وعلیکم سلّام خان صاحب۔
آپکے دو لفظ تعریف کے ہمارے لئے حوصلہ افزائی کے پہاڑ ہے۔
حقیقی آزادی کی جیدوجہد جاری رہے گی انشاءاللہ
( فتح اللہ ہمارے طرف سے بھی قائد کو سلام )
میرے پاکستانیو جیت تو آپ گئے ہیں لیکن اپنی جیت پر مہر ثبت کرنے تک ثابت قدم رہنا ہے آپ نے۔ انشاء اللہ وفاق، پنجاب اور کے پی میں عمران خان کی حکومت بنے گی۔ نتائج تبدیل کرکے ہماری واضح اکثریت کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس کو روکنے کے لیے آئین اور قانونکے دائرے میں ہمارا ثابت قدم رہناضروری ہے۔ انتظامیہ اور قا��ون نافذ کرنے والوں کو اپنے حلف پر عمل کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئیے۔
اہم ترین
غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اس وقت
ن لیگ پنجاب میں 70 فیصد
بلوچستان میں 85 فیصد
سندھ میں 90 فیصد اورخیبرپختونخواہ میں 100 فیصد *ذلیل ہو رہی ہے۔🤗*
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عمران خان صاحب کی قیادت میں کل آپ کی اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ سب نے کسی جھوٹی خبر پر کوئی توجہ نئی دینی ہے۔ عمران خان صاحب کاپوری قوم کے لئے یہ پیغام ہے کے ۸ فروری کو آپ سب نے نکلنا ہے اور ووٹ دینا ہے۔
#اب_فیصلہ_عوام_کرےگی
#ووٹ_ڈالو_خان_نکالو
ان کا جھوٹا پراپیگنڈا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کی مدد اور عوام کے ووٹ سے بانی چیرمین عمران خان کی تاریخی فتح کا دن ہے۔ اس تاریخ فتح میں شمولیت کے لئے ہر حال میں کپتان کے نامزد امیدوار کو اپنا ووٹ دینا ہے۔
#نکلو_کپتان_کو_ووٹ_دو
ایک انسان کا یقین اس کا ایمان کتنی قسمتیں بدل سکتا ہے؟
ایک شخص تھا جو ایک ہاری ہوئ ٹیم کو لے کر کہہ رہا تھا ہم جیتیں گے۔ کیسے؟
کس بنیاد پر کوئ مانتا۔۔؟
پھر وہ جیت گیا۔
ایک شخص تھا کہ جس کو ہر شخص نے کہا تمہارا خواب تعبیر نہیں ہوسکتا۔ کوئ جمع، تفریق، کوئ دلیل کوئ منطق نہیں کہ جو اس کو ممکنات میں بتا سکے۔۔ اس نے تعبیر کھڑی کرکے دکھائ۔ ایک بار نہیں تین بار۔ ہر مخالف، ہر ناقد کی آنکھوں کے سامنے۔ ہر اوچھے ہتکھنڈے، ہر منصوبے کے برخلاف۔ اس نے اپنی تعبیر تعمیر تو کیا کی، اس کی تعمیر اللہ کی قدرت سے کتنوں کی سانسوں کا وسیلہ بنی۔
سوچتا ہوں یہ کیسا ایمان ہے؟
۷۵ سالوں کا تجربہ تھا منصوبہ سازوں کا۔ کتنے بڑے نام زیر کیے؟ کون کون راندۂ درگاہ ہوکے بے نام و نشاں ہوا، اور باقی رہا تو کرنے والوں کا نام۔۔ دیدۂ بینا ہو تو کہے کہ بطورِ عبرت رہا، مگر عبرت حاصل کس نے کی؟ ہر ایک کے بعد دوسرے کا وہی طریق۔ سبق سیکھا تو ایک کہ ہم جو چاہیں سو کریں!
اور سو کیا۔ خاک ہوگئے وہ کہ جنہوں نے للکارنے کی ہمت کی۔ کرنے والے تو عبرت نا سیکھیں کہ حشر کس نے دیکھا ہے مگر جہانِ فانی تو نظروں کے سامنے ہے کہ جہاں تمہیں مثال بنا ڈالا۔۔ پھر کون لڑے اور کتنا لڑے۔ بس جو مِل رہا ہے صبر شُکر سے۔ جُھک کر سمیٹ لو۔ قوم سے کیا لین دین اپنی تو سنوار لو جو سر تسلیم خم کر کے سنور رہی ہے۔
مگر ایک شخص اور اس کا ایمان!
“سادہ، خوش فہم، ٹکے ٹکے کے لوگوں سے بھی دھوکا کھا جاتا ہے”۔آج دانتوں میں انگلیاں دبائے کھڑے ہیں سب ذی عقل، ��الاک، فہمیدہ۔۔ جہاں دیدہ۔۔
اس کی سادگی ربِ کامل پر بھروسہ اور خوش فہمی اس کا ایماں نکلی۔
اور ایک دنیا کے جو اس کے مدار میں گھوم رہی ہے کہ “کی محمد (ص) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔۔ یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں”۔
سوچتا ہوں وہ جو اپنے سامنے پھیلے سمندر کو دیکھ کر آسمان تکتا تھا، تو آنکھوں کے کنارے سے شُکر قطرہ قطرہ بہہ نکلتا کوئ اُسے جا کر بتاتا بھی ہوگا کہ اس سادہ دل کا ایمان کیسے زمینی حقائق سے نبرد آزما ہے؟
کیا وہ جانتا ہوگا کہ اس کی خوش فہمی حقیقت بن کر راستوں میں رقصاں ہے؟
یہ کہ اس کی نیک نیتی ایک ملت کا جنون بن گئی ہے؟
سوچتا ہوں وہ “مردہ قوم”، وہ “خود غ��ض”، “بزدل”، “کسی کے لیے نا کھڑی ہونے والی” قوم کہ جس کی “بے عملی” کی آڑ میں کتنوں نے کتنوں کا لہو بیچا۔
کتنی وفاداریوں کی قیمتیں لگیں۔
کتنے نا خدا خدا بن بیٹھے؛ وہی، آج اُس کی قوم بن کر کیا سے کیا ہوگئی ہے؟
کوئ ��و جاکر اُسے بھی بتا آئے۔
کوئ اُسے تو خبر کرے اُس کا خواب تعبیر کی منزل پر کھڑا حقیقت پسندوں کا مونہہ چڑا رہا ہے۔
جس کی تصویر پر پابندی ہے وہ آنکھوں میں بس رہا ہے۔
جس کے نام پر قدغن ہے اس کا ذکر اٹھی ہتھیلیوں پر آل اولاد سے پہلے دہرایا جارہا ہے۔
جس کا نشاں گم کرنا تھا آج ہر نشان اس کا ہے۔
جس کو راندۂ درگاہ کرنا تھا آج تخت و تاج کو غرور بس اس کی نسبت سے ہے
آج وہ ریاست ہے اور ہر طاقت تماشائ۔
سوچتا ہوں ایک شخص کا ایمان کتنی تقدیریں بدل دیتا ہے۔
کیسے ریوڑوں کو لشکر بنا دیتا ہے۔