پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 7 سالہ منتہا سے زیادتی کی تصدیق
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد اور مزاحمت کے 7 مختلف زخموں کے نشانات پائے گئے ، جبکہ اس کی موت شہہ رگ کٹنے کی وجہ سے ہوئی
1: 9 مئی قتل عام 2023
2: D چوک قتل عام 2024
3: کشمیر احتجاج قتل عام 2025
4: تحریک لبیک قتل عام مریدکے 2025
5: راولا کوٹ قتل عام 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے دور میں ہونے والے بڑے قتل عام۔۔۔
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ ی�� خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
Madem en acımasız gerçekle yüzleşmek istiyorsun, söyleyeyim: Tam 3 ay boyunca bir adamı ayartmaya çalışmak zaten 'test' sınırını aşmış. Kuzenin muhtemelen kocasının sadakatinden emin olmak istiyordu ama bir yandan da içten içe seni kıskanıyordu. Tek taşla iki kuş vurmuş; hem kocasını garantilemiş hem de seni aile gözünde bitirmiş. Elinde yazılı, sesli hiçbir kanıtın yoksa bu saatten sonra kendini aklaman çok zor. Çok profesyonel bir manipülasyonun kurbanı olmuşsun, geçmiş olsun.
بلاول کے پیچھے کون کھڑا ہے؟کون کون سا ملک دشمن تھا جس نے پاکستان میں او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دی تھی؟آجکل وہ تمام ملک دشمن کس ملک میں ہوتے ہیں؟
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام :
۱- کل ختم نبوت کے حساس معاملے کے حوالے سے دینی جماعتوں کے اسلام آباد میں احتجاج کا امکان تھا، جس کے نتیجے میں تصادم کا خدشہ تھا اسی لیے اسلام آباد میں اپنا جلسہ ملتوی کیا۔ اگر گزشتہ روز جلسہ کرتے تو سازشیوں کی جانب سے ایک اور 9 مئی ہونے کا خدشہ تھا جبکہ یہ سامنے ہے کہ ابھی تک پہلے والے نو مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی نہیں کروائی گئی۔ ساری پارٹی بالخصوص ورکرز کو جلسہ ملتوی ہونے کا رنج اور غصہ ہے۔ میں بھی سمجھتا ہوں ک�� یہ جلسہ ہونا چاہیے تھا، لیکن معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
تحریک انصاف ملک کی واحد جماعت ہے جسے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہیں مل رہی۔ میں نے اسلام آباد کا جلسہ آخری مرتبہ ملتوی کیا ہے۔ 8 ستمبر کو کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ اب جو مرضی ہو جائے ہر ضلعے میں جلسہ کریں گے۔
۲-
نواز شریف کا بیک پیک لندن کے لیے تیار ہے، صرف ضروری سامان اٹھانا ہے۔ میں نے کسی فارم 47 کی حکومت سے کوئی بات چیت کی، نہ کروں گا۔ جب بھی ان کو خدشہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات ہوئی ہے ان کو فوری طور پر 9 مئی ��ا فالس فلیگ آپریشن یاد آ جاتا ہے۔ یہ سب چیف جسٹس فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے لیے ہو رہا ہے۔ اس وقت انکی دو گیمز جاری ہیں: اگر یہ فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہ دے سکے تو پھر سینیارٹی پر اثر انداز ہو کر اندر سے اپنا بندہ لائیں گے۔ یہ دونوں صورتیں نا قابل قبول ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کریں گے۔
۳-
میں ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، میں نے زیرو سے پارٹی شروع کی اور 28 سال سے آئین کے اندر رہ کر جدوجہد کر رہا ہوں۔ الحمدللہ عوام میں اس قدر مقبولیت ہے کہ مجھے کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں! میری پارٹی کو آٹھ فروری کو 180 سے زیادہ سیٹیں ملیں۔
فیض حمید کا ٹرائل، ملٹری کے کسی اندرونی معاملہ کیوجہ سے ہے تو اپنے ملٹری قوانین کے تحت جو چاہے کریں مگر ۹ مئی کو فیض حمید سے مل کر سازش کا الزام مضحکہ خیز ہے۔ اور اس سے بھی مضحکہ خیز یہ امر ہے کہ یہ ٹرائل بھی اوپن نہیں کیا ج�� رہا۔ اگر 9 مئی میں فیض ملوث تھا تو اس کا اوپن ٹرائل ہو کیونکہ نہ یہ ملٹری کا اندرونی معاملہ ہے نہ ہی خفیہ انٹرنیشنل معاملہ ہے۔
