق کب فراہم کیے جائیں گے؟
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے 2018 کا حوالہ دیا، جبکہ اس حوالے سے یہ بنیادی سوال موجود ہے کہ 2022 تک امن و امان کی صورتحال کیا تھی اور اس کے بعد دہشت گردی میں دوبارہ اضافے کی وجوہات کیا رہیں؟ وفاقی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے دوبارہ بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے کون سی پالیسیوں کی ناکامی ہے اور ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص ایک فیصد اضافی حصے کی مد میں گزشتہ 16 سال کے دوران خیبر پختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے دینے کا ذکر کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ صوبائی حکومت نے صرف 2024 سے اب تک پولیس اور امن و امان کے شعبے میں 400 ارب روپے سے زائد خرچ کیے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں پولیس کے لیے 191 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو صوبائی بجٹ کا تقریباً 8.8 فیصد بنتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مؤقف کے مطابق بجٹ کے تناسب سے پولیس پر اتنے بڑے اخراجات کسی دوسرے صوبے میں نہیں کیے جا رہے۔ وفاق کو ان اعداد و شمار کا بھی تقابلی جائزہ پیش کرنا چاہیے۔
وزیراعظم اگر قوم کو یہ بھی بتاتے کہ 2010 سے اب تک دیگر صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت کتنی اضافی رقوم فراہم کی گئیں تو مالی وسائل کی تقسیم کی مکمل تصویر سامنے آتی۔ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ایک فیصد اضافی حصہ دیا گیا، جبکہ بلوچستان کو رقبے اور دیگر عوامل کی بنیاد پر 2.7 فیصد، سندھ کو 2.5 فیصد اور پنجاب کو 2.3 فیصد کے اضافی حصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار کی اصل بنیاد اور مجموعی مالی اثرات بھی قوم کے سامنے رکھے جانے چاہییں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود آج تک ان کی آبادی اور ضروریات کے مطابق این ایف سی میں صوبے کے حصے پر نظرثانی کیوں نہیں کی گئی؟ وفاقی حکومت یہ بھی بتائے کہ انضمام سے پہلے تقریباً 70 سال کے دوران سابق فاٹا میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور ان کے کیا نتائج نکلے؟
صوبائی مؤقف کے مطابق 2018 سے اب تک این ایف سی میں مطلوبہ اضافی حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام (AIP) کی مد میں تقریباً 1,500 ارب روپے کی مالی کمی کا سامنا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو اس دعوے کا مکمل حساب، واجب الادا رقوم کی تفصیل اور ادائیگی کا واضح طریقہ کار پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح پن بجلی کے خالص منافع اور دیگر بجلی واجبات کی مد میں خیبر پختونخوا کے تقریباً 2,500 ارب روپے کے دعوے پر وزیراعظم نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ کیا کسی دوسرے صوبے کے وفاق کے ذمے اتنے بڑے واجبات ہیں؟ اگر وفاق ان اعداد و شمار سے اختلاف کرتا ہے تو اصل حساب قوم کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا؟
سال 2024 کے بعد وفاقی ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم میں خیبر پختونخوا کو نظرانداز کیے جانے کے خدشات بھی انتہائی اہم ہیں۔ وزیراعظم کو واضح کرنا چاہیے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں صوبے کا حصہ کتنا ہے، کتنی رقم مختص ہوئی اور کتنی جاری کی گئی۔
وزیراعظم نے کرپشن کا ذکر کیا، لیکن وفاقی سطح پر مالی بے ضابطگیوں، بدعنوانی کے خطرات اور حکومتی احتساب کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے حوالے سے 5,300 ارب روپے کا جو دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کی درست نوعیت اور تفصیل بھی واضح ہونی چاہیے۔ اسی طرح بجلی گھروں اور گیس کے بین الاقوامی معاہدوں کے باعث عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ، توانائی کی بلند قیمتوں اور ناقص پالیسیوں کی ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔
پنجاب سے گندم کی بین الاضلاعی اور بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندیوں کے باعث خیبر پختونخوا کے عوام کو مہنگی گندم خریدنے کی شکایات کا بھی جواب دیا جائے۔ خوراک کی آزادانہ ترسیل اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی ضروریات کی فراہمی وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام وفاق سے کوئی احسان یا خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے، بلکہ اپنے آئینی حقوق، واجب الادا وسائل اور مالی معاملات کا شفاف حساب مانگ رہے ہیں۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ ان تمام سوالات کے واضح، دستاویزی اور اعداد و شمار پر مبنی جوابات دیں اور خیبر پختونخوا کے واجبات کی ادائیگی کے لیے عملی اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں۔
کرک میں پولیس پر حملے کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا، اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ حملے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین، ایس ایچ او تھانہ لتمبر اور سی ٹی ڈی و بی ڈی یو کے دیگر اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین۔
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
ابھی جو اقدامات وفاقی حکومت نےکیےاس کےبعد مذاکرات ممکن نہیں، اب جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اپوزیشن اتحاد اور آل پارٹیزکانفرنس میں ہوگا، آل پارٹیزکانفرنس میں جو متفقہ فیصلہ آئےگا اسی کے تحت آگے بڑھاجائےگا،تحریک انصاف براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کرے گی،حکومت نےبدترین کردار ادا کیا،اب جو فیصلے ہونگے اپوزیشن اتحادکےہونگے.
