یقیناً پہلی کوشش میں کوئی بھی چیز سو فیصد مکمل یا پرفیکٹ نہیں ہو سکتی، ادارے وقت کے ساتھ ساتھ ہی ارتقا کا سفر طے کرتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہترین اور تاریخی نکتہ آغاز ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد کے شہریوں کو نہ صرف حقِ نمائندگی ملے گا بلکہ اسلام آباد کی گورننس میں ان کی حقیقی شراکت داری بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس نئے نظام کے تحت اسلام آباد کی انتظامیہ اور وسائل عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے تاکہ یہاں کے اداروں کو عوامی ترجیحات کے مطابق چلایا جا سکے۔
وزیراعظم صاحب کی خصوصی ہدایت پر، اس فریم ورک کو حتمی شکل دینے سے پہلے ہم سول سوسائٹی اور تمام شہریوں کو اس بحث کا حصہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہماری پہلی مشاورت ہے؛ اس کے بعد ہم چیمبر آف کامرس اور دیگر پروفیشنل باڈیز کے پاس بھی جائیں گے۔
ہم نے اس پوری رپورٹ کو وزارت کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دیا ہے تاکہ آپ سب اسے پڑھ کر اپنی قیمتی آرا اور تجاویز سے ہمیں نواز سکیں۔ ہم سب مل کر اسلام آباد کو ایک مثالی اور جدید دارالحکومت بنائیں گے۔
پاکستان زندہ باد!
اسلام آباد کے گورننس ماڈل میں اصلاحات کے لیے منعقدہ پہلے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی اور اس موقع پر وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بات کی.
جب اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ وضع کیا گیا تھا، تو یہ ایک بہت چھوٹا سا انتظامی شہر تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں خود 1993 میں پہلی بار قومی اسمبلی کا رکن بن کر یہاں کا باسی بنا، تو اس وقت اسلام آباد کی کل آبادی تقریباً 4 لاکھ افراد پر مشتمل تھی، جو کہ آج 24 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ماضی کا اسلام آباد چھٹی والے دن بالکل خالی ہو جاتا تھا کیونکہ یہاں کی زیادہ تر آبادی سرکاری ملازمتوں کے سلسلے میں دوسرے علاقوں سے آ کر مقیم تھی اور انہیں 'مہمان اداکار' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن آج کا اسلام آباد بدل چکا ہے۔ اب یہاں سیکنڈ اور تھرڈ جنریشن کے مقامی شہری (Islamabadites) موجود ہیں جو یہیں پیدا ہوئے، یہیں پروان چڑھے اور جن کی پہچان اب خالصتاً اسلام آباد سے ہے۔
آبادی کے اس بے پناہ اضافے اور ابھرتی ہوئی مقامی شناخت کے بعد یہ اب ممکن ہی نہیں رہا کہ اسلام آباد کو اسی پرانے ڈھانچے سے چلایا جائے جو عشروں پہلے ایک چھوٹے سے انتظامی شہر کے لیے بنایا گیا تھا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم یہاں ایک ایسا نیا اور جامع انتظامی ڈھانچہ متعین کریں جو نہ صرف شہر کے نظم و نسق کو بہتر بنائے، بلکہ یہاں کے لاکھوں شہریوں کو اسلام آباد کا نظام چلانے میں حقیقی شراکت داری اور نمائندگی بھی فراہم کرے۔
اسلام آباد کے مجوزہ گورننس ماڈل پر پہلی عوامی و مشاورتی نشست کی صدارت کرنا میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے۔
اس نئے ماڈل کی تیاری کے لیے ہماری وزارت نے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی کی مشاورت کے ساتھ ایک طویل اور بھرپور عمل کے ذریعے کام کیا، جس کے دوران لاتعداد اجلاس منعقد کیے گئے۔ وزیراعظم صاحب کی خصوصی ہدایت کے مطابق ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں انتظامی اور عوامی نمائندگی کے موجودہ خلا کو مستقل طور پر پُر کیا جائے۔ ہم ایک ایسا نظامِ حکومت وضع کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو نہ صرف شہریوں کی توقعات پر پورا اترے بلکہ اسلام آباد کو مستقبل کا ایک جدید ترین شہر بھی بنائے۔
