Strongly condemn the appalling and cowardly action by authorities to demolish Ali Nawaz’s house & tear down its gate.
His elderly mother & his sister (a differently-abled child) lives inside the house.
While it is evidently clear that they’re devoid of any morality, the PDM govt should at least fear the wrath of Allah, which they’ll invite by such fascism.
Last year on the 25th of May commenced our descent into fascism. While three long marches by PDM during the 3.5 years of PTI govt were allowed without any hindrance, we faced the full force of state terror.
Houses broken in the middle of the night and PTI office bearers and workers kidnapped. And then whoever got to Islamabad faced tear gas, rubber bullets and police brutality.
Some of us thought it was one off but that was just the beginning.
Today the largest and the only Federal party is facing the full fury of state power without any accountability. Over 10,000 PTI workers and supporters in jail including senior leadership and some facing custodial torture.
On the pretext of arson on 9th may (condemned by the entire PTI leadership) the state is trying to dismantle the party including “forced divorces” and trying PTI members in military courts. Those in PDM and the journalist community who are cheerleaders for this yazeediyat should know that this is not dismantling PTI but our democracy i.e. our freedom.
However this attempt to enslave us will fail as we have a politically aware young population who despite media being muzzled gets its information from Social Media.
گزشتہ سال 25 مئی کو فسطائیت کی گہرائیوں کی جانب ہمارے سفر کا آغاز کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ساڑھے تین سال کے دوران پی ڈی ایم نے تین لانگ مارچز کئے جن کی اجازت دی گئی مگر ہم پر ریاستی جبر کے پہاڑ توڑ دیے گئے۔
رات گئے گھروں پر دھاوا بولا گیا اور تحریک انصاف کے ذمہ داران اور کارکنان کو اغواء کیا گیا۔ اس کے بعد جو بھی اسلام آباد پہنچا اسے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور پولیس کے ہاتھوں پوری وحشت و بربریت سے کچلا گیا۔
ہم میں سے بعض کا خیال تھا کہ یہ ظلم یہیں تک محدود رہے گا مگر یہ تو صرف آغاز ثابت ہوا۔ آج پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی سطح کی واحد سیاسی جماعت کو بلاخوفِ احتساب پوری شدت سے ریاستی جبر کے نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔ سینئر قائدین سمیت دس ہزار سے زائد کارکنان اور سپورٹرز زندانوں کی نذر کر دیے گئے ہیں جبکہ بعض کو زیرِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ ، جس کی تحریک انصاف کی پوری قیادت م��مت کرچکی ہے، کی آڑ میں ریاست ”جبری علیحدگیوں“ وغیرہ کے ذریعے جماعت کو توڑنے کی کوششیں کررہی ہے اور تحریک انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلا رہی ہے۔ پی ڈی ایم اور صحافیوں کا وہ گروہ جو اس یزیدیت پر اچھل کود کرنے اور خوشیاں منانے میں مصروف ہیں، وہ جان لیں کہ اس سب سے تحریک انصاف کو نہیں بلکہ ہماری جمہوریت کو کچلا جارہا ہے یعنی براہِ راست ہم سے ہماری آزادی چھینی جارہی ہے۔
تاہم ہمیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی یہ کوشش ناکام ہوگی کیونکہ آج ہماری نوجوانوں آبادی سیاسی طور پر نہایت باشعور ہے اور میڈیا کی زباں بندی کے باوجود (سرکاری پراپیگنڈے سے متاثر ہو��ے بغیر) سماجی میڈیا کے ذریعے خود کو (قومی و سیاسی معاملات پر) مکمل آگاہ رکھے ہوئے ہے۔
میں اپنے کارکنان اور قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں اور اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو قید میں ڈالے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
اسی طرح عدالتی احکامات کے باوجود صحافی عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور ان پر تشدد کی مصدّقہ اطلاعات ہیں۔
میں اپنی خواتین قائدین، کارکنان اور اپنے قائدین اور کارکنان کی اہلِ خانہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
شہریار آفریدی کی اہلیہ کو کیسے قید کیا جاسکتا تھا؟
واضح طور پر یہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوسکیں۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انکی صاحبزادی پر مرد پولیس اہلکاروں کے حملے کے بارے میں جان کر میں نہایت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے اغواء کیا گیا اور تھانہ سیکرٹ��یٹ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔
ہماری خواتین کارکنان سے کئے جانے والے وحشیانہ سلوک، جس کے ویڈیو شواہد بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
ہماری بہت سی خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، کارکنان اور حمایتیوں کو نہایت غیرانسانی حالات میں ملک بھر کی جیلوں میں ٹھونسا جارہا جہاں وہ پولیس کی زیادتیوں کی زد میں ہیں۔
اس فسطائی حکومت کی جانب سے ان خواتین شہریوں کا اغواء اور ان سے کیا جانے والا بہیمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہی نہیں بلکہ ہمارے کلچر اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ان تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہیں پیہم قید میں رکھنا نِری بےحسّی ہے۔ میں یہ سارا معاملہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی رکھ رہا ہوں۔