’’اے ایمان والو !اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
(الحجرات، آيت نمبر: 6)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔‘‘
(صحيح مسلم، باب النهى عن الحديث بكل ما سمع، (1/ 8) برقم (7)، ط/ دار الجيل بيروت)
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر، عزت مآب ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
دورانِ گفتگو وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے ایران اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے ��ریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ اور دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی دیگر اعلیٰ قیادت کی جانب سے مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کی حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنے نیک تمناؤں اور پرتپاک جذبات کا اظہار بھی کیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور علاقائی امن و استحکام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم اور امیرِ قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی آج قطر کے امیر، عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سے انتہائی خوشگوار اور پرتپاک ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حالیہ حملوں کے تناظر میں قطر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) اور برگن اسٹاک میں اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کے انعقاد تک پہنچنے والی امن کوششوں میں قطر کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر امیرِ قطر کا دلی شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ امن کے لیے سفارتی روابط اور بامعنی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور امن مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
امیرِ قطر نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کے خطے میں امن کے قیام کے لیے قائدانہ ک��دار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں قطر کی مسلسل حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں ایکسیس ٹو فائنانس کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
اجلاس میں وزیراعظم کو ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر بریفنگ دی گئی
معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ایکسیس ٹو فائنانس پلان کی ترجیحات اور ا��داف پر روشنی ڈالی گئی
بنیادی ترجیحات میں مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے، بریفنگ
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانا پلان کا مرکزی نکتہ ہے، بریفنگ
برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پلان کا بنیادی مقصد ہے، بریفنگ
عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، بریفنگ
وزیرِ خزانہ نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان شریک سربراہ ہوں گے، بریفنگ
گورننس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، بریفنگ
نئے گورننس اسٹرکچر کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں، بریفنگ
ایکسیس ٹو فائنانس پلان کے اہداف میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی تعداد اور قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ شامل ہے، بریفنگ
نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، بریفنگ
ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد 310,000 سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 750,000 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، بریفنگ
پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، وزیرِاعظم
ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ک�� حیثیت رکھتا ہے، وزیرِاعظم
بینک ترجیحی شعبوں، بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر، کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں، وزیرِاعظم
آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی، وزیرِاعظم
مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، وزیرِاعظم
ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کروں گا، وزیرِاعظم
حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے، وزیرِاعظم
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار محترمہ ریبیکا گرینسپین کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار محترمہ ریبیکا گرینسپین نے آج وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے فروغ و پاسداری کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مؤثر اور مکمل عملدرآمد، بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کے احترام کو ناگزیر قرار دیا۔
وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کے تین بنیادی ��تونوں�� یعنی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق، میں متوازن پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بالخصوص عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر مؤثر عملدرآمد اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
محترمہ ریبیکا گرینسپین نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے دیرینہ اور قابلِ قدر کردار کو سراہا اور حالیہ علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی تعمیری کوششوں کی بھی تعریف کی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امی��وار عزت مآب مسٹر میکی سال کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار، عزت مآب مسٹر میکی سال نے آج وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے مسٹر میکی سال کا خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور عالمی امور میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی آئندہ قیادت، ادارے کے تین بنیادی ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق، کو متوازن انداز ��یں آگے بڑھانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد، اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قانون اور معاہدات کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
مسٹر میکی سال نے اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی دیرینہ اور گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے عالمی امن کے فروغ کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی قیادت کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔
وزیر اعظم سے پاکس��ان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کی اسمبلی کے ممبران کی ملاقات
گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی محبت، وفاداری اور قومی یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے۔ وزیر اعظم
آپ عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ آپ کے ذریعے عوام کی توقعات، مسائل اور ترجیحات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم
گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ علاقے میں بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم
گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ وزیر اعظم
نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ وزیر اعظم
گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں، اگلے سال سے ان میں کلاسز شروع ہو جائیں گی، وزیراعظم
شمسی توانائی سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ وزیر اعظم
وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں جاری ��رقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیر اعظم
عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم
آپ کی تجاویز اور سفارشات ہمارے لیے اہم ہیں، وزیراعظم
گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہم مل کر کام کریں گے۔ وزیر اعظم
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔ وزیر اعظم
وزیر اعظم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ��ی زیر صدارت کمیٹی کی تشکیل کی ھدایت، جو ان ممبران اسمبلی کی جانب سے دی گئی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی کے دیگر ممبران میں وزیر برائے امور کشمیر و گلگلت بلتستان امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ شامل ہیں۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وزیر برائے امور کشمیر و گلگلت بلتستان امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ شریک تھے۔
"نعرہ تھا وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا
قانون بنا دیا شاہ خرچیوں اور عیاشیوں کا"
"خیبر پختونخوا مراعات بل 2026"
اراکینِ اسمبلی کو سرکاری خرچ پر سرکٹ ہاؤس، ریسٹ ہاؤس اور ڈاک بنگلے میں 3 روز تک مفت قیام کا پروانے جاری
"نعرہ تھا وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا
قانون بنا دیا شاہ خرچیوں اور عیاشیوں کا"
"خیبر پختونخوا مراعات بل 2026"
اراکینِ اسمبلی اور ان کے شریکِ حیات کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ، ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔
Pakistan and Croatia have agreed to inject greater momentum into our political &economic relations while expanding cooperation in trade,investment, agriculture,visa facilitation,education,defense, climate change,tourism, infrastructure,IT and seaport collaboration.