اسلام آباد کوئی عام شہر نہیں ہے جو محض سیمنٹ اور سریے کے ساتھ میدانی علاقے میں کھڑا کر دیا گیا ہو، بلکہ اس کا محل وقوع قدرت کے انتہائی قریب ہے۔ اس لیے ہمارے لیے جتنا ضروری یہاں ترقیاتی منصوبے شروع کرنا ہے، اتنا ہی اہم اس کے قدرتی حسن اور ماحول کا تحفظ کرنا بھی ہے۔ ہم اس شہرِ بے مثال کو دنیا کے ایک بہترین ماحولیاتی دارالحکومت (Ecological Capital) کے طور پر ابھارنے کے لیے کوشاں ہیں جہاں ترقی اور فطرت کا ایک خوبصورت توازن موجود ہو۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں معاشی ٹیم نے عالمی معیشت پر ایران امریکہ تنازعہ کے اثرات کے باوجود، محنت، مسلسل مشاورت اور عوامی ریلیف کے عزم کے ساتھ وفاقی بجٹ 2026-27 پیش کیا ہے۔
یہ بجٹ سرمایہ کاری، برآمدات، آئی ٹی، انسانی ترقی کو فروغ اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دے کر معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کا روڈمیپ ہے۔
انشاء اللہ پاکستان ترقی کرے گا، عوام کو ریلیف ملے گا، اور معیشت مضبوط ہوگی۔
#عوام_دوست_بجٹ
اسلام آباد کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی موڑ!
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر، اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری (ICT) میں شہریوں کی قیادت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی اصلاحات کے لیے ہم نے پہلی عوامی مشاورت کا انعقاد کیا ہے۔
دہائیوں بعد اسلام آباد کے شہریوں کو اپنے شہر کے معاملات میں براہِ راست آواز اٹھانے کا حق ملنے جا رہا ہے۔ فاطمہ جناح پارک میں ہونے والی اس پہلی بیٹھک میں اسلام آباد کے باسیوں اور سول سوسائٹی کی والہانہ شرکت، اور خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کے شاندار اور اختراعی خیالات دیکھ کر مجھے بے حد مسرت اور حوصلہ ملا ہے۔ ان تمام شرکاء کے دلوں میں اسلام آباد کی ترقی کا مخلصانہ جذبہ موجود ہے، اور گڈ گورننس کے لیے ان کا یہ ولولہ یقیناً بے حد متاثر کن اور لائقِ تحسین ہے۔
اس مجوزہ گورننس ماڈل کے تحت ہم نے **اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری اسمبلی اور ایک بااختیار چیف منسٹر (Chief Minister) کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ فرسودہ انتظامی نظام کو ختم کر کے وفاقی دارالحکومت کو پاکستان کا پہلا ماڈرن، پائیدار، اور ڈیجیٹل اسمارٹ سٹی بنایا جا سکے۔ صحت، تعلیم، سیاحت اور ماحولیات سمیت 6 نئی خصوصی اتھارٹیز (Specialized Authorities) کے قیام سے ہم شہر کی بکھری ہوئی گورننس کو مربوط، فعال اور عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے۔
وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق، کوئی بھی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے اس رپورٹ کے مسودے کو پبلک ڈومین میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام خود اپنے شہر کے مستقبل کی تشکیل میں حصہ لیں۔ یہ مشاورتی عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری حکومت شفافیت اور عوامی شراکت داری پر کامل یقین رکھتی ہے۔ یہ شہر صرف وفاقی حکومت کا انتظامی مرکز ہی نہیں، بلکہ 21ویں صدی کے جدید طرزِ حکمرانی کا ایک بین الاقوامی رول ماڈل بنے گا۔
انشاء اللہ، اسلام آباد کے شہریوں کی قیمتی آراء اور اجتماعی ملکیت کے احساس سے ہم اس شہر کو ایک محفوظ، سرسبز، اور عالمی سطح پر مسابقتی دارالحکومت بنائیں گے!
