اپریل 2022 سے کچھ حلقے موجودہ نظام میں دراڑ ڈالنے کی خواہش پالے ہوئے ہیں۔ محسن نقوی صاحب کے بیان کو بھی اسی خواہش کی تعبیر سمجھ کر سوشل میڈیا پر ایسا تاثر دیا گیا جیسے ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے آ چکی ہیں اور نظام کسی بھی وقت لپیٹا جا سکتا ہے۔
مگر زمینی حقائق اور تمام اشارے یہی ہیں کہ شہباز حکومت اپنی ��ئینی مدت پوری کرے گی۔ دراڑ کے منتظر حلقوں کو ایک بار پھر مایوسی کے سوا کچھ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا جبکہ دوسری جانب راوی پہلے سے ہی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
یہ ہی اصلی اور نسلی کشمیری جو کئی دہائیوں سے پرامن جدوجہد کررہے ہیں اور آزادی کے حصول کیلئے خون کی ندیاں بہا اور ماؤں بہنوں کی عصمتیں نچھاور کررہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر ہندوستان ایکشن کمیٹی کی مذمت کررہے ہیں
ہمارے حصے تو کشمیری بھی دو نمبر ائے
میر واعظ عمر فاروق میں بھی کن کترا کمیٹی کی چھترول شروع کردی!
"کشمیریوں کو متحد رہنا چاہئے، مہاجرین کشمیر بھی کشمیر کے ہی باشندے ہیں۔ انکے ووٹ کا حق کوئی نہیں چھین سکتا�� تقسیم کی سازش چل رہی ہے۔"
پاکستان اسی کشمیر کے اتحاد کو قائم رکھ رہا ہے جبکہ یہ مودی کے پلے تقسیم کر رہے
نئے پاکستان ، پڑھے لکھوں کی جماعت اور تبدیلی والے وزیروں کا حال چیک کر لیں طالبہ نے AI پر سیلاب پر بریفنگ دی آگے سے انتہائی پڑھے لکھے تبدیلی وزیر کا فیڈ بیک چیک کریں 😂🤦🏽
کل تک پرائیویٹ سکول ماسٹر لیکن آج لندن کے مہنگے ترین علاقہ میں ولا کے اندر بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے اور کوئی یہ سوال پوچھنے والا نہیں کہ ادھاری نسوار لینے والا اور موٹرسائیکل کا پٹرول ختم ہونے پر لما ڈال کے پمپ تک لیجانے والا آج ارب پتی کیسے بن گیا
ہم گوگی پنکی کو روتے رہے
سسٹم کیسے کھڑا ہو سکتا ہے اس گفتگو سے آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں یہاں مورخ نہایت مودبانہ گزارش کرے گا کہ کوئی ہمدرد محسن نقوی تک یہ گفتگو پہنچا دیں تاکہ انہیں سسٹم کی تباہی بارے حقائق پتہ لگ جائیں
ڈسکلیمر گفتگو سننے کیلئے بتی بجھا کر ٹوٹیاں لگا لیجئے گا
اسد قیصر نے پہلے بنی گالہ میں ستر اسی کروڑ کا فارم ہاوس بنایا اب لندن میں ولا بنا لیا ہے زیادہ پرانی بات نہی ج�� یہ سکوٹر پر پھرتے تھے
پاکستان میں ہر انقلابی تحریک سے منسلک لوگ کچھ عرصہ بعد اتنے ہی امیر ہو جاتے ہیں سب سیاستدان ترقی کر رہے ملک البتہ ڈوب رہا
ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنسی رابرطانیہ کے زریعے فنڈنگ کررہی ہے 🚨🚨
بھارتی ایجنسی را ڈپٹی کمشنر ابھیجیت سری کانت کا نام منظر عام پر آگیا
ایکشن کمیٹی ماہدہ کراچی ختم کروانے کے مشن پر ہے
کشمیری شہری کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغام سوشل میڈیا پر وائرل
یہ پاکستانی فوج کو جہنمی کہہ رھا ھے ان کو مارنے کی دھمکیاں لگا رھا ھے کہ خود باھر بیٹھا ھے اسائلم پر اس کے گھر کا ایڈریس میں دوں یا سیکیورٹی ادارے یہ کام خود کرینگے؟