@MIshaqDar50
Pakistan and Croatia have agreed to inject greater momentum into our political and economic relations while expanding cooperation in trade, investment, agriculture, visa facilitation, education, defense, climate change, tourism, infrastructure, IT, and seaport collaboration. We are also working together to expedite the opening of a Croatian visa processing facility in Islamabad.
I also reaffirmed Pakistan's principled stance on the Indus Waters Treaty, calling for its immediate restoration, an end to the weaponization of water, and full respect for international law, the UN Charter, sovereignty, territorial integrity, and the peaceful settlement of disputes.
~ Deputy Prime Minister/Foreign Minister Ishaq Dar Addressing the Joint Press Stakeout
Prime Minister Shehbaz Sharif reaffirmed Pakistan's unwavering resolve against terrorism, stating that over the past four days, Balochistan has witnessed grave terrorist incidents in which brave police officers and armed forces personnel embraced martyrdom. He noted that, in response, 54 terrorists were neutralized, prayed for the elevation of the ranks of the martyrs, and emphasized that the entire military and civil leadership stands united in its commitment to continue this fight until the last terrorist is eliminated.
"اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عالمی سطح پر عزت عطا فرمائی ہے۔ چاہے وہ ہماری سفارتی کامیابیاں ہوں یا گزشتہ سال مئی کی چار روزہ جنگ، جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے پاکستان کو عظیم عزت عطا فرمائی�� پاکستان کی یہی عزت دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اسی لیے وہ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں قوم کو اپنی طرف سے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور بلوچستان کی حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ سنانا چاہتا ہوں کہ ہم مل کر دن رات اس فتنے کے خاتمے کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور تمام وسائل بروئے کار لا کر، ان شاء اللہ، اس کا خاتمہ کریں گے۔"
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو
"پچھلے چار دنوں میں دہشت گردی کے سنگین واقعات کے نتیجے میں پولیس کے جوان، فوجی بھائی اور شہری شہید ہوئے۔ 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، یہ جنگ ان شاء اللہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان میں آخری فسادی دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فتنے میں ہمارے مشرقی ہمسائے کا بھرپور ہاتھ ہے۔ وہ ہر لحاظ سے ان دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو مالی امداد اور اسلحہ مہیا کر رہے ہیں، افغانستان سے یہ دہشت گرد خیبر پختونخوا میں حملے کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ خارجی ہاتھ بھی ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا یکسوئی کے ساتھ فیصلہ ہے کہ ہم نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔"
وزیراعظم محمد شہباز شریف ��ی کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس شروع
اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان شریک ہیں
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی شریک ہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا مالی سال 2025-26 میں گزشتہ برس (2024-25) کے مقابلے ذیادہ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے اظہار تشکر
مالی سال 2025-26 میں محب وطن سمندر پار مقیم پاکستانیوں میں 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں جن پر انکے مشکور ہیں
ترسیلات زر میں 8.6 فیصد اضافہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے
سمندر پار مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے
سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی بہبود کیلئے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایک روزہ دورہ کوئٹہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے
کوئٹہ امد پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا
کوئٹہ میں وزیراعظم امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے
وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں
کروشیا کے وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امور، عزت مآب ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین (Gordan Grlić Radman)، کی آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے تجارت و سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، روابط، زراعت، سیاحت اور ہنرمند افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ (Zoran Milanovic) اور وزیراعظم آندرے پلینکوویچ (Andrej Plenkovic) کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے سرکاری دورے کی پُرخلوص دعوت دی۔
کروشیا کے وزیر خارجہ نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا دورہ ان کے ��یے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان اور اس کی قیادت کے نمایاں کردار کو سراہا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور کروشیا کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اپنی حکومت کی خواہش کا اظہار کیا۔
ریاستِ پاکستان کو کوئی بھی طاقت مرعوب نہیں کر سکتی۔ جو عناصر دہشت گردی، سہولت کاری، پناہ گاہوں کی فراہمی یا معاونت میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ اگر کوئی پاکستان کے شہریوں، سیکیورٹی فورسز، پولیس یا معصوم بچوں کو نشانہ بنائے گا تو ریاست پوری قوت سے جواب دے گی۔
“دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قوم، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ جنگ ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ حق پر ہونے کی وجہ سے اس جنگ میں کامیابی پاکستان ہی کی ہوگی۔”
~ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر پریس کانفرنس