یہ عمران خان کی کور کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں۔ نوجوانوں کے مشیر اور یوتھ لون پروگرام کے اہم ذمہ دار، عثمان ڈار، آج اپنی زندگی انجوائے کر رہے ہیں، جبکہ عمران خان جیل میں تنہا اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔
معذرت کے ساتھ، پی ٹی آئی میں میرٹ کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہوا�� جبکہ پارٹی 76 سال سے قابض نظام اور اس ملک کے سب سے بڑے مافیا کے خلاف برسرِ پیکار تھی۔ افسوس کہ عمران خان کی کور کمیٹی میں ایک آدھ شخص کو چھوڑ کر زیادہ تر موقع پرستوں کا ٹولہ موجود تھا، جن کا اصل مقصد صرف عہدے، ٹکٹ اور عمران خان کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا تھا۔مشکل وقت میں بھاگ گئے سب کوئی نا کوئی مجبوری سنا کر یا اپنے سہولتکاروں کے اشاروں پر ۔۔
اسد عمر، فواد چوہدری، علی زیدی، ڈاکٹر عارف علوی، شبلی فراز، حماد اظہر، پرویز خٹک، شفقت محمود، فرخ حبیب، علیم خان، عون چوہدری، عون عباس بپی، چوہدری سرور، جہانگیر ترین اور فیصل واوڈا اس کی نمایاں مثال��ں ہیں۔
انشاء اللہ ان جیسوں کو گھسنے نہی دیں گے دوبارہ ا��لا دور صرف انکا ہوگا جو ظلم جبر فسطائیت کا مقابلہ کرتے اپنے کاروبار فیملی سب برباد کرتے کھڑے رہے ۔
عمران خان کو اگر رہا کروانا ہے تو اس نالائق قیادت کو ہر صورت ہٹانا ہوگا 🚨ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا ‼️
گزشتہ دو سال سے علیمہ خان کے گرد ایک طرف عون بپی اور دوسری طرف معین ریاض قریشی اپنے چند مخصوص ساتھیوں کے ساتھ موجود رہے۔ ہر چار سے پان�� ماہ بعد سوشل میڈیا کے دباؤ پر ایک آدھ بار قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی اڈیالہ حاضری کروا دی جاتی، مگر عملی نتائج کے بجائے مقصد صرف علیمہ خان کو مطمئن رکھنا تھا۔
علیمہ خان نے متعدد بار پارٹی تنظیموں کو کال دی مگر قیادت کی عدم دلچسپی اور منافقت کی وجہ سے پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی بری طرح ناکام رہی بلکہ ناکام بنا دیا گیا
گزشتہ روز علیمہ خان نے مایوس ہوکر اسی قیادت کو اڈیالہ حاضری سے روک دیا ۔یاد رکھیں یہ کل بھی نالائق تھے ان کسی قسم کی کوئی امید نا لگائیں
معین ریاض قریشی اور عون عباس بپی پورا پنجاب ان کے سپرد تھا، مگر ان کی نااہلی کا یہ عالم رہا کہ عمران خان کی رہائی تو دور، انہیں اپنے معالج تک رسائی بھی نہ مل سکی۔
یہ مختصر ویڈی�� کلپ گزشتہ سال عمران خان کی رہائی کے لیے ورکرز کیساتھ مل کر ہم نے جنوبی پنجاب میں منعقد کیے گئے کنونشنز اور ایونٹس کی چند جھلکیاں ہیں، جو سیلاب کے باعث عارضی طور پر روک دیے گئے تھے۔
یہ وہ ٹائم تھا جب تقریبا�� ہر ماہ دفعہ 144 نافذ کر دی جاتی تھی تاکہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی سرگرمی نہ کر سکے۔ ان پروگراموں کے بعد 32 کارکنان گرفتار کیے گئے اس کے باوجود کارکن اگلے ایونٹس کیلئے تاریخیں مانگ رہے تھے ۔
اگر میں ایک عام ورکر جنوبی پنجاب میں اسطرح momentum بنا سکتا ہوں تو 93 ایم پی اے کے حلقے 46 ایم این اے 13 اضلاع 42 تحصیلیں 1400 یونین کونسلز پہ با اختیار اپوزیشن لیڈر معین ریاض عون عباس بپی نے کیوں دھوکہ دیا اپنے لیڈر کو ۔۔
