ملکی سرحدوں کی حفاظت ہر افغان کی ذمہ داری ہے: خلیفہ سراج الدین حقانی
کابل( الامارہ) صوبہ غزنی کے ضلع گیلان میں فدائین اور دیگر شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب میں، امارت اسلامیہ کے وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے 20 سالہ جہاد کی تاریخ میں شہید ہونے والے شہداء کے نام افغانستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جائیں گے۔
انہوں نے افغانوں کے اتحاد اور تعاون پر زور دیا اور مزید کہا کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت ہر افغان کی ذمہ داری ہے۔
تقریب میں شعراء نے شہداء اور جہاد کے حوالے سے اپنے اشعار سنائے اور ایک بار پھر اسلامی نظام حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس تقریب میں مقامی حکام اور سرکاری عہدیداروں کے علاوہ سینکڑوں شہریوں نے بھی شرکت کی۔
عمران خان کی قابلِ فخر قوم!
آپ نے ہمیشہ عمران خان کی لاج رکھی ہے، آپ کی جرات آپ کے حوصلے کو سلام۔
آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوانو!
شکریہ۔ آپ نے وفاداری اور بہادری کی جو داستانیں رقم کی ہیں اس ملک کی تاریخ ہمیشہ اس کی گواہی دے گی۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں!
آپ کے ہم وطن گذشتہ ۲۴ گھنٹے سے ریاستی جبر کے خلاف برسر پیکار آپ کے شہر پہنچے ہیں۔ آج آپ نے ایک مرتبہ پھر ۲۵ مئی اور ۱۸ مارچ کی اپنے ایثار کی روایت دہرانی ہے۔
آپ کا صبر، جبر پر غالب آرہا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی آپ کے ہم آواز ہیں۔ آپ نے یونہی پرامن رہنا ہے۔ تھکنا نہیں، تھکانا ہے۔ وہ بندوق کے بھروسے ہیں اور آپ کی طاقت آپ کا حوصلہ ہے۔ اسے قائم رکھنا ہے۔ آپ کا صبر، آپ کا حوصلہ جیتے گا۔ جیتنے والا ہے انشاء اللہ۔ اپنی نظریں اسی طرح منزل پر رکھیں۔ ڈی چوک پہنچنا آپ کے لیڈر کا حکم ہے اور فیصلے صرف اور صرف عمران خان کا اختیار۔
#نومبر24_خان_کی_کال
یوتھ، آئی ایس ایف، ایکٹویسٹس اور کارکنان کی تیاری اور قوم کا جذبہ دیکھ کر پرامید ہوں کہ انشاء اللہ ۲۴ نومبر کو لاکھوں پرامن پاکستانی اپنے لیڈر عمران خان کی آزادی، اپنے مینڈیٹ کی واپسی اور ملک میں آئین اور قانون کی عملدآری کےمطالبے کے ساتھ اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے۔
۲۴ سے پہلے یہ ہمارے پاس آخری ہفتہ ہے اور یقیناً اس وقت آپ کی تیاری آخری مراحل میں ہوگی اس لئے چند ضروری ہدایات؛
۱- اس بات کو یقینی بنائیں کے آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک ناصرف ۲۴ کو احتجاج کو پیغام پہنچا دیا ہے بلکہ ڈی چوک پہنچنے تک کا آپ کا اور ان کا سارا انتظام اور پروگرام بھی طے شدہ ہے۔
۲۔ ۲۴ نومبر کو آپ سب نے پاکستانی پرچم کے ساتھ امن کا سفید جھنڈہ، رومال یا دوپٹہ لے کر نکلنا ہے اور کسی کو بھی اپنا پر امن کا احتجاج سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینی۔
۳– عین ممکن ہے کہ آپ کو مایوس کرنے کے لیے چند دن پہلے سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کردی جائیں۔ آپ نے بہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے اور بڑی تعداد میں پہنچنا ہے۔ فیصلوں کا اختیار صرف اور صرف عمران خان کے پاس ہے اس لیے کسی بھی مس انفارمیشن پر کان نہیں دھرنے۔
