ہم پاٹے خان اور پانڈے جی کے درمیاں پھنسے ہوئے ہیں، سقراط و بقراط ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے یہ غلط، اس کو سپورٹ کرو، اُس کو پڑ جاو۔ انہیں ان کا باپ واٹس ایپ پہ یہ سب بتاتا ہے۔
ڈیڑھ فٹئیے اپنی اپنی ڈیڑھ انچی مسیت کھولے رنگ برنگے چورن بیچتے اُجلے لفظوں کی اُترن پہنے غلیط چورن فروش۔
Never have women been humiliated for using their constitutional right to protest peacefully in any democracy let alone in a one that is muslim.
This is a planned campaign to depoliticise women in the country.
The clampdown and terror campaign against women is being done so that their men would discourage their political participation.
And now there are increasingly reports coming that some of the women are being molested and harassed in jail.
An immediate inquiry needs to be held on the police firing on unarmed protesters killing at least 25 and injuring hundreds.
In France despite protesters hurling petrol bombs at the police, not once were they fired upon by the police
Under the smokescreen of arson, which any independent investigation will show was pre planned to justify the crackdown on PTI, there is no mention in the media discourse of the massive violations of our fundamental right to protest peacefully
And no mention of an inquiry into the killing of at least 25 peacefully protestors and wounding of around 600.
سابق وزیراعظم عمران خان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام تیسرا کھلا خط:
میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔ اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔
میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من حیث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔
میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے:
۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا:
اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی کے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔
یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فوج پر گر رہا ہے-
۲ - جمہوریت کا خاتمہ:
جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد سے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
الیکشن آڈٹ کے خودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 نئے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔
الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاکے پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔
1/3
ناپاک فوج ۔ مردہ باد
حرام خور فوج ۔ مردہ باد
کرائے کی فوج ۔ مردہ باد
ڈالری فوج ۔ مردہ باد
جرنیلی مافیا ۔ مردہ باد
کرپٹ فوج ۔ مردہ باد
تم سے اب نفرتیں انتہا کی ہیں!
یہ نفرت کسی ایک جرنیل سے نہیں، بلکہ غلاظتوں میں لتھڑے اس ادراے سے وابسطہ ہر فرد سے ہے)
@SabaZMOfficial آپ کی توجہ حاصل ہے تو عرض ہے، آپ کے چیتے کی دُم بہت لمبی ہو گئی ہے، چلتا ہے تو لچھے دار لفاظیوں میں اُلجھ اُلجھ جاتی ہے، آپ بڑی ہیں، کان کھینچئیے یا دُم پہ پیمپر بندھوائیں۔
@blackhorizon181@enkidureborn وہ حضرت کہاں میں دو ٹکے کا چار فالورز والا کہاں، نا ایسا کوئی شوق ہے نا بنتا ہے۔ جو بات غلط ہے، غلط کہا ہے کہیں گے۔
غلطی ہونا، غلط فہمی ہونا، کوئی بڑی بات نہیں۔ غلطی کر کے اُس پہ ہٹ دھرمی برداشت نہیں!
غلطی ہوئی ہے اُس کو مانیں، نقصان ہوا ہے قیمت چکائیں
*** بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی روکا ***
بیشرمی اور بیغیرتی کی کوئی انتہا ہوا کرتی ہے؟
سُن رہا ہے نا تو؟ @enkidureborn پوسٹ ڈیلیٹ نہیں کرنی تھی!
یقینا وہ جو اپنی گاف میں گھسے رہتے ہیں، اُن کے یہاں نہیں ہوا کرتی۔ آپ اپنی گاف سے نکلتے کسی اور کی سُنتے تو نا۔ آپ تو خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں، چلاک اور موقع شناس آپ خوب ہیں یہ لکھ کے دے سکتے ہیں، مگر سیانا کوا ہی گوں کھاتا ہے، اور آپ تو جھوم جھوم کر گوبر کھاتے ہیں اوروں کو کیک بتاتے ہیں۔
سہیل آٖفریدی نومبر میں رنگ دکھا رہا تھا، دسمبر میں اندھے کو بھی نظر آ رہا تھا، مگر آپ جیسے جنوری فروری اور مارچ تک اپنی ہی گاف میں منہ دیے چند سقراطوں و بقراطوں نے سوشل میڈیا کے پانڈے خان بن کر لوگوں کو پوسٹ میں اور جو یوں نہیں مانے ان کے ڈی ایم میں گھس گھس کر منایا کہ کوئی پتھر سے نا مارے میرے لونڈے کو۔۔۔ اور یوں سہیل آفریدی گینگ کو وہ وقت دیا جس کو استعمال کر کے سہیل آ فریدی نے ناقابلِ تلافی نقصان کیا ہے۔ اس نقصان میں آپ جیسے ٹکے ٹکے کے گاف میں منہ دیے دو ٹکے کے سقراط و بقراط برابر کے شریکِ جرم ہیں۔
اور آپ اس قدر بیشرم ہو کہ اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرو گے، اپنی لفاظیوں کا مجرہ کر کر کے گھنگرو توڑ دو گے۔ ان لفاظیوں کی بتی بنا کر موڑ کے لیجئے حضور، اور ضمیر نام کی کوئی شے اگر زندہ ہو تو دو گھونٹ پی لیجئے، میرا دعوی ہے دو گھونٹ لیں گے دوبارہ کبھی آئینہ دیکھنے کی ہمت نا ہو گی۔
*** بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی روکا ***
بیشرمی اور بیغیرتی کی کوئی انتہا ہوا کرتی ہے؟
یقینا وہ جو اپنی گاف میں گھسے رہتے ہیں، اُن کے یہاں نہیں ہوا کرتی۔ آپ اپنی گاف سے نکلتے کسی اور کی سُنتے تو نا۔ آپ تو خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں، چلان اور موقع شناس آپ خوب ہیں یہ لکھ کے دے سکتے ہیں، مگر سیانا کوا ہی گوں کھاتا ہے، اور آپ تو جھوم جھوم کر گوبر کھاتے ہیں اوروں کو کیک بتاتے ہیں۔
سہیل آٖفریدی نومبر میں رنگ دکھا رہا تھا، دسمبر میں اندھے کو بھی نظر آ رہا تھا، مگر آپ جیسے جنوری فروری اور مارچ تک اپنی گاف میں منہ دیے چند سقراطوں و بقراطوں نے سوشل میڈیا کا پانڈے خان بن کے لوگوں کو پوسٹ میں اور جو یوں نہیں مانے ان کے ڈی ایم میں گھس گھس کر منا کرتے رہے کہ کوئی پتھر سے نا مارے میرے لونڈے کو۔۔۔ اور یو وہ وقت دیا اس کو جس کو استعمال کر کے سہیل آ فریدی نے وہ نقصان کیا ہے جس میں آپ جیسے ٹکے ٹکے کے گاف میں منہ دیے دو ٹکے کے سقراط و بقراط برابر کے شریکِ جرم ہیں۔
اور آپ اس قدر بیشرم ہو کہ اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرو گے، اپنی لفاظیوں کا مجرہ کر کر کے گھنگرو توڑ دو کے، ان لفاظیوں کی بتی بنا کے موڑ کے لیجئے حضور، اور ضمیر نام کی کوئی شے اگر زندہ ہو تو دو گھونٹ لیجئے، میرا دعوی ہے دو گھونٹ لیں گے دوبارہ کبھی آئینہ دیکھنے کی ہمت نا ہو گی۔