اور پھر خان نے ایسی شکست دی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نظام سرِعام بے نقاب ہو گیا، سرے عام الیکشن نتائج تبدیل کر کے فارم 47 کے جادو سے جعلی حکومت کھڑی کی عدلیہ بے توقیر ہوئی، اور اس ڈر سے کے عمران خان سارا سسٹم لپیٹ دے گا
عمران خان کو 1100 دن سے جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رکھا ہوا ہے۔
مفادات کیلئے لئے عہدوں پہ چپکی قیادت کے خلاف خوش آئند فیصلہ سازی🚨
یہ اکھاڑ پچھاڑ 26 نومبر کے سانحے کے بعد ہی ہو جانی چاہیے تھی، بہرحال دیر آئے درست آئے۔
بھلے وقتوں کی مسلط شدہ نالائق قیادت، جو تحریکِ انصاف جیسی جماعت—جس کا مقابلہ مافیا سے ہے—یہ کبھی اہل ہی نہیں تھی۔ان میں سے زیادہ تر کا مقصد صرف اور صرف دھڑا بندی اور الیکشن رہا ہمیشہ جبکہ عمران خان کا مقصد حقیقی آزادی ہے۔
پھر 9 مئی کے بعد ان تمام کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ کچھ بیرونِ ملک ہیں جو موجود ہی نہیں اور نہ ہی دفاع کر سکتے ہیں، اور کچھ اس قابل ہی نہیں کہ اس مافیا کے آگے ڈٹ سکیں۔
یہ ایک بہت اچھا فیصلہ اور ایک درست شروعات ہے۔
مولانا صاحب! آپ کو میرا چیلنج ہے کہ اپنے مدارس کے تمام طلبہ سے ووٹنگ کروا لیں، اور مقابلہ بھی اپنے ساتھ رکھیں۔
تب آپ کو اندازہ ہو جائے گا پاکستان میں قوم کس کے ساتھ کھڑی ہے ۔
عمران خان بمقابلہ پاکستان کے سب مولانا +سسٹم
جبیب اکرم صاحب آپ کا تجزیہ بہترین ہے یہ عمران خان کو جس جیل بھی بھیج دیں وہاں رونق لگ جائے گی ۔
پیپلز پارٹی کبھی بھی نہی چاہے گی کہ عمران خان ان کے صوبے میں آئے کیونکہ وہان ان کو بھگتنا پڑے گا اور ساری توپوں کا رخ بھی ان کی طرف ہوگا 🔥
ان حقائق سے پردہ اب وہ صحافی اتار رہے ہیں جو ہمیشہ سے آپ کے تھے ۔
جب یہ عالم ہو جائے لوگ اپنی ساکھ بچانے کیلئے سچ بولنے پر مجبور ہو جائیں تو سمجھ لیں سچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔
عمران خان سرخرو ہو کر اور ہر میدان فتح کرے گا یہ ہے اللہ پہ توکل ہمارا ۔
عمران خان زندہ باد پی ٹی آئی خان پائندہ باد🫶🫶
افسوس ناک!
کڑوا ہے مگر سچ—خود فریبی اور چاپلوسی سے نکل کر سوچیں اور آواز اٹھائیں۔
پنجاب سے نہایت کم تعداد میں ارکانِ پارلیمنٹ اڈیالہ پہنچے، اور جو آئے وہ صرف تصویریں بنا کر واپس چلے گئے۔ اعلیٰ قیادت کے چند افراد نے سوشل میڈیا پر دعوے کیے کہ وہ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، مگر سردی اور نیند نے انہیں زیادہ دیر ٹھہرنے نہ دیا۔
رات ڈھائی سے تین بجے کے درمیان وہاں صرف تقریبا�� 20 لوگ رہ گئے—قیادت میں صرف شاہد خٹک، نعیم حیدر پنجوتا، مشتاق غنی موجود تھے، باقی سب عام ورکرز تھے۔
پھر فسطائیت، ریاستی جبر اور سرد رات میں واٹر کینن کے استعمال نے انہیں بھی وہاں سے ہٹا دیا۔
⸻
سوال نمبر 1:
ٹکٹ ہولڈرز عمران خان کی بہنوں کا ساتھ چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟
کیا انہیں پہلے ہی آنے والے حملے کی خبر تھی؟
سوال نمبر 2:
پنجاب کے ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد اتنی کم کیوں تھی؟
سوال نمبر 3:
کیا ہم واقعی اتنے کمزور مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ صرف چہرہ دکھا کر واپسی “فرض” سمجھ لیا جاتا ہے؟
سوال نمبر 4:
اتنی معمولی اور سطحی مہم کے ساتھ کیا ہم عمران خان کو باہر نکال پائیں گے؟
دورِ حاضر کا واحد سپر اسٹار عمران احمد خان نیازی ہیں۔🔥🔥
