تُم جمالِ دشتِ دِل
تُم متاعِ شہرِ جاں
تُم حسین راتوں کا
چاند ہو چمَکتا سا
دِلفریب صُبحوں کا
پُھول ہو مہکتا سا
تُم شِفا کا پانی ہو کہ
جس کا گُھونٹ بھرنے سے
فصیلِ جان کے دامن میں
پُھول کِھلتے لگتے ہیں
اور دُکھوں کے جنگل میں
سُکھ اُترنے لگتے ہیں
#قومی_زبان#اردو_زبان
وہ حَسینہ
کہ جِس کی کمر کا زاويہ
قَوس قَزح سے مُشابہت رکھتا ھے۔
بیشک اُس کا حُسن
اِس بات کا مُستحق ھے کہ
ھر روز اُس پر
ایک نئی نَظم لِکھی جائے
❞میاں وقار❝
#قومی_زبان
اَپنوں نے غَم دیے ، تو مُجھے یاد آ گیا
اِک اَجنبی جو غَیر تھا ،اور غَمگُسار تھا
وہ ساتھ تھا تو دُنیا کے غَم ، دِل سے دُور تھے
خُوشیوں کو ساتھ لے کے ، نہ جانے کہاں گیا
دُنیا سَمجھ رھی ھے ،جُدا مُجھ سے ھو گیا
نظروں سے دُور جا کے بھی ، دِل سے نہ جا سَکا
خُواجہ پرویز
#قومی_زبان
*