سپریم کورٹ نے کل اپنے تفصیلی فیصلے میں میری 9 مئی کی گرفتاری کو مکمل طور پر غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا۔
میری گرفتاری کے بعد ملک بھر میں کئے جانے والے احتجاج کی نوبت محض اس لئے آئی کہ ہائیکورٹ کے اندر سے مجھے اغواء کرکے ایک غیرقانونی اور غیرآئینی کام کیا گیا۔
سوال جس کا جواب درکار ہے وہ یہ کہ مجھے غیرقانونی طور پر گرفتار کرنے پر کیا کسی کا محاسبہ کیا گیا؟ ایک غیرآئینی کام کرنے پر کیا ڈی جی نیب یا وزیرداخلہ سے باز پرس کی گئی؟
اس کے برعکس جب لوگ میرے اغواء کےخلاف نکلے اور انہوں نے پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کیا تو اسے میری جماعت کیخلاف کریک ڈاؤن کے ایک جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ محض اڑتالیس گھنٹوں میں میرے 10 ہزار سے زائد کارکنان اور ذمہ داران کو اٹھا لیا گیا اور ان پر حملے کئے گئے۔
چنانچہ میں پھر سے کہتا ہوں کہ جب بھی (اس سارے معاملے کی) آزادانہ تحقیق کی گئی میں ثابت کروں گا کہ میری گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور بعدازاں کریک ڈاؤن تک سب محض مجھے اور میری جماعت کو انتخابات سے باہر رکھنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