وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے سوال کرنے والا اپنے رویہ سے تو بلکل صحافی نظر نہیں آیا اور جو جوان اسکو دیا گیا وہ بھی کسی مہذب معاشرے کا جواب نہیں ہے لیکن صحافت کی دنیا میں موجود کالی بھیڑیں اس فیلڈ کو خراب کر رہی ہیں جن کا احتساب بھی ضروری ہے۔
پنجابی قوم واحد قوم ہے جو اپنے صوبے میں آنے والے ہر مزدور،مہمان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں اور آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ دوسرے صوبوں سے کام کے سلسلے میں آنے والے مزدوروں کو کبھی کسی نے تنگ کیا ہو جبکہ ایسا ماحول دوسرے صوبوں میں نظر نہیں آتا جیسا پنجاب میں ہے
مودی اپنی سیاست بچانے کے لئے ایک بار پھر سے پاکستان سے جنگ کی باتیں کر رہا ہے کیونکہ ووٹ لینا ہے لیکن اسکو پتا ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی حماقت کی تو ہمارے دفاعی ادارے اور ہر دم تیار جوان اس بار دلی میں پرچم لہرا کر رکیں گے۔
آپ شرابی کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ زندگی بہت آسان ہے۔
فقیروں، سادھوؤں یا سنیاسیوں کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ کو خیرات میں اپنا سب کچھ تحفے میں دینے کی خواہش محسوس ہوگی۔
لیڈر کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی تمام پڑھائی بیکار ہے۔
اچھے اساتذہ کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ دوبارہ طالب علم بننا چاہتے ہیں۔
کسان یا مزدور کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کافی محنت نہیں کر رہے ہیں۔
ایک سپاہی کے سامنے 11 منٹ بیٹھیں - آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی اپنی خدمات اور قربانیاں معمولی ہیں۔
وہ سرخ ہوتا ہے… اور جو گولی لگنے کے خوف سے نکلے، اُس کا رنگ پیلا ہوتا ہے۔”
وہ لرزتی آواز میں پھر گویا ہوا:
“بھائی صاحب… رنگ تو پیلا ہے ہی… ساتھ بدبو بھی آ رہی ہے!”
اب بھائی سے برداشت نہ ہوا، غصے اور شرمندگی سے چِلّایا:
چل بھاگ بے غیرت
تصویر ازرائل پر ایرانی حملہ کے بعد کی ہے
کہتے ہیں کہ ایک جنگجو بھائی کے ساتھ اُس کا دوسرا بھائی، بڑے زور و شور سے محاذِ جنگ پر جانے کی ضد کرنے لگا۔ بڑی منت سماجت کے بعد، بہادری کے جوش میں اُسے بھی ساتھ لے جایا گیا۔
جونہی محاذ پر پہنچے، کچھ دیر بعد گولیوں کی تھڑتھراہٹ شروع ہو��ی، فضا میں بارود کی بو پھیل گئی، اور ہر طرف
موت کا رقص نظر آنے لگا۔ ایسے میں جناب کے حواس گم ہونے لگے۔ گھبراہٹ میں اُس نے اپنے بھائی کو آواز دی:
“بھائی جان… ایک بات پوچھنی تھی… خون کا رنگ سرخ کے علاوہ کچھ اور بھی ہوتا ہے؟”
بھائی نے سمجھ لیا کہ کچھ گڑبڑ ہے، لہجے میں طنز بھرا اور کہا:
“برادر! جو خون گولی لگنے سے نکلے،
پاک فوج اور پاک فضائیہ کے جوانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ان جوانوں کو بھی سلام جنھوں نے اس قوم میں جنگ کا ڈر پیدا ہی نہیں ہونے دیا لاہور اور فیصل آباد میں جنگی ماحول میں اپنی قوم کے نفسیاتی مورال کو بلند کرنے والی ڈیجیٹل فورس کا ��ھی شکریہ
میجر گورو کو بتانا تھا کہ اس سے بھی بڑا کچھ ہونا باقی ہے ابھی یہ تو دشمن کے لئے ایک ٹریلر ہے جو آپ لوگوں ڈرامے بازی کر رہے تھے کہ پاکستان حملہ کرے کو کر دیا حملہ اور دیکھا دیا آپ لوگوں کو کہ پاکستان بزدل نہیں ہے کہ جو تمھارا دل کرے کرو انشاءاللہ اب کشمیر بھی واپس لیں گے