*اپنی خواہشیں قربان کرکے ہمیں جینا سکھایا،*
خود دھوپ میں رہ کر ہمیں سایہ دیا، ہماری ہر خوشی کو اپنی خوشی بنایا اور مشکل وقت میں ہمیشہ ہمارا سہارا بنے۔ 🤍
باپ وہ ہستی ہے جس کی محبت خاموش ہوتی ہے، مگر اس خاموشی میں پوری زندگی کی قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ 💔
غریب کا آخری گھر… امیر کا آخری گھر!
اس لیے “میں، میں” کرنا چھوڑ دیں؛
اصل عزت مال و دولت میں نہیں، ایمان، عمل اور تقویٰ میں ہے۔
بلالؓ کے عمل نے جنت میں قدموں کی آہٹ دلوائی،
اور قارون کا مال و تکبر اسے زمین میں دھنسا گیا۔
سو فخر مال پر نہیں، تقویٰ پر کریں۔ 🤍
تم رات دیر تک جاگتے ہو، مگر فجر کے لیے آنکھ نہیں کھلتی۔ تمہارے پاس وقت ہے، مگر قرآن پڑھنے سے محروم ہو۔ زبان چلتی ہے، مگر اللہ کے ذکر سے محروم کر دیے گئے ہو۔ اور تم پھر بھی سوچتے ہو مجھے سزا کہاں ملی؟
*یہی تو سزا ہے۔۔۔ کہ کبھی سجدے میں سکون ملتا تھا، اب سجدے بھی بوجھ لگنے لگے۔
*جس کو اللہ ملا اس کو سب کچھ ملا!*
*جس کو اللہ نہ ملا اس کو کچھ نہ ملا!*
*اس لیے اپنی منزل اللہ کو بنائیں!*
*دنیا تو بقدر مقدر ہر ایک کو مل کے رہنی ہے!*
*چند روزہ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام کے لیے اپنی ہمیشہ ہمیشہ کی اخرت کو برباد نہ کریں!!*
*وہ تو وہ ہے جو مچھلی کے پیٹ میں بھی پُکار سُن لیتا ہے، اور ہم ہیں کہ سجدوں میں بھی مانگ کر ذرا سی دیر ہو جانے پر اُس سے مایوس ہو جاتے ہیں
*لَآ إِلَٰـهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحٰـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ*
: *”تیرے سِوا کوئی معبود نہیں، تیری ذات پاک ہے،
اگر دل پر ملال ہے،آنکھوں میں نمی،اور زندگی کی راہیں بےمقصد سی دکھائی دیتی
`تو یاد رکھنا
*🎀ہر درد کی ایک میعاد ہوتی ہے
*🎀ہر رات کی اک سحر ہوتی ہے،اور
ہر بے چین رو�� کے لئے رب کی رحمت میں سکون ہوتا ہے
`بس
اپنے رب سے رشتہ نہ توڑنا، کبھی کبھی معجزے صرف ایک دعا کے فاصلے پر ہوتے ہیں
قادیانی دنیا کا بدترین کافر ہے
میرا مذہب قادیانی کو مرتدکافر کہتا ہے
میرا وطن قادیانی کو کافر کہتا ہے
میں ذوالفقار علی بھٹو کے ان ہاتھوں پر قربان جن سے دستخط کرکے قادیانی کو کافرلکھا
میں ان ماؤں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ختم نبوت کےکاز پر اپنے بیٹے قربان کیے
جس نے ایف آئی آر درج کرنی ہے مجھ پر کردے
میں اعلانیہ طور پر قادیانیوں کو کافر کہتاہوں کہتا رہوں گا
آیت نور کیس میں ایک نئی تصویر نے چند اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اگر اس تصویر کا مقام اور تاریخ وہی ہیں جن کا دعویٰ کیا جارہا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ پولیس آیت نور کی لاش ملنے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے اس علاقے تک پہنچ چکی تھی یا نہیں؟ اور اگر پہنچ چکی تھی تو اس وقت کن کن مقامات کو سرچ کیا گیا تھا؟