۴- مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی نہیں ہوگی اس لیے پوری تیاری سے نکلنا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
خان صاحب کی جانب سے احتجاجی تحریک کے تاریخ کا فیصلہ ہوچکا ہے جو بہت جلد آپ کے سامنے آجائیگی۔ تحریک کی تاریخ کا اعلان ہونے تک آپ عمران خان کے مندرجہ ذیل احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جیسے ہی اعلان ہو آپ شارٹ نو��س پر اپنی حقیقی آزادی، عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی اور ملک میں جاری آئین و قانون و انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف میدان میں آنے کو تیار ہوں۔
عمران خان کی ہدایت کے مطابق؛
۱- ہر حلقے کے ٹکٹ ہولڈر اور عہدیداران اپنے حلقوں کے قافلوں کے ساتھ اسلام آباد کا رُخ کریں گے، کسی بھی گرفتاری کی صورت میں نامزد نمائندے ان کا قافلہ لے کر آگے بڑھیں گے۔ تمام ورکر اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے حلقے میں اس بنیاد پر تیاری جاری ہے اور ان کے متعلقہ نمائندگان کثیر تعداد میں عوامی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ٹرانسپورٹ، دھرنے کی صورت میں اپنے کیمپ کے قیام اور انتظامات کے ��تعلق بھی آگاہی حاصل کریں۔
۲- ورکر اور ایکٹویسٹس عوام تک عمران خان کا پیغام پہنچائیں پرامن احتجاج میں شامل ہونے اور اسلام آباد تک آنے کی تمام تیاری ان کے ساتھ فائنل کریں یاد رکھیں پرامن احتجاج آپ کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ ہر ورکر ٹارگٹ سیٹ کرے کہ وہ احتجاج میں کتنے افراد کی شرکت کو یقینی بنائیگا/ بنائے گی اور اس عرصے میں اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
۳- سوشل میڈیا ایکٹویسٹس اور عوام کے لیے؛ جیسے آپ نے ۸ فروری کو تمام تر رکاؤٹوں اور مشکلات کے باوجود سسٹم کو شکست دیتے ہوئے اپنے اپنے انتخابی نشان ناصرف سب تک پہنچائے تھے بلکہ بڑے ٹرن آوٹ کو یقینی بنایا، آج بھی اسی طرح تحریک کی اونرشپ لینی ہے۔ یہ ملک، یہ پارٹی اور عمران خان آپ کے ہیں۔ آپ ان کے حتمی وارث ہیں اور آپ ہی کی زندگیاں اس سے منسوب ہیں۔ ہمیشہ کیطرح آج بھی آپ نے ان کا بیڑہ اٹھانا ہے۔
#NationWantsFreeIK
کتنا اوپر سے آرڈر آتا ہے نہتے بے گناہ لوگوں پر فائر کھولنے کا؟
اس کے نام سے آتا ہے جس کے نام کا حلف لیتے ہو؟
قوم کی حفاظت کے لیے آپ کو یہ طاقت اور یہ بندوقیں دی گئی ہیں، اسی قوم پر تان دی ہیں؟ کیا مانگ رہے ہیں؟ اپنا آئینی اور قانونی حق؟ یہ کہ ہم نے جس کو چنا ہم پر حکمرانی وہی کرے؟ یہ کہ جنہیں نا حق پابند سلاسل کیا ہے انہیں رہا کرو؟ یہ کہ ہمیں انسانوں کیطرح جینے کی آزادی دو؟
خون بہایا، گھر توڑے، عزتوں پر ہاتھ ڈالے وہ پھر بھی آئین اور قانون کی بات کررہے ہیں۔ پرامن ہیں۔ تمہاری گولیاں کھا کر تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ تمہارے حق میں ہجوم کو تاویلیں دیتے ہیں۔ کسی کو بغاوت پر نہیں اکسا رہا مگر یہ عہدے، یہ تمغے، یہ مراعات تمہارے گلے کا طوق بن جانی ہیں جس دن کن فیکون والے کا حکم آنا ہے۔
دھمکی نہیں ہے وارن کررہا ہوں، جیسے دہشتگردی کی نئی لہر پھیلنے سے پہلے کیا تھا۔ جیسے جبر کے آغاز میں کیا تھا۔ جیسے الیکشن کے وقت کیا تھا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو انتقام کی جنگ میں نہ بدلو۔ ہوش کے ناخن لو۔ جمہور اور جمہوریت کو سانس لینے دو، اس سے پہلے کہ بہت بہت دیر ہوجائے۔
