26 نومبر کو اسلام آباد D chowk میں ہونے والے قتل عام پر اکنامک ٹائمز کی رپورٹ
بے شرموں کس منہ سے انڈیا پر بات کررہے ہو جبکہ تمھاری اپنی عوام نے اتنا ظلم سہا ہے
It's beyond heartless.
1,081 days in a death cell under the harshest reported conditions. Eight months without seeing his family.
شفاف انتخابات اور انصاف مانگنے پر اتنی بڑی سزا؟
#FreeImranKhan#pakistan
We don't know how you are, but we know this:
The One in whose Name you remain in the custody of the zalim, is with you.
No one can protect you better than Him. Allah Hoo.
Miss you!
#freeimrankhan
"یہ فرعون ہیں۔ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے عمران خان کے سارے حقوق معطل کردئیے ان کو قید تنہائی میں ڈال کر ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے یہ عدالتیں انصاف نہیں دینگی اب لوگ صرف خیبرپختونخواہ سے نہیں پورے پاکستان سے آئیں گے ۔جب تک ہم پریشر نہیں ڈالیں گے عمران خان کے حقوق بحال نہیں ہونگے"۔ علیمہ خان
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
بلو پاسپورٹ کی حکمت عملی ابھی کرتے ہیں لوگ نہیں نکلتے انقلاب آئے گا تب نکلیں گے ان سب سے تنگ آہ کر
عمران احمد خان نیازی کی ہمشیرہ علیمہ خان اپنے بھائی کی رہائی کے لیے خود میدان میں اتر آئیں
اخگرام میں علیمہ خان کا پرتپاک اور شاندار استقبال
علیمہ خان کنٹینر پر پہنچ گئیں
تیمر گرہ میں کارکنان کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے ہمیں حوصلہ ملا ہے آگے ہم نے عمران خان کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہے ۔
علیمہ خان کا تیمر گرہ استقبال سے خطاب
آج اندرونی بیرونی غداروں کو آگ لگ چکی ہے اب یہ سب غدار ملُکر کوشش کریں گے کہ علیمہ خان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے
عمران خان کی رہائی کے لیے علیمہ خان کا ایسے عوام میں جانا نہایت ضروری تھا