ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ فسانے ہو جاتے ہیں
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں خواب پرانے ہوجاتے ہیں
ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے
میل دلوں میں آ جائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں
امجد اسلام امجد
خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں
شجر مجبوریاں پہنے ہوئے ہیں
یہ کیسی فصلِ گل آئی چمن میں
پرندے خوف سے سہمے ہوئے ہیں
ہواؤں میں عجب سی بےکلی ہے
دلوں کے سائباں سمٹے ہوئے ہیں
ہمارے خواب ہیں مکڑی کے جالے
ہم اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں
دمکتے، گنگناتے موسموں کے
لہو میں ذائ��ے پھیلے ہوئے ہیں
مری صورت زمیں کے سارے منظر
ترے دیدار کو ترسے ہوئے ہیں
مثالِ نقشِ پا، حیران تیرے!
ہوا کی راہ میں بیٹھے ہوئے ہیں
نگاہوں سے کہو ہم کو سمیٹیں
مری جاں ہم بہت بکھرے ہوئے ہیں
ادھوری خواہشوں کا غم نہ کرنا
کہ سارے خواب کب پورے ہوئے ہیں
سمندر آسماں اور سانس میرا
تری آواز پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
ہر اک رستے پہ کہتی ہیں یہ نظریں
یہ منظر تو کہیں دیکھے ہوئے ہیں
ستارے آسماں کے دیکھ امجدؔ
کسی کی آنکھ میں اترے ہوئے ہیں
امجد اسلام امجدؔ
آج 25؍دسمبر 1926
اردو دنیا کے اہم نامور صاحبِ اسلوب ممتاز شاعر ”سرشارؔ صدیقی صاحب“ کا یومِ ولادت ہے۔
نام اسرار_حسین_محمد_امان اور تخلص سرشارؔ ہے۔
25؍دسمبر 1926ء کو کانپور، اترپردیش ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ سرشارؔ صدیقی پاکستان کے ایک نامور شاعر اور دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں جنھوں نے اپنے انوکھے انداز کے اشعار کی شناخت کی جس کی وجہ سے ان کا شمار پاکستان کے بہترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے میٹرک مکمل کرنے کے بعد حلیم مسلم کالج کانپور سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔
اولاد حسین سرشارؔ صدیقی کے والد تھے کیوں کہ ان کے والد حکیم تھے اور دہلی کے طبیہ کالج میں استاد کے عہدے پر فائز تھے۔ سرشارؔ صدیقی کا تعلق ضلع انناؤ کا علاقہ معظم آباد سے تھا۔ انہوں نے 1955-1984ء میں نیشنل بینک آف پاکستان میں بھی کام کیا ہے جب وہ 1949ء میں پاکستان ہجرت کر رہے تھے۔ وہ ایکسپریس اور جنگ اخبارات کے تخلیقی کالم نگار کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیجنڈ شاعر سرشارؔ صدیقی نے نگار میں اپنی پہلی غزل لکھی جو سن 1949ء میں شائع ہوئی تھی کیونکہ ان کی پہلی کتاب سال 1947ء میں شائع ہو چکی تھی۔ پھر انہوں نے سن 1962ء میں ایک اور کتاب پتھر کی لیکر شائع کی، اور ان کی آخری شاعری کی کتاب خزاں کی آخری شام تھی جو 1988ء میں شائع ہوئی۔
08؍ستمبر 2014ء کو 88 سال کی عمر میں کراچی، پاکستان میں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے۔
●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●
💐 ممتاز شاعر سرشارؔ صدیقی کے یومِ ولادت پر منتخب کلام بطور خراجِ عقیدت... 💐
صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھ�� جاؤگے لوگو
وہ عالمِ وحشت ہے کہ مر جاؤگے لوگو
یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤگے لوگو
میری ہی طرح تم بھی بِکھرجاؤگے لوگو
وہ موجِ صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہنا
سُوکھے ہُوئے پتّے ہو بِکھر جاؤگے لوگو
اِس خاک پہ موسم تو گُزرتے ہی رہے ہیں
موسم ہی تو ہو تم بھی گزرجاؤگے لوگو
اُجڑے ہیں کئی شہر، تو یہ شہر بَسا ہے
یہ شہر بھی چھوڑا تو کدھر جاؤگے لوگو
حالات نے چہروں پہ بہت ظلم کئے ہیں
آئینہ اگر دیکھا تو ڈر جاؤگے لوگو
اِس پر نہ قدم رکھنا کہ یہ راہِ وفا ہے
سرشار نہیں ہو، کہ گزر جاؤگے لوگو
✦•───┈┈┈┄┄╌┄┄┈┈┈───•✦
کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے
صاحب دل تو جہاں بھی رہے بدنام رہے
کوئی تقریب تو ہو دل کے بہلنے کے لئے
تو نہیں ہے تو ترا ذکر ترا نام رہے
ہم کو تو راس ہی آئی کسی کمسن کی وفا
ہائے وہ لوگ محبت میں جو ناکام رہے
اس ارادے سے اٹھایا ہے چھلکتا ہوا جام
ہم رہیں آج کہ یہ گردش ایام رہے
بے سبب کوئی نوازش نہیں کرتا سرشار