مطیع اللہ جان نے بہرحال تاریخ رقم کر دی۔ سازش کو ایسے بے نقاب کیا کہ سازشی اب تک انگلیاں چبا رہے ہیں۔
منصوبہ یہی تھا کہ رینجرز اہلکاروں کو مار کر ایک جواز گھڑ کے شہریوں پر دھاوا بول دیا جائے، مگر مطیع اللہ جان بروقت حقائق سامنے لے آئے۔ رپورٹنگ کے وقت مطیع اللہ جان کے ساتھ دیگر صحافی بھی موجود تھے، مگر ان صحافیوں کے چینلز سچ چلانے پر آمادہ نہیں تھے۔ احمد نورانی
@Ahmad_Noorani #MatiullahJan
https://t.co/6ay8KiALNB
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
کتنا پیارہ چہرہ! کتنا خوبصورت جوان جس کو 26 نمبر پر ملک کے حکمرانؤں نے شہید کردیا-
پاکستان کے مستقبل کی راہ میں خون دینے والا، اپنی جان نچھاور کرنے والا یہ بہادر ہیرو، ایبٹ آباد کا شہری، اور پی ٹی آئی کا کارکن،
عبدالقادر خان ہے۔ ماشاللہ
اللہ تعلیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ بیٹا تیرا خون ہم پر قرض ہے۔
جس نے ملک کی خاطر جان دی وہ ہمیشہ کے لیئے زندہ ہو گئے اور قوم کو زندہ کر گئے۔
ظالموں خون کا حساب ��و!
This brave man was shot by the government forces. He was the brave PTI worker from Abbottabad Abdul Qadir Khan Shaheed. May his soul rest in peace and may his family and friends find the strength to bear this tragic loss.
In the eyes of the nation, he is a hero and we the people of Pakistan owe him a debt, that is to fulfill the mission for which Abdul Qadir Khan laid his precious life at this young age.
The brutal, barbaric government of Pakistan it is time for you to leave and surrender before the peaceful movement of the people of my great land.
عمران خان کا جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
پاکستانی قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے، پرامن احتجاج میں شامل ہیں اور ملک پر مسلط مافیا کے سامنے اپنے مطالبات اور حقیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں
میرا اپنی ٹیم کو بھی پیغام ہے کہ آخری بال تک لڑیں، جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے ہمارے ورکرز پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے پرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کیا، اسے اس کا حساب دینا ہو گا!
شہری ناصرف پرامن تھے بلکہ شیلنگ اور فائرنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز کو بھی ریسکیو کرتے رہے-
اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جو ناصرف پاکستان میں موبلائزیشن کر رہے ہیں، فنڈز بھیج رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں بھی تاریخی مظاہرے کیے
سوشل میڈیا وارئیرز بھی دنیا بھر میں ہمارے مطالبات اور پاکستان میں جاری ��لم و ستم کی بھرپور کوریج جاری رکھیں!!
مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
جو اب تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی ڈی چوک پہنچیں
مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی پرامن رہیں، متحد رہیں اور ڈٹے رہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے- یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے!!