اگر مزید معلومات درکار ہوں تو آپ نئی انڈین فلم Dhurandhar کی آڈیئنس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ عمران خان کون ہے۔ 💪
ان کا نام استعمال کرکے انڈین فلم ڈائریکٹر دنیا بھر کی آڈیئنس کو متوجہ کرتے ہیں اور اس کے نام استعمال کر کے پیسہ کماتے ہیں۔
خبر انجوائے کریں 😊
قومی اسمبلی سے ملنے والی رقم کے ایک ساتھ 12 ایم این ایز دعویدوار۔۔
مگر رقم نکلی اقبال آفریدی کی جو پی ٹی آئی کے MNA ہیں ۔
سنا ہے دعوے دار باقی گیارہ ایم این اے ن لیگ کے تھے ؟؟😂😂😂
#ARYNews
ڈیرہ غازی خان 🫶🫶
جب آپ کسی شادی کی تقریب میں جائیں اور آپ کو دیکھتے ہی عمران خان کا نعرہ بلند ہو جائے تو اس سے بڑا اعزاز اور سرٹیفیکیٹ اور کیا ہو سکتا آپ کے لئے ۔۔
اب تو سینکڑوں ہزاروں چلتے پھرتے عمران خان ملیں گے آپ کو
عمران خان ایسے سرائیت کر گیا ہے ۔
کچھ بے چارے پابندیاں لگانے کی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
شفیع جان🫶
یہ ہیں وہ نئے اور ابھرتے ہوئے چہرے جنہیں 9 مئی کے بعد موقع ملا، اور جب آپ انہیں PTI کا دفاع کرتے دیکھیں گے تو واقعی رشک آئے گا۔
بدقسمتی سے، سالہا سال سے پارٹی پر مسلط بھگوڑوں کو ہٹا کر اب نئی قیادت کو سامنے لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
پنجاب میں PTI پر مسلط بے شمار نمبر ٹانک لوگ تھے جنہوں نے ذاتی مفادات کیلئے گروپنگ کرکے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا۔ان کے مقاصد صرف اور صرف ٹکٹوں کے حصول رہے ہیں ان کو انقلاب نہی لانا لاتعداد ٹکٹ ہولڈرز اور اسی عہد دار کمپرومائز ہیں جبکہ پی ٹی آئی تو اس کرپٹ نظام کیخلاف ایک انقلابی جماعت ہے۔
خاص طور پر جنوبی پنجاب میں نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس تھا اور نہ ہی ورکرز کو کوئی اہمیت دی گئی۔ توجہ ہمیشہ اسلام آباد اور لاہور تک محدود رہی۔
عالیہ حمزہ نے روپوشی سے پہلے کبھی بھی جنوبی پنجاب کے ورکرز کو نہ سنا، اور نہ ہی ان 80٪ ورکرز اور عہدیداران کی آواز کو اہمیت دی جنہوں نے اپنے صدر عون عباس بپی کے خلاف شدید تحفظات کیساتھ باقائدہ دستخط کر کے پٹیشن فائل کی ۔
PTIجنوبی پنجاب کی تباہی کے ذمہ دار عون عباس بپی اور معین ریاض قریشی ہیں ۔
9 مئی کے بعد عون عباس بپی کی یہ ویڈیو ہے جس میں یہ پارٹی چھوڑ جاتے ہیں ورکرز جیلوں میں ��ڑے رہ گئے اور ریجن کا صدر بھگوڑا ہو گیا تنظیمیں اپنے ورکرز کے پیچھے کھڑی ہوتی مگر صدر ہی بھاگ جائے تو حالت کیا ہو گی ۔۔
ان کے خلاف جنوبی پنجاب کے 2000 ہزار عہدہدران نے عدم اعتماد کی پٹیشن دے رکھی ہے۔
مگر الیکشن ہوتے ہی حالات جیسے ہی قدرے بہتر ہوئے مشکل وقت میں بھاگ جانے والے کو ظلم جبر فسطائیت کا ڈٹ کر سامنا کرنے والے ورکرز پہ دوبارہ صدر لگا دیا گیا ۔۔
ان کو کسی صورت جنوبی پنجاب کا ورکر تسلیم نہی کرتا یہ وہ بھگوڑے ہیں جن کو پارٹی میں پلانٹ کیا گیا ہے ورنہ کوئی ایک مثال ہے تو بتائیں 9 مئی سے پہلے والی کسی اعلی قیادت جو چھوڑ گئی ہو اور اسے پارٹی میں لیا گیا ہو۔۔
عون عباس ��پی کو کسی صورت دوبارہ نا سینٹر بننے دینگے نا اس کسی تنظیمی عہدے پہ رہنے دینگے ۔
ان کو جو بھی پارٹی میں سہولتکاری دے رہا ہے اسے بھی بے نقاب کرینگے ۔۔
نوٹ : اگر کل اڈیالہ جیل کے باہر جنوبئ پنجاب کے تمام ٹکٹ ہولڈرز جن کی تعداد 46 -MNA اور 93-MPA ہے یقینی نا ہوئی تو ورکرز ان کے پارٹی کے اندر بیٹھے سہولتکاروں کو پکڑیں گے ۔۔