مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں آزاد کشمیر میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صدر مسلم لیگ ن آذاد کشمیر شاہ غلام قادر، رانا ثنااللہ، انوشہ رحمان کی شرکت۔
نواز شریف نے آج گلگت بلتستان کے باسیوں سے اپنے رشتے کی تجدید کی۔ اپنی وزارت عظمیٰ کے زمانے اس خطے کی خدمت کی فاصلے کم کیے سڑکیں بنائیں ۔ اربوں روپوں سے سا لوں سے زیر تعمیر لواری کو مکمل کیا ۔ بجلی کی سپلائ کو قابل اعتماد بنایا ۔ یہ سفر ادھورا رہا آج پھر نواز شریف اس علاقے کو ترقی کی منزلیں طے کرنے کی نوید سنا رہا ھے ۔
مجھے کہا گیا کہ بیواؤں کا کوٹہ 40 سے 50 فلیٹس کا ہے۔میں نے پوچھا کہ کتنی بیوائیں ہیں؟ انہوں نے کہا 150 سے 160 کے قریب۔میں نے کہا کہ ان سب کو فلیٹس دے دیں، مریم نواز
جب میں وزیراعلیٰ بنی تو میرے اپنے لوگ کہتے تھے کہ یہ مافیا، پولیس، سی ٹی ڈی اور بیوروکریسی کیسے چلائے گی؟ لیکن آج ایک خاتون نہ صرف سی ٹی ڈی چلا رہی ہے بلکہ پولیس اور پنجاب کے 15 کروڑ عوام کے صوبے کو بھی چلا رہی ہے،مریم نواز
اسے کہتے ہیں اصل تبدیلی
میں ایک ایسی فیملی سے آئی ہوں جہاں خواتین کو عزت دی جاتی ہے مگر زیادہ تر گھر کے دائرے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ میں ایک ایسی جماعت سے ہوں جہاں کبھی فرنٹ رو میں خواتین کم دکھائی دیتی تھیں۔
آج میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں۔ پنجاب کی کابینہ میں خواتین موجود ہیں، کمشنرز اور ڈی پی اوز بن رہی ہیں۔ یہ تبدیلی حقیقت ہے۔