ایک بار پھر ان دورحاضر کے کھچوں پر یہ تحریر
پوری اترتی ہے۔
پاکستانی صحافت کے عظیم دماغ..!!
بس ایک ضرور پڑھیئے گا۔
ایک شادی میں رخصتی کے وقت دلہن باپ کے گلے لگ کر زاروقطار روہی تھی وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ یہ شادی زیادہ دیر نہیں چلنے والی دلہن اس شادی سے خوش نہیں ہے کیونکہ👇
میں بھی لاہور سے ہی ہوں، بتائیں کہاں کہاں انقلاب آچکا اب تک؟ لوگوں نے نکلنا ہو تو دفعہ 144 ہو یا پہاڑ کھڑے ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مان لیں لوگ نہیں نکلے۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہو��ا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
🛑 چاچا 2 کلو آٹا دے دو گھر سب بھوکے ہیں
پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں ایک 12 سال کا معصوم بچہ آٹا چوری کرتے پکڑا گیا
ظالم مدد کرنے کے بجائے اس پر تشدد کرتے رہے لیکن وہ پھر بھی آٹا مانگتا رہا ۔ 😢
🛑 چاچا 2 کلو آٹا دے دو گھر سب بھوکے ہیں
پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں ایک 12 سال کا معصوم بچہ آٹا چوری کرتے پکڑا گیا
ظالم مدد کرنے کے بجائے اس پر تشدد کرتے رہے لیکن وہ پھر بھی آٹا مانگتا رہا ۔ 😢
اڈیالہ جیل سے ایک اور اہم خبر :
عمران خان کی پیچھلے ہفتے اپنی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
عمران خان نے لفظ “ٹریپ “ کا خصوصی ذکر کیا ۔
کوئی بھی 27 سے پہلے گرفتار نا ہو ، سب نے 27 کو احتجاج کے لیے نکلنا ہے اور 27 تک کسی بھی صورت گرفتاری نہیں دینی ، جو بھی گرفتار ہوا وہ جیل جاتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے
پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی بھر پور مزاحمت دکھائے اور اپنے صوبے بند کرے اور جو 27 کو مزاحمت نا دکھا سکے وہ اپنے عہدے چھوڑ دے کیونکہ مجھے اس تحریک کے لیے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے ۔
ہمیں ایک میسج کیا جاتا ہے کہ آپ کے والد اگلے تین گھنٹوں میں آپکو فون کریں گے، یہ میسج کسی بھی وقت آسکتا ہے اور اگر ہم نے مس کر دیا تو اگلے کئی ماہ ہماری بات نہیں ہوتی۔
آخری بار 6 مہینے قبل ہماری والد سے بات ہوئی تھی
قاسم خان