کسی دِن ہم بھی ایسے ہی فنا ہو جائینگے
جن گھروں کو سجانے کے لئے ہم اپنی عُمریں گُزار دیتے ہیں
وہ یُونہی مسمار کر دئیے جائینگے۔۔۔
تو یہ زندگی کیا ہے جس کو جینے کے لیے اتنی جدوجہد کرتے ہیں، مرنے کے بعد تو اولاد بھی بُھول جاتی ہے!
The difference between those who have everything and those with nothing in this world is heartbreaking 💔
Source: ferdychildrenfoundation1 on IG / Writer: Ian
ٹرمپ کے لئے بڑا دھچکا: ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کر دی
https://t.co/zlA73d2qKM
بہت سال پہلے جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو بیگم نصرت بھٹو صاحبہ تعزیت کے لئے ہمارے گھر تشریف لائیں اور مجھے دلاسہ دیا۔ وہ ایک بہادر خاتون تھیں میں نے انہیں 1992 کے لانگ مارچ کو آنسو گیس اور گولیوں کی گونج میں لیڈ کرتے دیکھا ہے وہ مجھے کہا کرتیں کہ تم مرتضیٰ کو بھی جانتے ہو اور بینظیر کو بھی جانتے ہو ان دونوں کو کچھ لوگ آپس میں لڑا رہے ہیں انہیں انکے مشترکہ دشمن سے ہوشیار کرو پھر ایک دن انہوں نے مجھے انٹرویو میں کہا کہ مرتضیٰ اور بینظیر دشمن سے ہوشیار رہیں دشمن دونوں کو لڑا کر باری باری ��نہیں ختم کردیگا یہ انٹرویو تو شائع ہو گیا لیکن اس ماں کے دکھوں کی کہانی ختم نہ ہوئی مشترکہ دشمن نے خاوند کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد بیکم صاحبہ سے انکے دو بیٹے اور بیٹی بھی چھین لی یہ تصویر آج بھی میری اسٹڈی میں موجود ہے
جو دفاعی معاہدہ پاکستان کی حکومت کو فخر سے اپنے عوام کیساتھ شہید کرنا چاہئیے تھا وہ معاہدہ اپنی عوام سے چھپایا گیا اور اب ترکی کی حکومت نے اسے اپنی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئیے پیش کیا ہے اور عوام کے سامنے بھی رکھ دیا ہے۔
اس معاہدے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ روایتی اور معمول کا پاک سعودی دفاعی تعاون نہیں ایک مکمل کم از کم دس سالہ معائدہ ہے جسکی پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہے۔ اس معائدے کی اشاعت کے بعد بھی اگر ہماری پارلیمنٹ یا سیاسی جماعتیں اس پر بحث نہیں کرتی تو پھر عوام کو ایسی پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور حکومت پر دو حرف بھیج کر ۰۰۰۰
بشکریہ انگریزی روزنامہ ڈان
گورنر راج سے پہلے گورنر سے معاملات معدنیات سمیت طےٰ کرلیے گیے تھے۔ امریکی قاہم مقام سفیر کی ملاقاتیں اس پوری رجیم سے نظر آہیں گیں
لیکن یہ کبھی سہیل آفریدی کو نہیں ملیں
مریم نواز ،مراد علی شاہ ،سرفراز، مہدی شاہ گورنر گلگت سے بھی ملیں
خواجہ آصف
محسن نقوی اور اسحق ڈار سمیت دیگر رجیم والے بلکہ لاہور قلندر والوں سے جا ملیں لیکن سہیل آفریدی کو نہیں۔
اللّه کی قسم، یہ یتیم بچے کا بےغیرت قاتل میرے سامنے ہوتا تو میں بھی اس کو خوب مارتی پیٹتی، چاہے مجھے اس کی جو مرضی قیمت چکانی پڑتی۔
اس وکیل کو شاباش کہ اس منحوس قاتل کی پٹائی کرنے کو لپک رہا تھا۔
ایسے گھٹیا لوگ کہاں سزا پاتے ہیں؟ ان کو اللّه کا خوف نہیں