The Chief Minister is the Chief Executive of a province, while the Speaker, as the custodian of the Provincial Assembly, is responsible for safeguarding the rights and protection of its members and upholding the dignity of Parliament.
What a tragic and deeply alarming chapter in Pakistan’s history it is that no clear information is available regarding the whereabouts of Khyber Pakhtunkhwa’s elected Chief Minister, Muhammad Sohail Afridi, and the Speaker of the Provincial Assembly, Babar Saleem Swati.
The Chief Minister and the Speaker have reportedly been missing since October 11, and their whereabouts remain unknown. What kind of system is this, where even the elected representatives of the people are subjected to such uncertainty, while the nation is kept in the dark?
This is not merely a matter concerning a few individuals; it is a fundamental question of the Constitution of Pakistan, the rule of law, the sanctity of Parliament, and the democratic mandate of the people.
If transparent information regarding the safety and legal status of an elected Chief Minister and the Speaker of a Provincial Assembly cannot be made available, what guarantee remains for the rights and protection of ordinary citizens?
Subjecting elected representatives to such circumstances, despite their constitutional positions and public mandate, raises serious questions about the very foundations of our democratic system.
Where is the rule of law in Pakistan? Have we reached a point where even the elected representatives of the people are left at the mercy of power rather than protected by the law?
Pakistan has effectively been reduced to a banana republic. A state must function in accordance with the Constitution and the law, not according to the whims, wishes, or arbitrary exercise of power by individuals or institutions.
We demand that the authorities immediately provide authentic and verified information regarding the whereabouts of Chief Minister Muhammad Sohail Afridi, Speaker Babar Saleem Swati, and other missing elected representatives.
Their legal status must be clarified without delay. If they are being held in custody, they must be produced before a competent court of law in accordance with constitutional and legal requirements.
Their fundamental constitutional and legal rights must be fully respected, and immediate access to their families and legal counsel must be ensured.
The Constitution must prevail over arbitrary power, the rule of law must be upheld, and the democratic mandate of the people must be respected.
آج اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اراکینِ قومی اسمبلی جنید اکبر خان، ڈاکٹر امجد علی خان، فضل محمد خان اور زبیر وزیر کے فوری پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے، ان کی موجودگی اور مقامِ حراست سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور انہیں اہلِ خانہ اور وکلاء تک فوری رسائی دینے کے لیے درخواست جمع کروائی۔ منتخب عوامی نمائندوں کو حراست میں رکھنے کے باوجود ان کے مقامِ حراست، قانونی جواز اور جسمانی حالت سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنا سنگین تشویش کا باعث ہے۔ قومی اسمبلی کے اراکین کے آئینی، قانونی اور پارلیمانی حقوق کا تحفظ اسپیکر قومی اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی فوری طور پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کریں، چاروں اراکین کی سلامتی یقینی بنائیں اور قانون و ضابطے کے مطابق ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ یہ معاملہ محض چند اراکین کی حراست کا نہیں بلکہ پارلیمان کے وقار، منتخب نمائندوں کے حقوق اور قانون کی بالادستی کا ہے۔ اس لیے مزید تاخیر کے بجائے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور چاروں اراکین کی حیثیت، مقامِ حراست اور حراست کی قانونی بنیادوں کو واضح کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف صوابی کے کارکن ہارون پر نامعلوم افراد نے تشدد اور انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے خلاف بیان دینے کے لیے ہراساں کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی شہری کو تشدد، دباؤ یا خوف کا نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق، آئینی آزادیوں اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ آخر ہارون کا قصور کیا ہے؟ کیا اپنے آئینی حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا، اپنی پسند کی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونا اور سیاسی عمل میں حصہ لینا کوئی جرم ہے؟
آخر کیوں عوام کو اپنے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے؟یہی عوام ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں اور امن کے لیے بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ عوامی اعتماد اور حمایت کے بغیر دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہارون اور ان کے خاندان کو مبینہ ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر تشدد یا غیر قانونی دباؤ ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ نفرت، خوف اور جبر کی سیاست کو اتنی ہوا نہ دیں کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی خلیج کو مٹانا مشکل ہو جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاسی انتقام کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
