ویسے تو زندگی میں مختلف لمحات آئے جب انسان مغموم ہوتا ہے۔ ذاتی امتحان یا صدمے تو ہر کسی کا اللّٰہ سے انفرادی و بہت ہی ذاتی معاملہ ہوتا ہے لیکن سیاسی سفر کی بات کی جائے تو چند لمحات ایسے ضرور ہیں جنہوں نے واقعی دکھی کیا۔
اپنی جیل اور اسیری کے دن کوئی ایسی بات نہیں کہ بندہ ہر وقت دوسروں کے سامنے اپنی تکلیف کا ذکر کرے۔ ویسے بھی اگر آپ بے گناہ ہوں تو پھر زندان اللّٰہ کے قرب کازریعہ بنتا ہے سو اسیری کے ایام کا ذکر ضروری نہیں سمجھتا۔
تحریک انصاف کیساتھ اس طویل سفر میں ایک دو واقعات نے واقعی دل پہ اپنا اثر چھؤڑا۔
عجیب بات یہ ہے کہ اپنے پہ گزری کسی تکلیف امتحان جیل کے دن یا لوگوں کی بے جا تنقید کا کوئی خاص اثر نہیں۔ اللّٰہ استقامت دے ہی دیتا ہے۔ جیسے میرا ایک اُصولی سیاسی موقف ہے کہ خان صاحب اور باقی اسیران کی رہائی مذاکرات یا کہیں کوئی مکالمہ کر کے ہوگی کیونکہ ان پہ مقدمات کوئی اصلی نہیں سارے سیاسی ہیں تو انکا حل بھی سیاسی ہے۔ کچھ ساتھی سمجھتے ہیں کہ صرف احتجاج سے ہوگا۔ نقطہ نظر کے اس اختلاف پہ لوگوں نے کیا کیانہیں کہا۔ یقین جانیے اس کا کوئی خاص اثر نہیں۔
جس چیز پہ میں کلئیر ہوں پھر اس سے میں پیچھے نہیں ہٹتا چاہے سارے ہی کیوں نہ خلاف ہوں۔ یہی وہ جزبہ تھا جس نے مجھے 9 اپریل کی رات پارلیمان میں تن تنہا کھڑا رکھا۔ میں اس پہ کلئیر تھا کہ جو ہو رہا ہے غلط ہے اور میں نے یہاں اپنے لیڈر کا مورچہ خالی نہیں چھوڑنا۔
یہی clarity یا سوچ کا ٹھراؤ جیل میں بھی اللّٰہ نے نصیب کیا کہ جب سب چھوڑ کرجا رہے تھے تو میں کوئی لوہے کا بنا ہوا تو نہیں تھا۔ مجھ پہ بھی کمزور لمحہ آسکتا تھا لیکن اللہ نے دل میں اک عجب اطمینان ڈالا کہ جہاں کھڑے ہو اور جس کے ساتھ کھڑے ہو وہ جگہ صحیح ہے۔سو امتحان تھا اللّٰہ نے عزت سےسرخرو کیا اور خوش اس بات پہ ہوں کہ جب باہر آیا تو خان صاحب کاخود میسیج آیا اور انہوں میری اس چھوٹی سی قربانی پہ مجھے حد سے زیادہ سراہا۔ اپنے لیڈر کے وہ الفاظ میرا سرمایہ ہیں۔
لیکن تحریک انصاف کے اس اس سیاسی سفر میں جن چند واقعات نے دل دکھی کیا وہ میری اپنی ذات سے متعلق کم اور میرے لیڈر اور رفقاء سے متعلق زیادہ ہیں۔
ایک واقعہ جو ذہن سے کبھی نہیں نکلتا اورشاید ساری زندگی اک داغ کی طرح سینے میں رہے وہ ہےخان صاحب کاان ظالموں کے ہاتھوں کالر سے پکڑ کر کھینچنا تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے یہ محض اس شخص کا کالر نہیں ہماری روح ہے جسے کانٹوں پہ گھسیٹا جا رہاہے۔ اپنے بچپن کے ہیرو اپنے لیڈر اورسابق وزیراعظم کےساتھ یہ سلوک وہ باہر آجائیں دوبارہ وزیراعظم بھی بن جائیں جنہوں یہ کیا وہ معافی بھی مانگ لیں تو شاید خان تو معاف کردے لیکن میرا دل کا وہ داغ شاید نہ دھل سکےجو ۹ مئی کے دن پوری قوم کے دل کو لگا۔
دوسرا واقعہ جس کا درد اتنے سال بعد آج بھی محسوس کرتا ہوں وہ شہریار آفریدی بھائی کا خالی آنکھوں کمزور بدن اور تاثرات سے خالی چہرے کے ساتھ ہاتھ میں قرآن تھامے اک صبر آزما اسیری کاٹنے کے بعد ان کی جیل سے رہائی کا دن تھا۔ لوگ کتنی جلدی بھول جاتے ہیں۔ قوم کا یہ وفادار بہادر اور دین دار سپوت اس سلوک کا مستحق تو ہرگز نہ تھا۔