#IslamabadReforms #CitizenLedGovernance #SmartCityIslamabad #AhsanIqbal #PMLN #GoodGovernance
Pakistan can no longer afford to crawl—we must leapfrog.
At the launch of the Economic Survey 2025-26, a journalist asked me about the fundamental shift Pakistan needs to break free from its economic challenges. My answer was simple: we must urgently fix our structural flaws and shift from a reliance on external borrowing to an aggressive, export-driven growth model.
We cannot continue relying on the IMF, commercial bonds, and bilateral partners to meet our needs. The potential to change our trajectory is right in front of us:
1) The Export Disparity: Right now, 9 million overseas Pakistanis contribute nearly $40 billion annually in remittances. This equals the entire export earnings generated by our home population of 250 million. This is a stark reminder of our untapped export potential.
2) The Investment Gap: Look at Vietnam—with a population much smaller than ours, they attract vastly more Foreign Direct Investment (FDI). We must bridge the investor confidence gap to compete with our regional peers.
3) The Missing Link: Pakistan does not lack talent, resources, or plans. What we have lacked is political stability and policy continuity. Nations like India, Bangladesh, Vietnam, Singapore, Malaysia, and China succeeded because they maintained consistent policies for decades.
With a young, dynamic population, slow progress is no longer an option. If we want a prosperous future, we must choose to leapfrog our development challenges through stability, continuity, and hard work.
#PakistanZindabad #EconomicSurvey #ExportLedGrowth #AhsanIqbal #PakistanEconomy
اکنامک سروے کے اجراء کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مَیں نے واضح کیا کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کا پرانا معاشی ماڈل اب تبدیل کرنا ہوگا اور ہمیں فوری طور پر برآمدات پر مبنی معاشی ترقی (Export-driven growth) کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔
آج ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہمارے پاس رینگنے کا آپشن ختم ہو چکا ہے، اور اپنے ترقیاتی چیلنجز کو عبور کرنے کے لیے اب ایک طویل چھلانگ لگانا ناگزیر ہے۔ ہمارے 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی سالانہ تقریباً جتنا زرمبادلہ بھیجتے ہیں، وہ 25 کروڑ آبادی والے پورے ملک کی کل برآمدات کے برابر ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اپنی برآمداتی صلاحیت کو کس قدر بڑھانے کی ضرورت ہے۔
بیرونی ضرورتوں کے لیے آئی ایم ایف پر انحصار کا چکر صرف برآمدات بڑھا کر ہی توڑا جا سکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ یا منصوبوں کی کوئی کمی نہیں، بلکہ سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل وہ اصل کڑی ہے جس کی بدولت خطے کے دیگر ممالک کامیاب ہوئے، لہٰذا معاشی بقا کے لیے اب ہمیں پالیسیوں کے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا!
#EconomicSurvey #ExportLedGrowth #EconomicReforms #PolicyContinuity
So proud to hear Rayyan Ahmed — a former Summer Scholar at the Ministry of Planning, Development & Special Initiatives — share his journey.
His time with us helped him advance to JP Morgan and take on leadership roles at New York University, where he now studies.
Youth are our strength, and programs like Youth Ki Uraan Summer Scholar, YPDC initiatives, YDFs, and many more are building platforms for learning and innovation.
Stories like Rayyan’s renew our commitment to these initiatives and inspire us to keep empowering Pakistan’s future leaders.
#YouthKiUraan #YPDC #YDF #PakistanZindabad
A Capital Finally Getting Its Voice
Islamabad is on the verge of its most significant governance reform in history.
Federal Minister Prof. Ahsan Iqbal has proposed the creation of an Islamabad Capital Territory Assembly and a locally accountable Chief Minister/Mayor, giving the people of Islamabad a stronger voice in shaping their city.
