حکومت مشکل میں ہے
حکومت جا رہی ہے
اختلافات پیدا ہوگئے
حکومت کے دن گنے جا چکے۔۔۔
وغیرہ وغیرہ
یہ سارے منجن 27 ستمبر تک کے لیے ہیں۔
موجودہ جرنیل اور سیاستدان ایک دوسروں کو جوتوں سے بھی ماریں تو بھروسہ رکھیے وہ عمران خان کو نہیں چھوڑیں گے یہ کام عوام کو خود ہی کرنا ہوگا۔
جاپان پر ایٹم بم گرے، شہر تباہ ہو گئے، مگر وہ آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔
جرمنی دوسری عالمی جنگ میں برباد ہوا، لیکن دوبارہ اٹھ کر ترقی یافتہ ملک بن گیا۔
جنوبی کوریا جنگ کے بعد کھنڈر بن چکا تھا، آج ٹیکنالوجی اور معیشت میں دنیا سے آگے ہے۔
سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات سمیت سارے گلف ممالک کو میزائل لگ رہے ہیں وہ بھی حالات نارمل ہونے پر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں گے۔ پہلے کی طرح پھر سے ترقی کریں گے۔ نہیں ترقی کریگا تو اللہ کے رازوں میں سے ایک راز پاکستان نہیں کریگا ۔ کیونکہ ہمارے ہمارے پاس پاک فوج ہے ۔
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
عمران خان نے تو بہت کھل کر یہ آفر جس دن کی تھی کہ مجھے پیرول پر رہا کر دو میں افغانستان کے ساتھ معاملات سدھار کر دوں گا- اس دن سے اس ذہنی مریض نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں ہی بند کر دیں!
کیا یہ شخص پاکستان کے ساتھ مخلص ہے؟یہ جنگ آخر کیوں چاہتا ہے؟
#خان_غیرقانونی_قیدتنہائی_میں
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست م��بوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے ��فاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق ��زیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
“The second fabricated Toshakhana case is being hurriedly pushed through in court. Only a few weeks ago, the testimony of the prosecution’s primary witness was exposed as false before the court. Thereafter, my former Military Secretary Brigadier Ahmed and Deputy Military Secretary Colonel Rehan also confirmed that all documentation of gifts was completed strictly in accordance with the rules. All lawyers agree that this case should have been dismissed at the outset by the judge. Despite this, a maliciously motivated and fabricated case continues to be carried forward.
Similarly, another fabricated case against me, the so-called “Cipher Case” - which is the most expensive case in Pakistan’s history, on which tens of millions of the people’s money from the national exchequer has been wasted - proved so weak before the High Court that it should not have survived at the trial court in the first place.
A third major case was manufactured about the Al-Qadir University Trust. Al-Qadir is a welfare-oriented educational institution whose objective is to provide both scientific and religious education to the youth. It was established a year before the funds sanctioned by the Supreme Court were remitted. Yet, by raising absurd questions against a charitable institution, a baseless case was fabricated which had already been dismissed at the trial court stage. Since January, we have been seeking a hearing date in the Islamabad High Court, and now, after ten months, the Chief Justice of the Islamabad High Court, Justice Dogar, has scheduled it to be heard on the 16th of October (2025).
The undue haste being shown by Judge Arjumand in the Toshakhana-II case has an underlying motive: to deliver a conviction in this case, so that even if bail is granted in the Al-Qadir case, it would not be possible for me to be released. It is noteworthy that in the past twelve years, three Toshakhana-related cases have all been before this same judge. By law, vehicles cannot be taken from the Toshakhana, yet Nawaz Sharif unlawfully took a bulletproof Mercedes, Asif Zardari illegally extracted three vehicles, and Maryam Nawaz, after unlawfully acquiring a vehicle, neither declared it nor showed it in her tax returns. All of this is on record with irrefutable evidence, yet their cases are not being taken up at all, while a selective and baseless trial against me for lawfully acquired gifts is being fast-tracked.
In the Al-Qadir Trust case, since Zulfi Bukhari persistently refused to give false testimony against me, his property in Pakistan is now being auctioned, due to political vendetta. This is the worst example of political victimization. This lawlessness is what I call “Asim Law”. Decisions in the country today are dictated by whether one is aligned with or opposed to “Asim Law”.
If you stand with Asim Law, miracles can take place. No matter how massive your wheat scandal may be, no one questions you. If you illegally obtain cars from Toshakhana, no case is filed against you. Whether it is the sugar mafia or the land mafia, as long as you are under the umbrella of Asim Law, you remain untouchable. But if you stand against Asim Law, then fabricated cases are concocted against you, you are thrown into prison, and you and your family are subjected to every conceivable form of injustice unprecedented in this nation’s history.
I wish to convey this message to my Pakistanis: the very foundations of moral and judicial values in Pakistan have been torn apart. If you do not rise today for your rights and for the rule of law, the times ahead will be catastrophic. Injustice and fascism will further devastate the economy. In the past three years alone, more than three million Pakistanis have left the country. The policies of the incompetent and fraudulent government have inflicted irreparable damage upon the economy: textile mills are shutting down exports, and the poor masses are rapidly falling below the poverty line.
1/2
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکا��ا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
🔥 Pakistan's Future: Who Should Lead? 🔥
If elections were held TODAY, who would you vote for as Prime Minister? 🗳️
Share your thoughts! #PakistanPolitics
"Respect democracy, respect the will of the Pakistani people!"
Piers Morgan speaks to the sons of Imran Khan as he approaches two years of incarceration.
Full interview going live at 6pm (1pm ET).
�� https://t.co/QR11ywsANx
@piersmorgan | @Kasim_Khan_1999