ہاں تیسرا واقعہ ضرور میری ذات سے بھی متعلق ایک ہے جب طویل اسیری کے دوران آبائی علاقہ مردان کی دہشتگردی کی عدالت میں ملک سے غداری کا جھوٹا الزام لگا۔ دل جیسے کٹ کے رہ گیا کہ وہ جو اس پیر محمد خان کا پوتا ہے جس نے جناح کےساتھ ملکر پاکستان بنایا آج اسی علی محمدکو غدار کہہ رہے ہیں جس کے سیاست میں آنے کا مقصد ہی پاکستان کی سربلندی و استحکام ہے۔ یہ تو چلو بیچ میں اک پرسنل ذاتی بات بھی آگئی۔
لیکن جو ایک اور واقعہ نے دل پہ بہت بوجھ ڈالا وہ یہ ہے کہ چلو خان صاحب ، شہریار آفریدی یا میرے ساتھ تو اغیار نے کیا جن کو ہم نے کم از کم کبھی غیر نہیں سمجھا لیکن جو سینئر رہنما اور بڑے بھائی شوکت یوسفزئی بھائی کے ساتھ ہوا اور ان کی آنکھیں بھر آئیں اور ان سے بات تک نہ ہوسکی وہ تو اپنوں کے ہاتھوں ہوا۔
کیا صرف نقطہ نظر اور طریقہ کار کے اختلاف پہ کسی کو غدار کہنا جائز ہے ؟ اور وہ بھی اس شخص کو جس نے زندگی کے 29 سال اسی تحریک کو دئیے۔ جنہوں نے غداری کے فتوے بانٹے وہ تب شاید پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب سے یہ شریف آدمی عمران خان کے ساتھ ہے۔
کیا اپنوں سے اپنے ملک کے وفاداروں سے یہ سلوک جائز ہے۔
یاد رکھیے جو لوگ اپنے وفاداروں کی بے قدری کرتے ہیں وہ پھر بے وفاؤں کے ہاتھ میں ہی کھیلتے ہیں۔
اللّٰہ ہمیں حق کو پہچاننے سچ کہنے ایک دوسرے کی قدر کرنے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہوئے اور اختلاف کے باوجود باہمی عزت و تکریم کے رویے اپنانے کی بھی توفیق دے اور اس ملک کی حقیقی خدمت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائۓ تاکہ ہم اسے جناح کا پاکستان بنا سکیں۔ آمین
پاکستان 🇵🇰 زندہ باد
Have you checked if human rights been adhered to or violated?
Pakistan is run by dictator. All human rights are abandoned. No freedom of speech. Elections 2024 were stolen by the army and brought the losers into power and put the winners in jail.
Pakistan is one of the world’s longstanding & largest contributors to @UNPeacekeeping.
It was inspiring to meet some of the Pakistani women & men #ServingForPeace with courage & distinction in some of the most world’s most difficult & dangerous environments.
I thank them for their service & sacrifice.
مجھے خفیہ ادارے نے کہا کہ آپ کمپرومائز کر لیں اور ہماری طرف سے MNA بن جائیں۔ میں نے کہا، “میں تو روزانہ آپ کے خلاف وی لاگ کرتا ہوں۔” انہوں نے کہا، “آپ MNA بننے کے بعد بھی کرتے رہیے گا، لیکن جب آپ کے ووٹ کی ضرورت ہوئی تو وہ ہمیں دینا ہوگا!جاوید ہاشمی۔
Everyone protesting in Pakistan should be able to do so safely and without fear. I stand with all those fighting for human rights, democracy, and the rule of law in Pakistan.