ہمارے صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اگر گرفتار ہیں تو حکومت انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کرے تاکہ وہ اپنی قانونی جنگ کا آغاز کر سکیں اور اپنے دفاع کا حق استعمال کر سکیں۔ ان کی گرفتاری، مقامِ حراست اور قانونی حیثیت کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ کسی بھی شہری کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حراست میں رکھنا اور اسے اپنے دفاع کے حق سے محروم کرنا آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور پاکستان تحریک انصاف کے 2,000 سے زائد کارکنان کی گرفتاریوں اور انہیں تاحال عدالتوں میں پیش نہ کیے جانے کی اطلاعات بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ حکومت تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر متعلقہ عدالتوں میں پیش کرے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں آگاہ کرے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس کا فیصلہ شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے کیا جائے۔ افسوس کہ آئین و قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے بجائے سیاسی اختلاف کو انتقامی کارروائیوں کا جواز بنایا جا رہا ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں، صوبائی وزراء اور سیاسی کارکنوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کریک ڈاؤن کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر ہو کر گرفتار کرنا یا اسے قانونی حقوق سے محروم رکھنا قابلِ قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر گورنر راج کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مارے جا رہے ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔
ضلع باڑہ، خیبر پختونخوا میں نہتے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ پرامن سیاسی کارکنان کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق کا احترام کرے۔ حکومت کے ایسے اقدامات سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید کشیدہ ہوں گے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال سے عوام کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ فوری طور پر تشدد اور طاقت کا استعمال بند کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کو طاقت کے ذریعے دبانے سے گریز کیا جائے۔
خیبر پختونخوا کا اپنا ایک منفرد سیاسی اور سماجی کلچر ہے، جہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور روایات کا پاس رکھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام اور مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ روز سے اب تک 2,000 تک سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت آخر جان بوجھ کر امن و امان کی صورتِ حال کو کیوں خراب کرنا چاہتی ہے اور صوبے میں سیاسی کشیدگی کو ہوا دے کر حالات کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے؟ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور اراکینِ اسمبلی کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔ریاستی اداروں کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کے بجائے آئین، قانون اور عوام کے بنیادی حقوق کا پابند بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف جنید اکبر خان سمیت تمام گرفتار اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، وزراء اور سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ریاستی طاقت، چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے سیاسی آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سیاسی اختلافات کا جواب انتقامی کارروائیوں سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے دیا جانا چاہیے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صوبے کے امن و امان کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، جو 4کروڑ عوام کے منتخب نمائندے ہیں،اور خیبر پختونخوا اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی ،پی ٹی آئی صوبائی صدر جنید اکبر ،صوبائی وزرا ، قومی و صوبائی اسمبلی ممبران کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری یا گمشدگی اور ان کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی انتہائی تشویشناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک جمہوری ملک میں عوام کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ایسا سلوک قابلِ قبول ہے؟
جس حکومت کے مینڈیٹ اور عوامی حمایت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہوں، اگر وہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اس طرح نشانہ بنائے تو یہ آئین، قانون، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے۔ ایسے اقدامات ہمیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
ہمارے مطالبات واضح ہیں:
گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق فیصلے واپس لیے جائیں۔
بانی چیئرمین عمران خان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کے حوالےسے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
پاکستان میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی دونوں قیادتوں، کو آصف زرداری ،بلاول بھٹو زرداری، میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے یہ جو فیصلہ کیا ہے، تم نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ تم نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ جس طرح آپ نے صوبے کو دلدل میں پھنسا دیا ہے، اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جو تم اقدامات کررہے ہوں ، اس کو واپس لو۔ صوبے کے حقوق بحال کرو اور جو ہمارے جائز مطالبات ہیں، ان کو مانیں۔
میں اس موقع پر پھر بھی کہوں گا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ ہم بالکل یکسوئی کے ساتھ اپنی قانونی اور آئینی جنگ لڑیں گے۔ ہم کسی اشتعال میں نہیں آئیں گے۔ ہماری پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی جو فیصلہ کرے گی، ان شاء اللہ، اس کے مطابق ہم اپنا آئندہ لائحہ عمل دینگے۔