اس جوان کا نام سلیم ہے والد کا نام منیر ہے۔
والدہ زاہدہ بھائی آصف اور بہنوں کے نام ثمینہ اور سلمیٰ ہیں۔
والد ٹرک چلاتا تھا دو شادیاں کی تھیں۔
دروغانوالہ کے آس پاس ایک گاؤں میں انکی رہائش تھی۔گھر کے قریب آٹے کا مل ہوا کرتا تھا۔
سال 1992 میں گھرُسے بچھڑا تھا۔
سلیم کے خاندان کی تلاش کے لئے ہماری مدد کریں اس ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے ہمارے فون نمبر پر رابطہ کریں
03162529829
8 sept 2026
#waliullahmaroof
اس لڑکے کا نام گھر میں شاید دانش تھا (کنفرم یاد نہیں) اور شیلٹر میں شان ہے۔۔۔والد کا نام عامر ہے۔ والدہ کا نام یاد نہیں ۔ والد نے دوسری شادی کی تھی۔ دو بھائی اور ایک بہن تھی انکے نام یاد نہیں ہیں۔ والد ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔
شان کے بقول انکا گھر خانیوال میں تھا۔ محلے کا نام یاد نہیں ہے۔۔۔خانیوال میں دس ��مبر مچھلی مارکیٹ سے ذرا آگے گھر تھا۔
سوتیلی ماں کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔
ایک پڑوسن اپنے ساتھ بازار لیکر گئی ۔ چیز لیکر دیا اور کہا یہاں بیٹھ جاو میں آتی ہوں۔۔۔ چلی گئی اور دوبارہ نہیں آئی۔ پھر لوگوں نے سینٹر میں جمع کروادیا۔۔شیلٹر میں آئے 18 سے 19 سال ہوگئے۔
خانیوال کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔
شان اب بڑا ہوچکا ہے ۔ تنہائی نے اسکی زندگی پر بہت گہرا اثر کیا ہے۔ وہ روز اپنوں کو یاد کرکے روتا ہے۔
یہ تصویر پرانی ہے امید ہے اسکا خاندان یا پڑوسی دیکھ کر ضرور پہچان لیں گے۔
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ آپ کا ایک شئیر کسی انسان کو اپنوں سے ملانے میں مددگار ثابت ��وسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
7 Sept 2026
#waliullahmaroof
بلال غوری کے خلاف رات کے اندھیرے میں کارروائی کرنے کے لئے 6 ستمبر کے دن کا انتخاب کرنے والے نابغے کو اگر کسی نئے صوبے کی وزارت اعلیٰ نہ دی گئی تو کم از کم ایک سرکاری تمغہ تو بنتا ہے۔
چہرے پہ اطمینان بتا رہا ہے کہ وی لاگ بہانہ ہے مجوسیت اداروں میں پھیل رہی ہے اسکے بارے میں لب کشائی کرنے پہ ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں.
اس ملک میں آپ اگر مجوسی ہیں تو ��پ پہ کوئی قانون کوئی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا.
جسکی مثال صدیق جان آغا سرور اور مدراس کو جلانے والے ہیں کسی نے ہاتھ لگایا؟
اللہ پر توکل کرکے اندھیرے میں تیر ماریں۔۔۔ ان شاءاللہ شکار تک پہنچ جائےگا۔۔۔
"وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی"
اس نوجوان کا نام اعجاز ہے ۔ اعجاز نام شاید شیلٹر میں رکھا گیا ہے۔۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ مجھے نا میرا اصلی نام یاد ہے ۔ نا والدین اور نا اپنے شہر کا کچھ یاد ہے۔ میرا ریکارڈ میں نے بہت کوشش کی لیکن نہیں ملی/یا نہیں ��ی گئی۔
آپ میرے بچپن کی اور ابھی کی تصویر لیں پوسٹ لگائیں۔ لوگ شئیر کریں گے ۔۔ اللہ چاہےگا تو میرے خاندان میں سے ضرور کوئی دیکھ کر پہچان لیگا۔
برائے مہربانی تمام قارئین صرف اور صرف اللہ کے لئے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کیا پتہ آپکا ایک شئیر اعجاز کے کسی پیارے تک پوسٹ پہنچادے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 Sep 2026
#waliullahmaroof