آزاد کشمیر میں اگر ٹرتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن کی بات ہو سکتی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں؟
لاڑکانہ، کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے عوام دہائیوں سے بدانتظامی، بدامنی، ٹوٹے ہوئے انفراسٹرکچر، شہری مسائل اور متنازع واقعات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اگر حکمران اپنی کارکردگی پر مطمئن ہیں تو سندھ اسمبلی میں ٹرتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن کی قرارداد منظور کریں اور حقائق عوام کے سامنے آنے دیں۔
فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یہ اٹلی میں ہوتا ہے
اگر ہماری وزارتوں کو پاکستان میں ہر کسی کی ٹویٹ سونگھنے پھر اس کی شکایت کرنے سے فرصت ہو تو اٹلی میں اس کی شکایت ہی کر دیں آجکل تو وہ دس منٹ میں پیک اپ کرتے ہیں
وزارت اطلاعات نے اربوں روپے سے ڈیجیٹل میڈیا سیل بنائے اس کا اکاؤنٹ ہی سسپنڈ کروادیں وہ بھی صرف وزیروں کے ذاتی ملازم بنے ان پر کی تنقید پر ایکشن لیتے ہیں
جیسے پی ٹی آئی والے پروپیگنڈا کرتے تھے کہ ہمارا ہزار بندہ مر گیا ھے ویسے ھی آج آزاد کشمیر میں پروپیگنڈا کیا گیا اور معجزہ دیکھیں جو لاشیں سڑکوں پر پڑی ھوئی تھیں پولیس کے آنے پر وہ اُٹھ کر چلنے لگ گئیں
#AzadKashmir
گزشتہ روز ایکشن کمیٹی جانب سے مودی سرکار سے امداد کی طلبی اعلانیہ کے بعد مورخ لکھے گا کہ خواجہ محمد آصف کا ایوان میں کھڑے ہوکر ہندوستان ایکشن کمیٹی کیلئے دیا گیا بیان آج سو فیصد سچ ثابت ہوگیا
یہ کشمیری نہیں بلکہ مودی کے فرنٹ مین ہیں
حامد میر نے کتاب کا صفحہ اٹھا کر بغیر تحقیق کے بات کی
در اصل شاہ رخ خان کے والد تاج محمد 1948 میں نہیں بلکہ 1947 میں اپنے دوست یونس خان (جو بعد میں2 مرتبہ انڈیا کے وزیر رھے) کے ساتھ پشاور سے پڑھائی اور کاروبار کے لئے دہلی گئے
تاج محمد کے بھائی اور شاہ رخ کے چچا غلام محمد ( گاماں بانساں والا) کا خاندان اب بھی پشاور میں رہائش پذیر اور بانسوں کے خاندانی کاروبار سے وابستہ ہیں
غلام محمد نے ایک تنظیم "انجمن غرباء" بھی بنائی
شاہ ر خ کی ایک کزن نورجہاں (منی) پش��ور کے ادبی حلقوں میں باقاعدگی سے آتی رہیں اور ان کا شاہ رخ سے رابطہ اور آنا جانا بھی تھا ایک بار مجھے بتایا کہ شاہ رخ خان میری مالی مدد بھی کرتا رہتا ہے
نورجہاں کی دو بہنیں ��اہور میں جبکہ بھائی (میر صاحب) پشاور میں رہتے ہیں
شاہ ر خ کا خاندان (خصوصا چچا گاماں بانساں والا)بنیادی طور پر خان عبد الغفار خان کے خدائی خدمتگار تحریک سے نہیں بلکہ کانگریس سے وابستہ تھے اور مشکلا بھی زیا تر گاما کے لئے تھیں۔پھر وہ کیوں قیوم خان کے جبر کے ھاتھوں انڈیا نہیں گئے؟؟
پتہ نہیں ایسے متکبر اور تمیز سے عاری افسر کو لاہور جیسے اہم شہر کا ڈپٹی کمشنر بنانے کا دانشمندانہ فیصلہ "کس" کا تھا؟
اور ہاں موصوف پہلے فوج میں کیپٹن تھے