🔹 27-Member ICT Assembly Proposed
🔹 Direct Public Representation
🔹 Greater Administrative & Financial Autonomy
🔹 SMART City Vision for Islamabad
🔹 Citizen-Centred, Transparent & Accountable Governance
Addressing a public consultation on the proposed ICT Governance Model, Prof. Ahsan Iqbal emphasized that Islamabad has outgrown its old administrative structure and must evolve into a modern, sustainable, technology-driven and globally competitive capital.
"Islamabad must become a model city for governance, sustainability, innovation and quality of life." Prof. Ahsan Iqbal
The proposed reforms aim to transform Islamabad into a democratic, inclusive and future-ready capital where citizens play a direct role in decision-making.
#Islamabad #ICTGovernance #AhsanIqbal #SmartCity #CitizenCentricGovernance
اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی؟ وفاقی دارالحکومت کا نقشہ بدلنے کی تیاری
وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اسلام آباد گورننس ماڈل پر پہلے مشاورتی اجلاس سے خطاب کیا۔ یہ اجلاس وزارت منصوبہ بندی کے گورننس سیکشن کی جانب سے منعقد کرایا گیا جس کا مقصد اسلام آباد کی سول سوسائیٹی اور رہائیشیوں سے اسلام آباد کے نئے گورننس ماڈل پر حکومتی پروگرام پر گفتگو اور عوام کی آرا لینا تھا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ دارالحکومت کی آبادی 24 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور بڑھتی شہری ضروریات کے پیشِ نظر گورننگ ڈھانچے کی جدید کاری اب ناگزیر ہوچکی ہے۔
📍مجوزہ آئی سی ٹی گورننس ماڈل کے تحت اسلام آباد کی منتخب حکومت کو صوبائی حکومت کے مساوی انتظامی اور مالی خودمختاری دی جائے گی
📍 صحت، تعلیم، ماحولیات اور عوامی خدمات سمیت تمام اہم شعبوں کی ذمہ داریاں منتخب حکومت کو منتقل کر دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مقامی قانون سازی کے لیے کوئی بااختیار فورم موجود نہیں اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے 27 رکنی اسلام آباد اسمبلی کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔
دنیا کے مختلف دارالحکومتوں کے ماڈلز کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے اور عالمی بہترین تجربات اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ایک سمارٹ گورننس ماڈل تشکیل دیا جا رہا ہے جو وقت کے ساتھ مزید بہت
ر بنایا جا سکے گا۔
وفاقی وزیر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد کے مستقبل کی تشکیل کے لیے مشاورتی عمل میں بھرپور حصہ لیں کیونکہ حقیقی جوابدہی کا آغاز شہری قیادت اور عوامی شمولیت سے ہوتا ہے. سنیے وفاقی وزیر احسن اقبال کا مکمل خطاب
اس سلسلے میں آپ بھی اپنی آرا کمنٹس میں شئیر کیجئیے۔۔
@betterpakistan@etribune@dawn_com@jang_akhbar@ExpressNewsPK@thenews_intl
سینیئر میڈیا پروفیشنلز کے ساتھ ایک انتہائی معلوماتی اور تعمیری نشست ہوئی، جس میں ملک کو درپیش ترقیاتی چیلنجز اور ان کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد، قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اہم اجلاس میں مَیں نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اقتصادی ترقی کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار ترقی کے لیے اب انسانی وسائل (Human Development) کو ہمارا مرکزی ستون ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے ہم نے اپنے معاشی ویژن "اڑان پاکستان" کے تحت 11 بڑے قومی معاشی مشنز کی منظوری دی ہے، جن میں ایکسپورٹ، پروڈیوس اِن پاکستان، اور مصنوعی ذہانت (AI) شامل ہیں۔
وفاق اور تمام صوبوں کے تعاون سے اگلے سال کے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا ہے، جہاں محدود وسائل کو صرف قومی ترجیحات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہر منصوبے میں مکمل شفافیت کے لیے ہم نے نئی نگرانی پالیسی بھی تیار کی ہے جس میں پہلی بار آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا پائلٹ پروگرام شامل کیا گیا ہے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے!