دیکھیں کیا ان کی عنایات کا انجام رہے
══━━━━✥•••✺◈✺•••✥━━━━══
عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں
اور دل مائل ہوس بھی نہیں
اب کہاں جائیں گے خراب بہار
آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں
برق کی بیکسی کو روتا ہوں
اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں
کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل
زندگی اتنی دور رس بھی نہیں
ہم اسیروں کے واسطے سرشار
رسم پابندیِ قفس بھی نہیں
✦•───┈┈┈┄┄╌┄┄┈┈┈───•✦
سرشارؔ صدیقی
جناب دَانِشِ عَزِیز غزل
یہِ تِیرے لوگوں کے دَرمیاں جو مُفاہِمَت ہے، مُنافِقَت ہے
یہ اِن کی باتوں میں دِکھ رہی جو مُطابِقَت ہے، مُنافِقَت ہے
مُنافِقَت سے کَشِید ہو کر یہ گُفتَگُو کے اُصول نِکلے
سو مَان لو تُم حَلِیم لَہجہ مُنافِقَت ہے, مُنافِقَت ہے
یہ لکھ کے رَکھ لو کہ وَقت آیا تو ایک دُوجے کو مَار دیں گے
یہ دو گروہوں کے دَرمِیاں جو مُصالَحَت ہے، منافقت ہے
جو سر سے چاہَت کا بھُوت اترا تو دیکھ لینا تُمہِی کہو گے
تُمہاری بابت جو ذہن و دل میں مَناسِبَت ہے , مُنافِقَت ہے
نہ کوئی مَقصد دکھائی دے , بس فَساد بَرپا کیا ہوا ہے
مرے مُطابِق جو آئے د�� کی مُزاحَمَت ہے , مُنافِقَت ہے
فَقیر لوگوں کے پاس رہ کر یوں مَنفَعَت کی دُعائیں کرنا
یہ اَہلِ صُفَا سے آپ کی جو مُصاحَبَت ہے , مُنافِقَت ہے
تمہیں تو تَلمیذِ حق کہا تھا مگر تَلمُذ سمجھ نہ پائے
اِدھر اُدھر سے یہ ہو رہی جو مُشاورت ہے مُنافِقَت ہے
سَبِھی کے دامَن پہ اَپنے لوگوں کے خُوں کے چِھینٹے لَگے ہُوئے ہیں
یہ پِھر بھی ��ہتے ہیں، کیا مُہذَّب مُعاشَرَت ہے، مُنافِقَت ہے
سُبُو کے نِگَران ہوش کَر لو، حِساب دِینا پَڑے گا تُم کو
کِسی کو جائِز، کِسی کو اُس کی مُمانِعَت ہے، مُنافِقَت ہے۔
کوئی تو ہو، جو سِفارَتوں میں نِکھار لائے، وَقار لائے۔
عَداوَتوں کے نِقاب میں، جو مُراسَلَت ہے، مُنافِقَت ہے۔
سَبھی کی فِطرَت جُدا جُدا ہے، سَبھی کی خَصلَت اَلَگ اَلَگ ہے۔
یہ میرے یاروں میں کوئی بھی گَر مُماثِلَت ہے، مُنافِقَت ہے
مَیں جانتا ہوں تُو بُغضِ دانش میں کِتنا آگے نِکل چُکا ہے
ترا یہ دعویٰ کہ دِل میں اَب تک یِگانگَت ہے، مُنافِقَت ہے
Chemical reactions take place in a matter of femtoseconds. One femtosecond is to a second, as a second is to 32 million years.
#NobelPrize laureate Ahmed Zewail used lasers to watch these reactions in slow motion and study how atoms in a molecule move during a chemical reaction.
تابش کمال کی بہت ہی اعلیٰ غزل
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا، کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو
کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے ، ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہں کوئی ،مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئی تو رو دیا ، جو توُ مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں ، تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد علیگ کی غزل
میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں
مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں
مرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب ثواب ہیں
وہی ایک حرف خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں
نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکر قلندری
جو مرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قرارداد وفا نہیں
ابھی حسن و عشق میں فاصلے عدم اعتماد کے ہیں وہی
انہیں اعتبار وفا نہیں مجھے اعتبار جفا نہیں
وہ جو ایک بات تھی گفتنی وہی ایک بات شنیدنی
جسے میں نے تم سے کہا نہیں جسے تم نے مجھ سے سنا نہیں
میں صلیب وقت پہ کب سے ہوں مجھے اب تو اس سے اتار لو
کہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں میں مرا فیصلہ بھی ہوا نہیں
مرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہرا ایک عہد سیاہ میں
وہ چراغ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کے بجھا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