کتا جی ، آج سے تین سال پہلے کے ہمارے کانسیپٹس دیکھیں۔ ہمیں تب پتہ تھا کہ مجرم کون ہے۔ اب تو ہم نے دیکھ ہی بہت کچھ لیا ہے کتا جی۔ آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں ، ہفتے بعد ، چھ مہینے بعد ، سال بعد ، دس سال بعد کتا جی ، ایک دن ہمیں اور آپکو پھر یہیں ملنا ہے کتا جی۔
آئیں گے۔
شہدا کے جنازے میں کسی وزیر نے شرکت نہیں کی ، محسن نقوی
پوائنٹ نمبر ایک آرمی چیف کے سالے کی بجائے فوج کا ترجمان پریس کانفرنس کیا کرے
پوائنٹ نمبر دو بے شرم لوگ ایک بار پھر شہیدوں کو ٹاکی مار کر بیچنے کی تیاری میں ہیں
پوائنٹ نمبر تین میڈیا میں مرنے والوں کی کوریج کا بائیکاٹ کیوں ہے؟
پوائنٹ نمبر چار کیا آرمی چیف سارے مرنے والوں کے جنازوں میں خود جارہا ہے ؟
پہلے محمود اچکزئی نے ، پھر بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو تسلیاں دیں کہ تھوڑا انتظار کرو سب ٹھیک ہونے والا ہے ابھی تحریک شروع مت کرنا۔ سہیل آفریدی نے ی�� معلومات اپنے فرنٹ مین اسلام آباد والے صحافتی ٹولے کو پہنچائیں۔ ادارہ ہذا کا خیال یہ ہے کہ صحافتی ٹولے کو آبپارہ سے بھی لائن ملتی ہیں۔ یہ سارے مل جل کر وقت گزارتے رہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلاتے رہے۔
پھر اسکے کرنل نے بھی تصدیق کی ، اس کی اعلی شخصیت نے بھی تصدیق کی ،اسکے کرنل نے بھی بتایا ، پھر سعودی عرب ترکی کا دباؤ آیا ہے جیسے تجزیے ہوئے ، دراڑ تو آگئی نا جیسے نعرے، کچھ کی جانب سے ویلکم بھی ہوا ، یعنی پوری ہوا بنائی گئی۔ مقصد صرف ایک تھا وقت گزارنا۔ اس دوران آپ کا بھائی لگاتار آپ کو منع کرتا رہا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔
اب فوج نے سہیل آفریدی کا کافی سارا ڈنگ نکال کر اسکی احتجاجی تحریک پر کریک ڈاون شروع کردیا ہے۔ یہی ہونا تھا۔ اس سے نا کچھ آگے نا کچھ پیچھے۔ اب اگر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کسی احتجاجی تحریک کے لیے سنجیدہ ہیں تو پنجاب یا قومی اسمبلی ، کسی ایک جگہ سے استعفوں کا اعلان کریں اور سہیل آفریدی پریس کانفرنس کے ذریعے ایک ایک ملاقات ایک ایک یقین دہانی اور ایک ایک آفر کی تفصیلات سامنے لائیں۔
اگر یہ سب ن��یں کرسکتے تو پھر کسی بھی قسم کے ایڈوانچر سے باز رہیں۔
مسجد میں خود کش دھماکہ ہوا۔ سولہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اس سے کہیں زیادہ سویلینز شہید ہوئے۔ قریبی چھاونی سے ایک میجر جنرل صاحب پہنچے۔ وردی پوش کیمرہ مین ساتھ تھا۔ بس اتنی سی کہانی ہے۔
کل جیسے ہی دھماکہ ہوا چند ہی منٹوں بعد ایک میجر جنرل کی فوٹیج چلوا دی کہ جنرل صاحب خود لڑنے پہنچ چکے ہیں۔ اب جو ویڈیوز آرہی ہیں پولیس فورس اور سی ٹی ڈی جے لوگ آپریشن کررہے ہیں نا میجر جنرل صاحب دکھائی دے رہے ہیں نا کوئی فوجی اہلکار دکھائی دے رہا ہے۔