#NEC #URAANPakistan #HumanDevelopment #PakistanEconomy
پاکستان اور چین کی ٹیموں نے مل کر دن رات محنت کی اور معاہدوں کو زمین پر حقیقت میں بدل کر سی پیک کو ایک انٹرنیشنل برانڈ بنایا، یہاں تک کہ بڑے ممالک بھی اس کا حصہ بننا چاہتے تھے۔
بدقسمتی سے یہ سفر کچھ عرصہ سست رہا، مگر اب ہم نے نئے عزم کے ساتھ اس کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور پہلے فیز کی طرح سی پیک فیز ٹو کے معاہدے پر بھی دستخط کرنے کا اعزاز مجھے ملا ہے۔ اب ہم نئے مرحلے کے تحت ملک کی پیداوار اور برآمدات بڑھا کر معیشت کو مضبوط کریں گے، اور چھوٹے منصوبوں کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب عوام کو روزگار فراہم کر کے ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں گے!
#75YearsOfFriendship #CPEC #EconomicGrowth #PakChinaFriendship
Ministry of Planning Tasked with Preparing Roadmaps for Pakistan’s 11 National Economic Missions
In a major step towards accelerating Pakistan’s economic transformation, the National Economic Council (NEC) has tasked the Ministry of Planning, Development and Special Initiatives with preparing comprehensive roadmaps and actionable implementation plans for all 11 National Economic Missions under Uraan Pakistan.
While briefing the NEC, Federal Minister for Planning, Development and Special Initiatives Prof. Ahsan Iqbal emphasized that economic development must be treated as a national emergency, requiring coordinated action across all tiers of government.
Key decisions and highlights from the meeting:
🔹 Human capital development was identified as Pakistan’s weakest yet most critical pillar of national development.
🔹 The 11 National Economic Missions will serve as the central framework for driving sustainable, inclusive, and export-led growth.
🔹 A Whole-of-Government Approach will be adopted to align federal and provincial institutions around shared national priorities.
🔹 The human development is a core pillar of Pakistan’s future development strategy.
The 11 National Economic Missions
✅ Export Growth Mission
✅ Resource Mobilization & Tax Reforms Mission
✅ Made-in-Pakistan Manufacturing Mission
✅ Agricultural Value Chain Mission
✅ Energy, Water & Climate Resilience Mission
✅ e-Pakistan & Artificial Intelligence Mission
✅ Human Capital & Skills Development Mission
✅ Housing, Construction & Real Estate Mission
✅ Social Protection & Poverty Reduction Mission
✅ Multimodal Connectivity & Logistics Mission
✅ Investment Facilitation Mission
Further Recommendations by Planning Minister:
❗ Establishment of dedicated implementation teams for all 11 missions with the approval of the Prime Minister.
❗ Quarterly meetings of the National Economic Council to ensure continuity, accountability, and sustained implementation momentum.
❗ Strict alignment of development funding with national priorities, leaving no room for non-strategic projects.
❗ Immediate execution of critical reforms to avoid more severe economic challenges in the future.
Pakistan's development agenda is now being organized around a mission-driven framework focused on human development, exports, productivity, innovation, investment, and institutional coordination, laying the foundation for sustained economic growth and national prosperity.
#UraanPakistan #NationalEconomicCouncil #EconomicTransformation #PakistanDevelopment
علامہ اقبال نے سو سال پہلے ہی اپنی شاعری میں چین کی ترقی اور ہمالیہ کے دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل بننے کی پیشگوئی کر دی تھی۔ اس سوچ کو 2013 میں اس وقت عملی شکل ملی جب میاں نواز شریف کے دورۂ چین کے دوران سی پیک کے پہلے معاہدے پر پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔
وہ سی پیک جو شروع میں صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا اور ایک خواب تھا، دونوں ملکوں کی مخلص قیادت کی محنت سے ایک سچا راستہ بنا اور 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے موقع پر 46 ارب ڈالر کے منصوبوں کے ساتھ سی پیک کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہوا!