جب مجوسیوں نےصدام حسین سےکہاامریکہ اوراسرائیل نہیں ہم تجھےپھانسی لگارہےتم نے اسرائیل پہ 39میزائل فائرکیےہم پھانسی کےرسےکو 39گرہیں لگا رہے
اسرائیل پہ میزائل فائر کرنے پہ سزاد��نےوالے��ج کہتےہم یہوددشمن ہیں یہ جھوٹ اورمنافقت ایک دن ظاہرہونی ہی تھی سوآج مجوسی چوک میں ننگےذلیل ہورہے
اس نوجوان کا نام محمد سجاد ہےاور والد کا نام محمد تاج ہے۔
سجاد کی عمر 18 سال ہے۔۔۔ بول، سن اور لکھ نہیں سکتا۔
راولپنڈی کا رہائشی ہے۔
مورخہ 1 اکتوبر 2018* کو سجاد اور گھر والے شادی میں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
سجاد بال کٹوانے کے لیے گھر سے ن��لا۔ گاؤں کی حجام کی دکانیں بند تھیں اس لیے وہ ڈھڈیال شہر (چک بیلی خان)چلا گیا۔
واپسی پر وہ غلطی سے کسی اور گاڑی میں بیٹھ گیا اور لاپتہ ہو گیا۔
آج تک اس کے بوڑھے والدین اس کی تلاش میں ہیں۔
تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سجاد کی والدہ کو قرار آ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
4 Sep 2026
#waliullahmaroof
سہولت کاری کے الزام کو مسترد کرتا ہوں،یہ سارے فیک اور AIسے بنائے گئے وڈیوز اور وائس میسجزہیں ہمارا کردار جرگہ اور انسانی ہمدردی تک محدود تھا
میں مولانا حضرت خان، امیر جمعیت علمائے اسلام ضلع خیبر، تیراہ کے 24 رکنی روایتی جرگہ کا رکن اور آفریدی قبیلہ ملک دین خیل کا امیر ہوں۔
میں اپنے اوپر عائد سہولت کاری کے الزام کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہوں۔ جرگہ نے تیراہ میں جو کردار ادا کیا، وہ کسی مسلح اور عسکریت پسند گروہ کی سہولت کاری نہیں بلکہ قبائلی روایات اور انسانی ہمدردی کے تحت تھا۔
ہم نے جرگہ نظام کے ذریعے پاک فوج کے شہداء کی میتیں فوج کے حوالے کیں۔ قبائلی علاقوں میں یہ ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ جنگ یا تنازع کی صورت میں دونوں اطراف سے جاں بحق افراد کی میتوں کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جرگہ کے ذریعے تبادلہ یا حوالگی کی جاتی ہے۔
یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جرگہ کے ذریعے ہونے والی بات چیت مقامی ضلعی وڈویژنل ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے علم اور اجازت سے ہوتی رہی۔ جرگہ نے کبھی ریاستی اداروں سے چھپ کر یا ان کی اجازت کے بغیر کوئی اقدام نہیں کیا۔
ہم نے نہ کسی دہشت گرد گروہ کی حمایت کی، نہ اس کی مالی یا عملی مدد کی اور نہ ہی ریاست مخالف سرگرمیوں میں کوئی کردار ادا کیا۔ ہمارا کردار صرف امن، انسانی ہمدردی، قبائلی روایات کی پاسداری اور میتوں کی باعزت حوالگی تک محدود تھا۔
لہٰذا جرگہ کے اس انسانی اور قبائلی کردار کو سہولت کاری قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ الزامات عائد کرنے سے پہلے حقائق اور جرگہ کے کردار کو سامنے رکھا جائے۔
#TeamJUIKhyber #TeamJUIFATA #TeamJUIPak
پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر کا قاتل آج CCD نے راولپنڈی میں مار ڈالا۔
گجرات میں عالم دین کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کردیا گ��ا مگر کوئی قاتل نا پکڑا گیا CCD سے نا پنجاب پولیس سے۔
اسی عالم کا بیٹا بڑا ہوکر اگر ہتھیار اُٹھائے گا تو دہشتگرد کہہ اسے بھی مار دیا جائے گا۔😊😊
اس اماں جان کی داستان ��نیں اور انکے پیارے ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔۔۔!!