۹ مئی کا الزام ہم پر لگا ہوا اور ہم ہی یہ چاہ رہے ہیں کہ اس کا اوپن ٹرائل ہو اور اس پر میری پٹیشن بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جسے فائز عیسی دبا کر بیٹھا ہوا ہے۔ اگر کمیشن بن جائے اور دو چیزوں کا تعین ہو جائے کہ مجھے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اغوا کا حکم کس نے دیا تھا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو کس نے چرایا تھا تو ۹ مئی کا معاملہ فوری حل جائے گا۔
اگر حمود الرحمن رپورٹ پر عمل ہوجاتا تو ملک میں 3 مارشل لاء نہ لگتے اور نہ ہی آج غیر اعلانیہ جزوی مارشل لاء نافذ ہوتا بلکہ آج ملک میں جمہوریت ہوتی۔
۴- رجیم چینج کے بعد ہماری پارٹی کے لوگوں کو پیغام دیا گیا کہ ہم عمران خان اور پی ٹی آئی کا نام و نشان مٹا دیں گے، اسی لئے چند لوگ ان کے ساتھ چلے گئے اور تحریک انصاف کے خلاف پریس کانفرنس کی۔ میں لا الہ الا اللہ کا ماننے والا ہوں۔ کامل یقین ہے کہ عزت اور ذلت اللہ دیتا ہے اور آج بھی میں اس آزمائش پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، اور صبر سے کام لیتا ہوں، کیونکہ اس آزمائش کو اللہ کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ جب آپ مشکل میں ہوتے ہیں تو یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے، اللہ نے قران میں صبر کا درس دیا ہے، اللہ فرماتا ہے کہ مشکل وقت، آپ کی آزمائش ہے اور مجھے پتہ ہے کہ میں اللہ کی مرضی سے جیل میں ہوں کیونکہ اللہ نے یہ میرے لئے ایسے ہی لکھا ہوا تھا۔ اس کامل ایمان کا تقاضا ہے کہ نہ میں گھبرایا ہوں نہ میری قوم گھبرائے۔ ہم اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری و ساری رکھیں گے اور انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ اب پوری قوم ۸ ستمبر کے جلسے کی تیاری کرے اور اسے کامیاب بنائے۔
علی ظفر میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام کا کیس جیت گئے جس پر عدالت نے میشا شفیع پر پچاس لاکھ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس جھوٹے الزام کی وجہ سے علی ظفر جس کرب اور جن حالات سے گزرے اُس کے مقابلے میں یہ جرمانہ اور سزا نہائیت معمولی ہے۔ ایسے کیسز میں ایسی خواتین کا نشانِ عبرت بنانا چاہئے جن کی وجہ سے جنسی ہراسانی کا اصل میں شکار ہونے والی خواتین کا مقدمہ بھی کمزور ہوتا ہے۔۔۔۔ بہرحال علی ظفر مبارکبار کے مستحق ہیں کہ جو اس معاملے میں ثابت قدم رہے اور جھوٹے کو بلکہ جھوٹی کو اُس کے انجام تک پہنچایا۔ @AliZafarsays
There has been unnecessary speculation in the media regarding peace talks to end ongoing conflict in the Middle East. In reality, US-Iran indirect talks are taking place through messages being relayed by Pakistan. In this context, the United States has shared 15 points, being deliberated upon by Iran.
Brotherly countries of Turkiye and Egypt, among others, are also extending their support to this initiative.
Pakistan remains fully committed to promoting peace and continues to make every effort to ensure stability in the region and beyond.
Dialogue and Diplomacy is the only way forward!
@SecRubio@araghchi@SteveWitkoff
The illusion of erasing Iran from the map shows desperation against the will of a history-making nation. Threats and terror only strengthen our unity. The Strait of Hormuz is open to all except those who violate our soil. We firmly confront delirious threats on the battlefield.
Hello everyone in Pakistan, from Khyber to Karachi, from Gwadar to Gawalmandi. PAY ATTENTION to what is happening in Iran. The events are headed towards culmination. Longterm changes in the region. And in the heart of our strategic underbelly. This is no time for divisive politics. Let a serious national reconciliation begin.
Today’s press conference by @OfficialDGISPR was deeply disappointing and frankly insulting for his position. While terrorism was discussed in broad terms, something no one disagrees with, he once again chose to abandon neutrality and dignity when it came to Imran Khan and PTI.