#75YearsOfFriendship #CPEC #AllamaIqbal #PakChinaFriendship #VisionToReality
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور شنہوا نیوز ایجنسی کی مشترکہ کانفرنس "دوستی کے 75 سال: عالمی طرزِ حکمرانی کے اقدام اور سی پیک کی تعمیر" سے خطاب کرتے ہوئے مَیں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی تقسیم ہوتی ہوئی دنیا میں ایک منصفانہ عالمی نظامِ حکمرانی وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
دنیا کے قریبی دوستوں میں بھی کبھی نہ کبھی عارضی ٹھہراؤ آ جاتا ہے مگر پاک چین دوستی خزاں سے پاک ایک ایسا سدا بہار سفر ہے جس نے ہمیشہ مسلسل اڑان بھری ہے؛ ہم ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ رشتہ ہمالیہ سے اونچا ہے، لیکن اب چین کے تعاون سے پاکستان کا پہلا خلاباز چینی خلائی مشن کے ذریعے خلا کو تسخیر کرے گا، جس کے بعد ہماری یہ لازوال دوستی پہاڑوں کی بلندیوں سے نکل کر اب آسمان کی وسعتوں کو چھوئے گی!
#75YearsOfFriendship #CPEC #PakChinaFriendship #SpaceMission
آج دنیا فیک نیوز، عالمی اداروں کی نااہلی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں، جیسے سندھ طاس معاہدے پر بھارتی ہٹ دھرمی، کے باعث خطرناک انتشار کا شکار ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اور شنہوا نیوز ایجنسی کی مشترکہ کانفرنس میں مَیں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ہم دنیا کو "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے جنگل راج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے!
ہمیں ایک خوددار اور منصفانہ عالمی نظام کی ضرورت ہے۔
اسی عزم کے ساتھ پاک چین لازوال دوستی اب روایتی فقروں سے آگے بڑھ کر خلائی حدود کو چھو رہی ہے، جہاں چین کے تعاون سے پاکستان کا پہلا خلا باز فضاؤں کو تسخیر کرے گا۔
2013 میں میاں نواز شریف کے وژن کے تحت جس سی پیک کی بنیاد رکھ کر ہم نے 25 ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کو زمین پر اتارا تھا، آج اس کا سی پیک فیز ٹو پاکستان کی معاشی بقا، صنعتی انقلاب اور خودداری کا ایسا ناقابلِ تسخیر روڈ میپ ہے جو دشمنوں کی ہر سازش کو ناکام بنا کر پورے خطے کی تقدیر بدل دے گا!
#CPECPhase2 #PakChinaFriendship #GlobalGovernance #EconomicSovereignty
Alhamdulillah!
After months of dedicated effort, persistent follow-up, and close engagement with all stakeholders, the Punjab Assembly has today passed the bill upgrading UET Lahore Sub-Campus Narowal into an independent University of Engineering and Technology (UET) Narowal.
This landmark achievement marks the beginning of a new era of growth, excellence, innovation, and opportunity for the youth of Narowal and the surrounding region. As an autonomous institution, UET Narowal will be better positioned to expand academic programs, strengthen research and innovation, forge industry linkages, and produce the highly skilled human capital required for the challenges and opportunities of the 21st century.
The legislation has been carefully designed to meet the demands of the new technological age, incorporating modern governance, academic, and institutional frameworks that will enable the university to evolve into a centre of excellence in engineering, technology, entrepreneurship, and applied research.
I congratulate the students, faculty, alumni, and people of Narowal on this historic milestone. This achievement reinforces our commitment to investing in education, empowering our youth, and building a knowledge-driven Pakistan in line with the vision of URAAN Pakistan.
The journey has only begun. InshaAllah, UET Narowal will emerge as one of Pakistan’s leading innovation driven technological institutions and a catalyst for regional and national development.
الطاف حسن قریشی مرحوم کے نام سے معروف یونیورسٹی میں "الطاف حسن قریشی چیئر" قائم کرنے کی تجویز ہائر ایجوکیشن کمیشن کو دی جائے گی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا اعلان۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الطاف حسن قریشی ایک فرد نہیں بلکہ ایک جامعہ تھے، جن کی اصولی صحافت، فکری بصیرت اور قومی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