ہمیں ایک تصویر موصول ہوئی ہے جس کے موبائل گیلری اسکرین شاٹ پر 18 اگست 2026، صبح 11:11 بجے کا وقت دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تصویر اس ویئر ہاؤس کے قریب کی ہے جس کے ایک کنویں سے بعد میں آیت نور کی لاش برآمد ہوئی، اور تصویر میں پولیس ٹیم کے بعض اہلکار موجود ہیں۔ تاہم ہم فی الحال نہ تصویر کے اصل وقت و مقام اور نہ اس میں موجود افراد کی شناخت کی آزادانہ تصدیق کرسکے ہیں۔
اسی لیے اسے الزام کے بجائے تصدیق طلب تفتیشی نکتے کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ اتنا ضرور بتاتا ہے کہ ان دنوں ایس پی ثمینہ ظفر اور دیگر پولیس ٹیمیں آیت نور کی تلاش میں سرگرم تھیں اور پولیس نے یونیورسٹی و ملحقہ علاقوں سمیت وسیع سرچ آپریشن کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آیت نور کی لاش بعد میں 24 اگست کی رات یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک ویئر ہاؤس کے غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد ہوئی۔
اب اصل سوال پولیس سے یہ ہونا چاہیے کہ 18 اگست کے سرچ آپریشن کا تحریری ریکارڈ کہاں ہے؟ اس دن کون سی ٹیم کن علاقوں میں گئی، کیا مذکورہ ویئر ہاؤس میں داخل ہوئی، کیا کنویں کو دیکھا یا سرچ کیا گیا، اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ اسی طرح اس علاقے کے دستیاب CCTV کی مکمل timeline سامن�� آنی چاہیے۔ اگر آیت نور کسی کیمرے میں اس سمت جاتی دکھائی دیتی ہے تو آخری بار اسے کہاں دیکھا گیا؟
بعد میں اس مقام تک کون آیا؟ متعلقہ کیمروں میں درمیان کے اوقات کی footage موجود ہے، حذف ہوئی، overwrite ہوئی یا پولیس نے حاصل ہی نہیں کی؟ ان سوالات کا جواب قیاس سے نہیں بلکہ اصل DVR، سرچ لاگ، روزنامچہ، پولیس گاڑیوں کی نقل و حرکت اور متعلقہ اہلکاروں کے قانونی طور پر حاصل کیے گئے location records سے مل سکتا ہے۔
بعض ذرائع یہ الگ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ جس دن لاش برآمد ہوئی، اس روز دوپہر کے وقت بھی پولیس کی ایک ٹیم مذکورہ جگہ کے قریب موجود تھی۔ ہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکے۔ اگر پولیس اسے غلط قرار دیتی ہے تو معاملہ آسانی سے verify ہوسکتا ہے
اس روز کے CCTV، پولیس روزنامچے، ٹیم کی movement record اور دیگر دستیاب تکنیکی شواہد دیکھ لیے جائیں۔ اور اگر پولیس واقعی پہلے وہاں موجود تھی تو پھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ لاش رات گئے کیوں برآمد ہوئی اور دوپہر کی موجودگی کا مقصد کیا تھا۔ سوال اٹھانا الزام لگانا نہیں۔ اس کا مقصد واقعات کی درست timeline سامنے لانا ہے۔
اسی طرح جاری یا ازسرنو تفتیش کو کسی ملزم کی بے گناہی یا کسی پولیس افسر کے قصور کا ثبوت سمجھنا بھی درست نہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے تحقیقات پر اعتراضات کے بعد نئی ٹیم سے ازسرنو تفتیش کی سفارش کی، جبکہ آئی جی خیبرپختونخوا نے کیس کی نگرانی انویسٹی گیشن برانچ کے سپرد کی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے کہ ہر سوال کا جواب دستاویزی اور فرانزک ثبوت کے ساتھ دیا جائے۔ آیت نور کیس میں سوال بہت ہیں؛ جواب پولیس کے پاس موجود ریکارڈ دے سکتا ہے۔