🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ��رک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ ��رمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خ��اف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا ک�� صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی �� یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
میں اس کی تلاوت سن کر کبھی نہیں تھکتا اس کا انداز ایسا ہے کہ انسان کو حضرت یوسفؑ کی خوبصورت داستان میں کھو جانے پر مجبور کر دیتا ہے، جو قرآن کی بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔
Iran's position is being misrepresented by U.S. media.
We are deeply grateful to Pakistan for its efforts and have never refused to go to Islamabad. What we care about are the terms of a conclusive and lasting END to the illegal war that is imposed on us.
پاکستان زنده باد
جب کمانڈر قاسم سلیمانی کو شہید کیا گیا تو ایران نے میزائل داغے۔
جب شام میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کی گئی تو ایران نے میزائل داغے۔
جب کمانڈر اسماعیل ہنیہ اور سید ��سن نصراللہ کو شہید کیا گیا تو ایران نے میزائل داغے۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے بارہ روزہ جنگ میں ایران پر حملہ کیا تو ایران نے میزائل داغے۔
جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور ایران کے رہنما اور شیعہ مسلمانوں کے رہنما کو شہید کیا تو ایران نے میزائل داغے۔
ایران نے کبھی بھی بغیر حملہ برداشت کیے ایک بھی میزائل نہیں داغا، جبکہ اسرائیل نے بغیر کسی وجہ کے شام، عراق، لبنان، قطر اور ایران پر بمباری کی۔ ایران کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے؛ اسرائیل سب کے لیے خطرہ ہے۔
منقول
نواز شریف جھوٹ بولنے میں ماہر ہے۔ ہمارے یہاں ہر ادارہ امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہو چکا ہے۔ نواز شریف امریکہ کے آگے سرنڈر کر چکا ہے، اور یہاں کی اصل طاقت کا سرچشمہ، یعنی اسٹیبلشمنٹ، بھی مکمل طور پر امریکہ کے آگے سرنڈر کر چکی ہے!ڈاکٹر اسرار ۔
Request from State and All its Institutions please take seriouse action against culprits who disgrace Quran.
Strict Action against Culprits in Ramadan will be an example.
#Quran#Ramadan_2026
صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان ڈاکٹر علامہ ہشام الہی ظہیر کا کھلا خط ایف آئی اے اعلی عدالتوں اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور مقتدر اداروں کے نام
قرآن کے 39 نسخے غلاظت میں لپٹے ہیں اور ریاست خاموش ہے؟
پاکستان میں اس وقت بدترین پورنوگرافک توہین کے مقدمات چل رہے ہیں۔ انہی مقدمات کے سلسلے میں قرآنِ مجید کے انتالیس نسخے این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے مختلف دفاتر میں بطورِ شواہد موجود ہیں، جن پر ظالموں نے معا�� اللہ انزال کر کے انہیں آلودہ کیا۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔
میں دین کا ایک ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے، اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے، نہایت دردِ دل کے ساتھ حکومتِ وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو فوری طور پر آئینِ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نسخے عدالتوں میں بطورِ ثبوت درکار ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں غسل دے کر دفن نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے ملزم کے خلاف ثبوت ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک قانونی پیچیدگی ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل نہیں۔
میری گزارش ہے کہ سب سے پہلے ان تمام نسخوں کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرایا جائے تاکہ قانونی ثبوت مکمل طور پر محفوظ ہو جائیں۔ اس کے بعد ایک واضح قانونی طریقۂ کار وضع کیا جائے جو ایک دن کی کاروائی سے ایک آرڈیننس کی صورت بن سکتا ہے۔ اس کے تحت ان مقدس نسخوں کو غسل دے کر باوقار طریقے سے دفن کیا جا سکے، جبکہ ان کی ڈی این اے رپورٹس اور سرکاری تصدیق عدالت میں بطور متبادل ثبوت قبول کی جائے۔
یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں، نہ کسی ادارے کے خلاف بات ہے۔ یہ صرف قرآن کی حرمت کا سوال ہے۔ آئینِ پاکستان بھی اسلام کی بالادستی اور مقدسات کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو مزید التوا میں رکھنا مناسب نہیں۔
میری حکومت سے پُرزور اپیل ہے کہ اس معاملے میں فوری اقدام کیا جائے، تاکہ قوم یہ محسوس کرے کہ اس کے مقدسات کی حفاظت صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ عمل�� اقدامات میں بھی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کی حقیقی حرمت سمجھنے اور اس کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
ایڈمن
صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان ڈاکٹر علامہ ہشام الہی ظہیر کا کھلا خط ایف آئی اے اعلی عدالتوں اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور مقتدر اداروں کے نام
قرآن کے 39 نسخے غلاظت میں لپٹے ہیں اور ریاست خاموش ہے؟
پاکستان میں اس وقت بدترین پورنوگرافک توہین کے مقدمات چل رہے ہیں۔ انہی مقدمات کے سلسلے میں قرآنِ مجید کے انتالیس نسخے این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے مختلف دفاتر میں بطورِ شواہد موجود ہیں، جن پر ظالموں نے معاذ اللہ انزال کر کے انہیں آلودہ کیا۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔
میں دین کا ایک ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے، اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے، نہایت دردِ دل کے ساتھ حکومتِ وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو فوری طور پر آ��ینِ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نسخے عدالتوں میں بطورِ ثبوت درکار ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں غسل دے کر دفن نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے ملزم کے خلاف ثبوت ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک قانونی پیچیدگی ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل نہیں۔
میری گزارش ہے کہ سب سے پہلے ان تمام نسخوں کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرایا جائے تاکہ قانونی ثبوت مکمل طور پر محفوظ ہو جائیں۔ اس کے بعد ایک واضح قانونی طریقۂ کار وضع کیا جائے جو ایک دن کی کاروائی سے ایک آرڈیننس کی صورت بن سکتا ہے۔ اس کے تحت ان مقدس نسخوں کو غسل دے کر باوقار طریقے سے دفن ک��ا جا سکے، جبکہ ان کی ڈی این اے رپورٹس اور سرکاری تصدیق عدالت میں بطور متبادل ثبوت قبول کی جائے۔
یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں، نہ کسی ادارے کے خلاف بات ہے۔ یہ صرف قرآن کی حرمت کا سوال ہے۔ آئینِ پاکستان بھی اسلام کی بالادستی اور مقدسات کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو مزید التوا میں رکھنا مناسب نہیں۔
میری حکومت سے پُرزور اپیل ہے کہ اس معاملے میں فوری اقدام کیا جائے، تاکہ قوم یہ محسوس کرے کہ اس کے مقدسات کی حفاظت صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کی حقیقی حرمت سمجھنے اور اس کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
ایڈمن