پنجاب سے سب سے بڑا قافلہ شیخ وقاص اکرم کی قیادت میں ہرے بھرے کھیتوں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔ دوسری طرف علی محمد خان بھی اپنے 7 لاکھ کارکنوں کے ہمراہ دبے پاؤں اسلام آباد کے لیے نکل پڑے ہیں۔
🚨مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں
ایک بیٹا فخر علی شاہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہے ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور دوسری بیٹی فرح ناز فیصل بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہے دوسرا بیٹا قلندر علی شاہ کاروبار زمینیں اور باغات سنبھالتا
بھانجے طلحہ پٹھان نے علاج کے بہانے انہیں ٹنڈو جام لے جا کر یتیم خانے میں چھوڑ دیا جہاں وہ سات مہینے اپنی اولاد کے انتظار میں راہیں تکتے تکتے وفات پا گئیں ہیں
اتنی پڑھی لکھی اور بڑے عہدوں پر فائز اولاد ہو اور ماں لا وارثی میں یتیم خانے میں مرے تو ایسی اولاد کو "ڈوب. مر جانا چاہیے
ایسی دنیا کی پڑھائی ایسی دولت ایسی مصروفیت ایسی زندگی اور ایسی اولا پر افسوس کہ جس کے حاصل ہونے کے باوجود انسان انسانیت سے گر جائے
یہ ان ماں باپ کے لیے سبق ہے جو بچوں کو دنیا کی پڑھائی کے لیے امریکا یورپ اسٹریلیا دنیا کے کونے کونے میں میں کہاں کہاں نہیں بھیجتے اور دین کی تعلیمات سے دور اور محروم رکھتے ہیں تو آخری میں پیرنٹس کا یہ انجام ہوتا ہے 😢
پاکستان کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں اور دریاؤں میں پانی کی جگہ پیٹرول بہنے لگے۔ تب بھی یہ ملک مقروض ہی رہے گا۔ کیونکہ اوپر چور ڈا کو جو مسلط ہیں۔ خالد انعم
#pakistan@khaledanam1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
Javed Hashmi will be leading the long march from Multan tomorrow at 5 PM, starting from 9 Number Chungi.
PTI supporters in Multan/Punjab, take note. A leader is stepping forward to lead the march u all must join
”ان شاء اللہ کل دوپہر 2 بجے حیات آباد انڈر پاس سے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ پشاور کے غیور عوام سے اپیل ہے کہ بھرپور تعداد میں نکلیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ پشاور عمران خان کے ساتھ تھا، ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔
ہم ایسی کوئی پالیسی قبول نہیں کریں گے جس سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ کھلے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے مستقبل کے فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
پشاور ہمارا دارالخلافہ اور پھولوں کا شہر ہے، ہم اسے دوبارہ بارود، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ تمام غیرت مند پشاوری کل لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔ “ - وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پشاور کے عوام کے نام اہم پیغام.
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
سہیل بچے،
بلاول اور آپ ہم عمر ہیں لیکن بلاول علم، تجربے، سیاسی سوجھ بوجھ میں آپ سے ھزار گنا آگے ہے۔
بلاول نے جب آپ سے کہا کہ آپ فتح کا اعلان کر کے واپس جاکر بقیہ وقت میں صوبے کے عوام کی خدمت کریں تو دراصل انہوں نے آپ کی طرف ایک سیاسی رسی پھینکی تھی تا کہ آپ سیاسی گڑھے سے باہر نکل آئیں۔ آپ اس رسی کو گڑھے سے باہر نکلنے کی بجائے اسے اپنے گلے میں پھندہ لگا کر سیاسی خودکشی کرنے کیلیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویسے بچے، ہو سکتا ہے کہ آپ کی عادت بلاول کی طرح لکھنے پڑھنے کی نہ ہو، لیکن اگر آپ حادثاتی طور پر چار کروڑ عوام کے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن ہی گئے ہیں تو تاریخ کا مطالعہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ بلاول کے نانا نے آخری وقت تک پاکستان کو متحد رکھنے کی کوشش کی تھی -
جب پاکستان ٹوٹ گیا تو بلاول کے نانا نے ہی بچے کھچے پاکستان کو متحد کیا اور نئے پاکستان کا نعرہ بھی انہوں نے ہی آج سے 55 سال پہلے لگایا تھا۔ آج کے پاکستان کی آئینی، معاشی، معاشرتی اور دفاعی عمارت کی بنیاد بلاول کے نانا نے ہی رکھی تھی۔
رہی بات بلاول کے والد کی تو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پورے ملک میں آگ لگی ہوئی تھی تو اس وقت بلاول کے والد ہی تھے جنہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر وہ آگ بجھائی تھی، ملک کو پارلیمانی نظام اور حقیقی صوبائی خودمختاری دی تھی، جس پر آپ آجکل چھلانگیں لگا رہے ہیں۔
بلاول اور ان کے والد نے ہی ایک بار پھر آپکے لیے مذاکرات کا دروازہ کھولا ہے جسے آپ نے ٹھُڈے مار کر بار بار بند کر رہے ہیں۔