عجب راز ہے دل کی فطرت کا،
جس درد نے توڑنا تھا، اُسی سے دعا نکلی۔
شاید یہی توکّل ہے—
درد بھی تیرا، رضا بھی تیری،
اور یقین بھی تجھ ہی پر۔
ایک دعا ہے جو لبوں تک نہیں آتی،
ایک خواب ہے جو سجدوں میں پلتا ہے۔
شب کی خاموشی میں،
دل کسی کے نصیب کو نہیں—
بس رب کی مشیّت کو پکارتا ہے۔
https://t.co/YdTTBM6DPp