آپریشن کے خاتمے پر جو ویڈیو بنائی گئی ہے اس میں بھی سارے سول اداروں کے اہلکار کھڑے ہیں۔ پاک فوج ناکامی اور نااہلی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ فوج کے لیے اب ہر چیز ہی پی آر بن چکی ہے۔
لمبی تاریخ کو چھوڑیں۔ پاکستان کا ستر فیصد بجٹ کھا گئے۔ 800 ارب روپے سالانہ صرف پنشن لیتے ہیں۔ 25 سال میں ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگ مر چکے ہیں۔ اس دوران سات آٹھ سال براہ راست ایک فوجی جرنیل حکمران تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے نام پر یہ سویلین حکومت کی ہر فیصلہ سازی میں موجود تھے۔ چار سال سے ایک بار پھر براہ راست قبضہ کرکے بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں کرسکے۔
کیوں؟
اس مشکل صورتحال میں آخری حد تک یہ کسی اور ملک کے لیے جارہے ہیں کیوں؟
بنگالیوں نے کہا بنگالی زبان کو قومی ��بان بنا دو فرمایا نہیں آخری حد تک جائیں گے۔
بنگالیوں نے کہا وسائل کی برابر تقسیم کرو فرمایا نہیں جی نہیں آخری حد تک جائیں گے۔
بنگالیوں نے کہا کنفڈریشن بنا لیتے ہیں فرمایا آخری حد تک جائیں گے
بنگالیوں نے کہا الیکشن نتائج تسلیم کرلو اقتدار دے دو فرمایا نہیں آخری حد تک جاہیں گے
پھر آگئی آخری حد
اخے آخری حد تک جائیں گے
انتباہ 🚨
اس چیز میں کوئی شک نہیں کہ منظم طریقے سے ، میڈیا میں اپنے چھپے اور ننگے اثاثوں کی مدد سے ، تحریک انصاف کی مدد سے ایک کٹھ پتلی حکمران اور کٹھ پتلی حکومت کو ریلیونٹ اور فریق بنایا جارہا ہے۔ زہریلے یوتھیے ایسے کسی جھانسے میں مت آئیں ، نا ان پر تبصرہ کریں نا انکو کوئی اہمیت دیں۔
یہ جو غنڈہ گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے !
کرم ایجنسی میں پاک فوج کے چھ جوان مارے گئے ہیں۔ معلوم نہیں وہاں کسی کا گھر توڑنے گئے تھے ، کسی کا بیٹا اغواء کرنے گئے تھے ، ٹی ٹی پی سے لڑنے گئے تھے کچھ معلوم نہیں۔
اور اگر مرنے والوں میں کوئی افسر نہ ہوا تو بیچاروں کی موت کی خبر کو بھی وسیع تر قومی مفاد میں چھپا دیا جائیگا۔
سہیل آفریدی بہت شدت سے ن لیگ کے خلاف زور لگا رہا ہے۔ نہیں بھائی۔ نا تو عمران خان کو قید ن لیگ نے کیا۔ نا لانگ مارچز پر فائرنگ ن لیگ نے کی۔ نا ہی عمران خان کی ملاقاتیں ن لیگ نے ختم کی ہیں۔
عاصم منیر ترکی کی مدد سے افغانستان سے “ مذاکرات “ کررہا ہے۔ اس ذہنی مریض کے آنے سے پہلے یہ سہولت پاکستان کو براہ راست میسر تھی۔
انہیں جہاں سے جوتے پڑتے ہیں وہاں انہیں ڈائیلاگ اور جادو کی جپھیاں یاد آجاتی ہیں۔ کمزوروں اور نہتوں پر رالیں ٹپکاتے پل پڑتے ہیں۔