Believing they were engaging Taliban fighters, NATO aircraft launched strikes on the positions associated with the operation.
What was never publicly reported was that,alongside the 24 Pakistani soldiers killed, two ISI officers escorting the LeT unit also died in the strike.
During one such operation, an LeT unit accompanied by ISI handlers moved toward Fazlullah's network from positions near the Salala sector.
NATO surveillance assets detected the movement and identified it as a Taliban infiltration.
If anyone remembers the widely publicized Salala Checkpost incident of November 2011, the story was very different from what was publicly presented.
The incident exposed the TTP–LeT dynamics and the covert games being played along the Afghanistan-Pakistan border.
🚨 Interesting days ahead: A pro TTP account a few days ago called Lashkar e Taiba the “B team of Pakistani intelligence” and described it as the biggest obstacle to TTP expansion in Gilgit Baltistan and nearby areas. It also stated that LeT was involved in the arrest and killing of many TTP members in the region.
OsintTV earlier reported that some JeM members joined TTP and fought against Pakistan. These developments suggest growing tensions and shifting narratives around these groups and their reported links with ISI.
Credit : @cozyduke_apt29
To target Fazlullah, the ISI used Lashkar-e-Taiba (LeT) cadres as a deniable special operations force.
These teams operated from ISI-controlled border posts on the Pakistani side and were tasked with infiltrating across the border into Afghanistan.
The roots of the incident go back to Operation Rah-e-Rast in Swat in 2009.
Following the operation, TTP chief Mullah Fazlullah relocated to Afghanistan's Kunar Province, where he established his camp not far from NATO's forward base.
NATO claimed its forces had come under fire from the Pakistani positions and responded accordingly.
Pakistan rejected the explanation, describing the attack as unprovoked and indiscriminate. The official narratives, however, concealed what was actually happening on the ground.
In November 2011, NATO Apache helicopters and F-15s struck the Salala border posts in Pakistan's Mohmand Agency, killing 24 Pakistani soldiers, including a Major and a Captain.
The strike led to a major diplomatic crisis between Pakistan and NATO.
#BREAKING: Over 30 killed and 200 injured in PoK protests as Pakistani Military targets ordinary civilians. Over 500 people arrested so far including children. Dearth toll could be significantly higher. Unofficial claims indicate over 400 civilians killed.
Visuals from Pallandri, Pakistan occupied Kashmir. While Western media reports say 11 have died, concerns remain over actual toll amid communication blackout.
کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ جذباتی نعرے کسی بھوکے کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیر ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی۔ گلگت اور بلتستان کے علاقے ریاست کشمیرکاحصہ تھے اور ریاست کشمیرپر ڈوگرہ راج قائم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد27، اکتوبر1947ء کو ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستان نے قبائلی اورافغانی عوام کے فوجی دستے تشکیل دیکر کشمیرپر حملہ کردیا۔ انڈیا کے ردعمل کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اورانڈین فوج نے پیش قدمی کرتے کرتے آدھے سے زائد کشمیرواپس اپنے کنٹرول میں لے لیا جبکہ دیگرکشمیر پر پاکستان کا کنٹرول قائم ہوگیاجسے ختم کرنے کیلئے انڈین فوج کی پیش قدمی جاری تھی کہ اسی دوران انگریزوں نے جنگ بندی کرادی اور لائن آف کنٹرول بنادی کہ جب تک اقوام متحدہ یہ فیصلہ نہیں کردیتی کہ پورا کشمیر کس کے ساتھ جائے گا اس وقت تک کشمیر کا جوحصہ انڈیاکے کنٹرول میں وہ انڈیاکے پاس رہے گااورجوحصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس طرح ریاست کشمیرIndian Occupied Kashmir اورPakistan Occupied Kashmir بن گئی۔ اقوام متحدہ نے حکم دیا کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد خودمختار کشمیر چاہتے ہیں۔ 78 برس گزر گئے لیکن آج تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کاحل نہیں نکال سکی اورکشمیرکا مسئلہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان فٹبال بن گیا۔ میں 48 برس سے یہ کہتاآرہا ہوں کہ کشمیر صرف کشمیری عوام کا ہے اور کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے مگر انڈیا اور پاکستان کشمیرکو فٹبال کی طرح کھیلتے رہے، اس کھیل میں دونوں طرف کے کشمیریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوتا رہا، ہجرتیں ہوتی رہیں اور خاندان تقسیم ہوتے رہے۔
اگست2019میں انڈیا نے اپنے آئین کی شق 370 کوختم کرکے اپنے زیرکنٹرول کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنالیالیکن پاکستان کی جانب سے اس پرکچھ نہیں کیا گیا اورانڈیا کے زیرانتظام کشمیرانڈیا کا حصہ بن گیا۔ گزشتہ 78برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کشمیری عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے دیئے، جہادی تنظیمیں بنائیں اور کشمیری نوجوانوں کو کشمیر جہاد کی آگ میں جھونک دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کواستعمال کیا، جماعت اسلامی نے فوج کی بی ٹیم کاکردار ادا کیا، وہ ہمیشہ فوج کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی، کشمیرکے نام پر جگہ جگہ کیمپ اور اسٹال لگاکرنہ صرف عطیات جمع کرتی رہی بلکہ کشمیرکی آزادی کے لئے جہاد کے نام پر نوجوانوں کی بھرتی کرتی رہی۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو جہاد کا درس دیکر ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑدیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی لیڈرنے اپنے بچوں کو کشمیرکے جہاد پر نہیں بھیجا بلکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ کشمیری عوام کی تمام ترہمدردیاں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں، پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوتے رہے، وہاں صدر اوروزیراعظم بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہ سب پاکستان کی فوج، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے تحت کنٹرول کیے جاتے رہے۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کشمیر کےنظام حکومت پرجس طرح اثرانداز ہوتی رہیں اس حساب سے کشمیرمیں بہت ترقی وخوشحالی ہونی چاہیے تھی اورکشمیر کو گل وگلزار بن جانا چاہیے تھا مگرپاکستان آزادکشمیرکے وسائل، پانی، بجلی، گیس اور دیگر معدنیات کو تو استعمال کرتا رہا لیکن کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔
کشمیری بزرگ مذہبی جنون اورخوشنما نعروں میں اتنے غرق تھے کہ وہ بنیادی وسائل سے محرومی اوربھوک وافلاس کے باوجود جذباتی نعرے لگاتے رہےلیکن جذباتی نعرے کبھی کسی بھوکےکاپیٹ نہیں بھر سکتے۔ میرا سوال ہے کہ اگرپاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں عوام کو یہ ٹاسک دیں کہ ملک کے 25 کروڑ عوام 40 دن تک اللہ اکبر کاوظیفہ پڑھتے رہیں تو کیا اس سے کشمیر آزاد ہوجائے گا اورپاکستان کا حصہ بن جائے گا؟ اگرصرف نعرے لگانے سے فتوحات مل سکتیں تونبیوں کے نبی،حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کبھی تلوار ہاتھ میں لیکر جنگوں میں میں شریک نہیں ہوتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6، جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئیے 👇)
https://t.co/aiXjyb8imX
آزاد کشمیر سے دل دہلانے والے مناظر 💔 💔
راولاکوٹ اطلاعات کہ مطابق چار نوجوانوں کو بے دردی سے #گولیاں ماری گئی ہے, جنہیں سی ایم ایچ راولاکوٹ منتقل کیا جا رہا ہے