ٹیوٹا خیبرپختونخوا کے ملازمین بھی تنخواہوں سے محروم!
بار بار متنبہ کرنے کے باوجود تنخواہی تاخیر سے آنا اور فنڈز کا نہ ہونا ملازمین کے لیے باعث پریشانی ہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی سے سخت کارروائی کا مطالبہ
موجودہ مینجمنٹ نے مسلسل وعدوں کے باوجود سی پی فنڈز کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا
**19 اکتوبر کو KP TEVTA میں انقلاب کا اعلان ہوا۔
سی پی فنڈ، واجبات، سروس اسٹرکچر، ٹریننگ پروموشنز؟ کیا ہوا ۔نہیں
لیکن:
ہیڈ آفس الاونس ✔️
RETP الاونس ✔️
NAVTTC کلسٹر الاونس ✔️
ایمرجنٹ بھرتیاں ✔️
کیا یہی انقلاب ہے؟**
ہم خیبر پختونخوا TEVTA کے محنت کش ملازمین کی نمائندہ اور فعال تنظیم ہیں۔ ادارے کی بہتری، ملازمین کے حقوق اور طلباء کی معیاری تعلیم کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، مگر گزشتہ 8 سالوں سے TEVTA مینجمنٹ ملازمین کو جائز حقوق دینے میں مسلسل ناکام ہے، جو نہایت تشویشناک اور قابلِ غور ہے
ہیلتھ و لائف انشورنس، ٹرانسفر گرانٹ اور CP فنڈ کیسز ابھی تک حل نہیں۔
سیکرٹری انڈسٹری اور چیف سیکرٹری کے اقدامات قابلِ تعریف،
اب ضرورت ہے عمل درآمد کی۔ ✅
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب سے گزارش کہ ٹیوٹا کو وژنری قیادت کے سپرد کیا جائے۔
آل TEVTA ایمپلائز ایسوسی ایشن ادارے اور ملازمین کے حقوق کے لیے سرگرم ہے۔
معذوری، PhD، اور M.Phil الاؤنس پر شکریہ
مگر Head Office الاؤنس کا ذکر نہ ہونا افسوسناک۔
CP فنڈ صرف اگست 2023 تک جمع؟
تو 2023–2025 کا فنڈ کہاں ہے؟
انکوائری کیوں نہیں؟ ،
اصل مسئلہ غیر ضروری بھرتیاں ہیں۔
پبلک سرونٹس کو ترقی کے لیے 10 سال،
جبکہ سول سرونٹس کو صرف 5–7 سال؟
Job Placement Officers کے لیے کوئی پروموشن پاتھ نہیں۔
Store Keeper کو گریڈ 10، Female Administrator کو گریڈ 18 دیا جائے۔ ⚖️
8 سال سے کوئی پروموشن نہیں —
یہ KP (Seniority) Rules 1993 کی خلاف ورزی ہے۔
خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ملازمین کے سی پی فنڈ میں بے ضابطگیاں
پچھلے تین سالوں سے سی پی فنڈ کی کٹوتی تو ہو رہی ہے لیکن رقم ملازمین کے اکاؤنٹس میں جمع نہیں کی جا رہی۔ یہ سنگین زیادتی ہے، اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل ہے۔
خیبرپختونخوا ٹیوٹا ملازمین کے حقوق پر کون قابض، کیا کوئی پوچھنے والا بھی ہے؟
آڈٹ رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹیوٹا کے ملازمین کی سی پی فنڈز میں بے ضابطگیاں ہوئیں
رپورٹ کے مطابق سال 2023-24 کے دوران حکومت کو 110 ملین روپے جمع کرانے تھے جو کہ جمع نہ کروای�� گیا، اور یہ رقم مالی سال 2023-24 کے آخر تک بڑھ کر 123.86 ملین روپے ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق بینک اکاؤنٹ میں اختتامی بیلنس 6.198 ملین روپے دکھایا گیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ملازمین کے فنڈ اور اس پر حاصل ہونے والا منافع استعمال کیا گیا مگر حصہ جمع نہیں کروایا گیا، جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
@akamran111 آڈٹ رپورٹ کے بعد بھی احتسابی اداروں اور محکمہ خزانہ نے کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔
ذمہ داران: انتظامی سربراہان، فنانس ڈپارٹمنٹ اور گورننگ باڈی جنہوں نے ملازمین کے حق پر ڈاکہ ڈالا۔
مطالبہ: ملاز��ین کے فنڈز فوری بحال کیے جائیں اور ذمہ داران کا سخت احتساب ہو۔