Let’s be absolutely clear: he is the spokesperson of OUR Army, not the PR manager of a hand-picked political clique. His repeated attempts to echo partisan talking points are a disservice to the institution he claims to represent.
A Lieutenant General is expected to demonstrate strategic thinking, restraint, and gravitas. Instead, in large parts of the briefing, he sounded more like an overzealous, compromised IO.
This wasn’t statesmanship. It wasn’t professionalism. It was a blatant erosion of credibility and a shameful misuse of an office meant to unite, not divide.
رائٹر کی خبر کا نچوڑ یہ تھا کہ ٹرمپ نے شہباز شریف اور عاصم منیر کو بہت گلے لگا لیا، اب و�� کہہ رہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے کے لئے فوج بھیجو-
اب رانا ثناءاللہ کہتا ہے کہ شہباز شریف یہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے-
کابینہ نے کہنا ہے۔۔جو حکم آقا-
جبکہ عمران خان نے کہا تھا Absolutely Not
#رسائی_نہیں_خان_کی_رہائی
At the very least, show some conscience and self-respect. For over a year now, lies and fabricated propaganda have been pushed relentlessly. The Indian accounts that circulated these posts have already erased them, yet you are so morally bankrupt that, blinded by hostility toward the government, you continue to echo the narrative of a hostile state. This is not criticism, it is disgraceful collaboration with an enemy’s agenda.
Utterly shameless.
پریس کانفرنس کا موضوع : عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان : پریس کانفرنس کا اختتام " ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے
مفاہمت کے سرخیلوں نے اپنے ہی گھر پر پولیس کے ذریعے دھاوا بولا، چادر چاردیواری کا تقدس پامال کیا، چوہدری پرویز الہی کو ایک سال بدترین حالات میں جیل میں رکھا، گجرات کو سیاسی کارکنان کے لیے کربلا بنا کر رکھا، چوہدری خاندان کی خواتین سے غنڈوں کے ذریعے کاغذات تک چھین لیے، اور پھر چوتھے نمبر ��ر آنے والوں کو جتوا کر وفاقی اور صوبائی وزرا بنوا دیا 👏🏻😀
حکومتی ارکان سے پوچھیں تو کندھے اُچکا کر بے بسی میں کہتے ہیں کہ ہمیں غزہ میں افواج کی تعیناتی بارے کوئی علم نہیں۔ کیا ریاستیں ایسے چلا کرتی ہیں؟ آج نہیں تو کل وہاں م��احمتی تحریک شروع ہونی ہی ہے۔ تو کیا ہماری افواج پھر غزہ کے لوگوں کے مدِمقابل کھڑی ہوں گی؟ عراق کی مثال کو سامنے رکھئیے۔ صدام کے جانے کے بعد کُچھ عرصہ اَمن رہا اور پھر الامان۔ دس لاکھ سے اوپر لوگ بھینٹ چڑھ گئے۔
کیا حماس غیر مسلح ہو گی؟ اگر وہ مان بھی جاتے ہیں لیکن اُن کے کچھ دھڑے انکار کر دیتے ہیں تو کیا پھر ہم اُن سے لڑیں گے؟
اور پھر پولیسنگ اور غزہ کے بارڈر کی مینیجمنٹ ؟ پولیسنگ تو فوجیوں کی ٹریننگ کا حصہ ہی نہیں۔ دوسرا کیا بارڈر مینیجمنٹ کے لئیے اسرائیلی نسل کُش فوج کے ساتھ کوئی اشتراک اور ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی جا سکتی ہے؟ نتن یاہو یا کوئی بھی اسرائیلی حکومت ناقابل اعتبار اور خلاف ورزیوں کے عادی ہیں۔
پھر ہماری دونوں سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے۔ کیا ہم ہزاروں کی تعداد میں فوجی بھیجنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ اِس کے مُلک کے دفاع پر کیا اثرات ہوں گے؟
ٹھیک ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار اَدا کیا اور اُن کے اِس عمل کو ہم سراہتے ہیں لیکن یہ ایسا نیا قصہ ہے کے جِس میں سوالات بہت ہیں اور جواب نہ ہونے کے برابر۔ استعماری طاقتوں کا اپنا ایجینڈا ہے۔ اُن کے لئیے بڑھ چڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنے میں کوئی دانائی نہیں بلکہ کسی ناگہانی مصیبت کو دعوت دینا ہے !