"میرا نام خالدہ بی بی ہے۔ میں لاہور میں رہتی تھی مجھے سہی سے یاد نہیں کہ مجھے کب بیچا گیا تھا۔ لیکن 1950 سے پہلے کی بات ہے۔ میرے ابو کا نام ��حمت علی تھا۔ اور میرے ابو رحمت علی ریل گاڑی چلاتے تھے۔اور امی کا نام رسولاں بی بی تھا۔ میری 3 بہنیں تھی اور ایک بھائی تھا بھائی کا نام شفیق تھا۔اس وقت میری عمر تقریباً 13 سال ہو گی۔
میرے چچا مجھے بہانے سے لے گئے اور بیچ آئے۔
میرے چچا کا نام سردار تھا جس نے مجھے بیچ دیا تھا۔ ہماری قوم مجھے سہی سے یاد نہیں لیکن شاید آرائیں پنجابی تھی۔مجھے بہنوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
ہمارا گھر چڑیا گھر کے ساتھ تھا۔ بانوں بازار ساتھ لگتی تھی۔ ہمارے گھر کے ساتھ شاہی قلعہ مسجد شریف بھی لگتی تھی۔ مجھے ایک ماموں کا نام یاد ہے ماموں کا نام شریف تھا۔ اور کچھ سہی سے یاد نہیں ہے۔ مجھے وہاں پر سک��ل میں ایک چوٹ لگی تھی۔ تھوڑی کے نیچے اب بھی اس چوٹ کا نشان ہے۔ مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ لوگ یہاں پر آئے تھے لیکن مجھے مل نا سکے۔ ان کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ لوگ ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک آئے تھے۔ اب میرا ایک بہت بڑا خاندان ہے میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ اور ان کے بھی بچے ہیں وہ سب بھی اپنے گھر بار اور بال بچوں والے ہیں لیکن میں اب بھی اپنے ماں باپ بہنوں اور بھائی کو یاد کرتی ہوں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میں مرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کو ملوں بس ایک بار میری آخری خواہش ہے یہ ۔ "
تمام قارئین اس بےبس اماں جان کی مدد کریں۔ اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 Sep 2026
#waliullahmaroof
الحسکه / شام
بشار الاسد برگیڈ کا دھشت گرد گرفتار۔
گرفتار دھشتگرد کا تعلق پارا چنار سے ھے۔
دھشتگرد شامی خواتین بچوں اور بوڑھوں کے قتل عام میں ملوث تھا اور انتہائی مطلوب کمانڈروں کی فہرست میں شامل تھا۔
انڈونیشیا میں موجود دوست مدد کریں۔۔۔
ایک بہن سمیرا صاحبہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ انکا والد پاکستانی اور والدہ انڈونیشیا کی ہے۔ والد ملک مسعود صادق انڈونیشیا میں تھے۔
وہاں انڈونیشین خاتون سے نکاح کیا۔ سمیرا پیدا ہوئی ۔ وہ ایک سال کی تھی والد بیٹی اپنے ساتھ پاکستان لائے۔
سمیرا نے جب ہوش سنبھالا تو ماں کو نہیں پایا۔ اسے بتایا گیا کہ انکے ویزے کا مسئلہ ہوگیا تھا کچھ عرصہ فون پر رابطہ رہا۔ پھر کوڈ چینج ہونے کی وجہ سے رابطہ کٹ گیا۔
والدین کا کا نکاح نامہ موجود ہے ۔ اسمیں والدہ کا نام اور ایڈریس موجود ہے۔
Ulivah D/O Markasim
Address:
Panceng
Gresik Regency, East Java .
