ماں باپ سے زندگی کیسے کیسے امتحان لیتی ہے ۔ اولاد کے معاملے میں سمجھ سے باہر ہے ۔
کہیں کہیں کسی حقدار تک پہنچ کر دل کرتا ہے انسان اپنا گریبان پھاڑ کر کہیں جنگل کو نکل جائے پاگل ہو جائے یہ سب نہ سنے جس وجہ سے وہ گھر امداد کا حقدار بنا ۔
۔۔۔۔۔۔
ایک باپ کی 18 سال کی جوان بیٹی جس کی اب شادی کی عمر ہے اس کو اس کے گھر کا کرنا تھا ۔
اور رب کی دی آزمائش کی وجہ سے وہ باپ پچھلے دس سال سے اس بیٹی کو کہاں نہین لے کر گیا جس ہسپتال مین پتا چلا علاج کو لے گیا۔
اس کی حیثیت طاقت وہی 5 بھینسین تھین جو ان سالون مین وہ بیچ کر اپنی بیٹی پر لگا چکا ہے ۔
اب اس کے پاس بس کھیتوں کے درمیاں ایک دو کمروں والا گھر بچا ہے۔
اور بیٹی پچھلے 6 ماہ سے بلکل ہی بیٹھ گئی ہے اب وہ چل ہی نہین سکتی ۔
ویل چئیر دے کر آیا ہون ۔
مین اور اپنا سینہ چیر کر ایا ہون ۔
کیسی تکلیف تھی اس گھر مین ۔
۔۔۔۔۔۔
ابھی یہ تکلیف اس کو سہنے میں ہمت چائیے تھی ۔
کے اب جوان بیٹا بھی اسی سیمٹیم�� کے مطابق معذوری کی جانب چل پڑا ہے ۔
بیٹی کی بھی پہلے زمین سے ایڑیان اٹھیں۔
پنجوں پر چلنے لگی ۔ پھر جسم کمزور ہوا ۔ اور چلتے چلتے منہ کے بل کر پڑنا توازن ختم ہو جانا۔
اور بیٹا بھی اب اسی مرض کی جانب چل دیا ہے ۔
اور حیرت اس بات پر کے باپ نے اس قدر مجبور ہوتے ہوئے بھی ایک بار نہین بولا مجھے کچھ چائیے ۔
کچھ دے کر جاو۔
بس ایک ہی بات رب خیر کرے گا۔
مین جتنی ہمت رکھتا ہون علاج کروا رہا ہون ۔
باقی زندگی کتنی مشکل ہے یہ پیدا کرنے والا جانے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
انکا کوئی علاج کروا سکے تو میں اس گھر تک اس بندے کو پہنچا دوں گا ۔
یہ جو عادی مجرم بھیک منگے سڑکوں پر گھوم رہے ہوتے ہین خدا را ان سے دور رہیں۔
وہ حقدار نہین حرام خور ہین ۔
آپ کو مدد کرنا ہے تو ایسے گھروں مین جائیں ایسے لوگوں کو ڈھونڈیں۔ پورا سال دس روپے روز کے ایک جگہ رکھیں سال ختم ہونے پر وہی پیسے کسی حقدار کی زندگی کے چند معاملات سنوار سکتے ہین ۔
#SaqibAllyana
پچھلے سال جب پنجاب حکومت نے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے انکار کر دیا اورُکسانوں کو پنجاب کے باہر گندم بیچنے بھی نہیں دی تو میں نے خبرادرا کیا تھا کہ اگلے سال گندم کا بحران ہو گا، اب کسان سے پینتیس سو کی گندم لی گئ ہے لیکن بازار میں گندم چار ہزار پر پہنچ گئ ہے اور جلد پینتالیس سو بھی ہو گی، آٹا بحران سر پر کھڑا ہے حکومت کو کمی پوری کرنے کیلئے یوکرائن سے گندم منگوانی ہو گی جس کی قیمت پانچ چھ ہزار سے کم ہر گز نہیں ہو گی، اس شاندار پالیسی کے خالق اس وقت باکو میں تندوروں پر روٹیاں لگا رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں، حیران ہوں ایسے مسخرے کیوں عو��م پر مسلط کئے جاتے ہیں جو پچاس سال سے ملک کو ناکام ریاست بنانے کا فرض ادا کر رہے ہیں؟
🔴 ترکیے کے مرحوم سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان:
➖ میں حج پر جانا چاہتا ہوں۔
➖ مجھے حج پر جانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
➖ میں ترکش ایئر لائنز یا سعودی عربین ایئر لائنز کے ساتھ پرواز کروں گا۔
➖ جب میں ان کے ساتھ اڑان بھرتا ہوں تو میں یہ سوچ کر اندر ہی اندر خوشی محسوس کرتا ہوں، "اچھا، میں مسلم ممالک کے کاروبار میں اضافہ کر رہا ہوں۔"
➖ تاہم، بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پرواز کرنے کے لیے ترکش ایئر لائنز یا سعودی عربین ایئر لائنز کا IATA کا رکن ہونا ضروری ہے۔
➖ آئی اے ٹی اے ایک راکفیلر تنظیم ہے۔
➖ آئی اے ٹی اے کا رکن بننے کے لیے، آپ راکفیلر کو ٹکٹ کی قیمت کا 9% ادا کرنے کے ��ابند ہیں۔
➖ مطلب میں ٹکٹ کی قیمت کا 9% ادا کیے بغیر یہاں سے حج پر نہیں جا سکتا۔
➖ اچھا، پھر میں ہوائی جہاز سے نہیں جاؤں گا، بحری جہاز سے جاؤں گا۔
➖ کھلے سمندر میں جہاز کے سفر کے لیے، اسے لائیڈ کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
➖ لائیڈ بھی ایک Rothschild تنظیم ہے، اور وہ وہاں بھی 9% ادا کرتے ہیں۔
➖ دنیا کا حال دیکھو۔
➖ میں کسی یہودی کو اپنے حج کے کرایے کا 9% ادا کیے بغیر اپنے گھر سے حج کے سفر پر نہیں نکل سکتا۔
➖ یہ کیسی دنیا ہے؟
Honoured to have such beautiful remarks on Parvaz by Dr Fatima Fayyaz, a true gem of this era. Her comments on Parvaz show the importance of Parvaz for readers. Parvaz is a must-read, especially for youth. Get it now...!
#photooftheday#beautiful#urduadab#authors#wasil#tatil
Review on Parvaz by a great philosopher & writer of today's world Dr Idrees Azad. His comments on Parvaz are a matter of honour for Parvaz's author. Grateful...!
@idreesazad#newyear#blessed#writer#autumn#author
”عتیق! منظر تم لائے ہو، آنکھیں یہ (لوگ) کھولیں گے۔۔۔ تم نے اپنا کام کر دیا۔“
~ ڈاکٹر خرم الٰہی کا تبصرہ بر پرواز
آج ہی پرواز منگوائیں، زندگی جینے کی شروعات کریں۔ زندگی گزارنے کے گناہ سے توبہ کروانے والی عتیق واصل کی پرواز
#Philosophy#KhurramEllahi#Parvaz#BooksWorthReading
آپ تدریس سے وابستہ ہیں تو آپ کو پرواز ضرور پڑھنی چاہیے۔ طلبہ کو بھی پڑھانی چاہیے۔یہ نوجوانوں کو زندگی کا مطلب سمجھاتی ہے اور اسکی اہمیت بتاتی ہے۔ نوجوانوں کو فکری اور نفسیاتی طور پر مضبوط بناتی یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ سے بچائیں اور زندگی جینا سکھائیں۔