سمیرا کا کہنا ہے کہ میری عمر ابھی 23 سال ہے۔۔والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں اپنی والدہ کے لئے بہت زیادہ سوچتی ہوں۔ وہ کیسی ہوگی؟ کہاں ہوگی؟ میرے لئے کتنا روئی ہوگی۔ دل بہت چاہتا ہے کہ ان کو دیکھ لوں وہ مجھے دیکھے۔ ملاقات کریں۔
ایک بیٹی کو ماں سے ملانے کے لئے آپ تمام قارئین سے اپیل ہے کہ اپنا حصہ ضرور شامل کریں۔۔اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ انڈونیشیا میں موجود پاکستانی کمیونٹی تک یہ پوسٹ پہنچائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے ہمارے فون نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
2 sep 2026
#waliullahmaroof
کس کس ظلم کو روئیں ، شئیر کر کے سرکاری اداروں کو جھنجوڑنے میں کردار ادا کریں۔
یہ جو بزرگ نابینا عورت نظر آرہی ہے کل اپنی بیٹی سے ملنے گئیں جب یہ بیچاری اپنے فلیٹ میں واپس لوٹیں تو وہاں پہ ایک اور فیملی موجود ��ھی
پہلے ان کو لگا کہ کہ یہ غلط ایڈریس پہ آگئیں ہیں کیونکہ نابینا جو تھیں نظر نہیں آتا تھا
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بالکل درست ایڈریس پہ آئی ہوئی ہیں
لیکن ان کے فلیٹ پہ با اثر بلڈرز نے قبضہ کرلیا ہے
یہ بیچاری لیاقت آباد کراچی سپر مارکیٹ کی حدود میں موجود تھانہ میں گئیں وہاں فلیٹ پہ بااثر نعمان نامی شخص نے قبضہ کروایا ہوا تھا ۔
انہوں نے تمام کاغذات پولیس کو دیکھائے لیکن پولیس وہی بک چکی تھی انہوں نے کاروائی سے انکار کردیا
اس بیچاری بیوہ کا آخری بڑھاپے کا سہارا فلیٹ ہی ہے اور اب تک ان کا سامان اندر محصور ہے
اس بیچاری بیوہ کے لیئے آواز اٹھائیں ویڈیوبھی سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔
ہے کیا کوئی اس بیچاری کی مدد کرے گا ؟؟؟؟
😥😪😥
امّ المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے اصفہانی نامی شیعہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ اصفہانی کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
#گستاخ_اصفہانی_کو_گرفتار_کرو
کیا آپ کے دل میں احساس ہے۔۔۔؟؟!
اگر ہے تو اپنی اس اماں کی فریاد سنیں
انکا نام بشیراں ہے اور والد کانام فتح محمد ہے۔والدہ نور بانو، بھائیوں کے ارشد، امجد، اکثر(یہی بتایا تھا)، انصر ۔ بہنوں کے نام: حلیماں، حکیماں(چار بہنیں تھیں ایک کا انتقال ہو گیا تھا اس کا نام یاد نہیں ہے)،دو چچا تھے ایک کا نام احمد یاد ہے۔جب یہ آئی تھی اس وقت ارشد ھوٹل پر کام کرتا تھا باپ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ گاوں کا نام" چکوری شریف"، قریبی شہر لالہ موسی ضلع گجرات ہے۔
بشیراں کہتی ہے کہ میری عمر 12 سال تھی۔۔۔ میں ایک دن ماں سے ناراض ہو کر اپنی پوپھی کے گھر کےلئے نکلی تو ایک بندہ جو جاننے والا تھا اس نے روکا اور پوچھا کہاں جارہی ہو؟ میں نے۔ تایا پھوپھی کے ہاں۔
تو اس نے کہا میں آپ کو پھوپھی کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔مجھے اپنے ساتھ روانہ کیا اور بس میں بٹھایا۔۔۔ سفر بہت لمبا ہوا میں بار بار پوچھتی کہ کب گھر پہنچےگا تو اس نے مجھے ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کا کہا۔ مجھے سندھ کے ایک علاقے میں لاکر آیا 13000 روپے میں بیچ دیا۔ خریدنے والے سے نکاح کروا دیا۔
بیٹا میں نے جس طرح کی زندگی گزاری ہے میں بیان نہیں کرسکتی۔۔ایک ایک دن سال کی طرح گزارا ہے۔
ابھی میرا شوہر فوت ہوچکا ہے۔۔ ایک بیٹی ہے اس کی شادی ہو چکی ہے وہ بھی ایک گونگے لڑکے کے ساتھ جو دیور کا بیٹا ہے اب میں بلکل تنہا رہ گئی ہوں۔ مجھے مرنے سے پہلے میرے پیاروں سے ملائیں۔ جو میری مدد کرےگا میں مرتے دم تک اللہ سے اس کے لئے دعا کرونگی۔"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof
ملائیشیا میں ایک شخص کی اپنی بیوی سے طلاق کے بعد سابقہ اہلیہ نے اسے طویل عرصے تک اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دیا۔
رپورٹس کے مطابق، خاتون نے دوسری شادی بھی کر لی، لیکن اس کے باوجود باپ کو اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔
کئی کوششوں کے بعد آخرکار اسکول کے اساتذہ کی ثالثی سے باپ کو اپنے بیٹے سے ملنے کا موقع ملا۔
اور پھر طویل عرصے بعد جب باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کے جذبات پر قابو نہ رہا۔
با�� اور بیٹے کی یہ ملاقات واقعی دل چھو لینے والی ہے۔ کچھ رشتے فاصلے اور وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتے۔ ❤️