عمران خان صاحب کی سائفر کیس میں ضمانت کےلیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے!
نیب توشہ خانہ کیس ،القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت اور توشہ خانہ کی Conviction کو معطل کرنے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہے،
ہم اوپن ٹرائل اور جیل کے اندر سماعت نہیں ہو سکتی اس درخواست پر جلد فیصلے کی استدعا کرتے ہیں!
آخر میں الیکشن کی تاریخ تو آگئی اب پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ بھی مہیا کی جاۓ !
More than 18 people were killed and over 60 injured in sectarian clashes in #Parachinar. Note; this list includes names of one group only. The question is what authorities are doing and where are they. ?
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں، آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی
انتخابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا، جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی بڑی ہوتی ہے۔ آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔ انتخابات کے لیے سازگار ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اٹھا رکھا ہے۔ صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدر مملکت حلف لیتے ہیں، عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی
علیم خان کے جس ملازم صحافی کا دعویٰ ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے پاس سب سے تگڑے امیدوار ہیں، کیا وہ پنجاب کے 297 حلقوں اور قومی اسمبلی میں پنجاب کے تقریبا 141 حلقوں پر کوئی سے 40 "تگڑے" امیدواروں کے نام زبانی بتا سکتے ہیں؟
ہر آئینی عہدہ رکھنے والے عہدیدار اور آئینی ادارے کا مقصد آئین کی سخت پابندی کرنا ہے جو کہ پاکستانی عوام کے مفاد میں ہے۔ ہرادارے کو میچورٹی اور انڈر سٹینڈنگ پروان چڑھانی چاہیئے اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو پھر وہ دیکھیں کہ کیا وہ پاکستان کے عوام کی خدمت کررہے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی
عوام پاکستان حقدارہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں، ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارا کردار صرف سہولت کاری کا ہے، انتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہو چکا ہے، 8 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی
ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں،
آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں ، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا، سپریم کورٹ آگاہ ہے، ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے، انتخابات ��ی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا، یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے، یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے، یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں ہر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے، یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اٹھا رکھا ہے، چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی
اگر میڈیا نے انتخابات سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے تو وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے، کسی چینل نے پٹی چلائی کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں ہوں گے تو ایکشن ہوگا، اگر کسی میڈیا ہاوس نے الیکشن سے متعلق ابہام پیدا کیا تو الیکشن کمیشن پیمراکو شکایت کریگا، میڈیا والے مائیک پکڑکریہ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابات کے انعقاد میں شبہ ہے، اگر کسی کے دماغ میں شک ہے تو رہے لیکن عوام پر اثرانداز نہ ہوں، میڈیا والے بتائیں کہ جھوٹ بولنا ان کا حق تو نہیں ہے، میڈیا کی آزادی آئین میں دی گئی ہے، ہم میڈیا کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے، کسی میڈیا والے کو انتخابات پرشبہات ہیں تو عوام میں نہیں بولے گا ہاں مگر اپنی بیوی کو بتا سکتا ہے،کہیں ایسا نہ ہو شام کو ٹی وی پہ یہ خبر چلے کہ پتہ نہیں کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں، میڈیا میں انتخابات نہ ہونے کی خبریں چلنے سے عوامی رائے متاثر ہوتی ہے، انتخابات کے انعقاد سے متعلق شک و شبات والی منفی خبریں چلیں تو پیمرا کارروائی کے لیے موجود ہے،کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ انتخابات کی تاریخ ہم نے دی ہے، اظہار رائے سے متعلق آرٹیکل 19 توموجود ہے لیکن آئین پر عمل داری بھی ہر شہری پر فرض ہے، انشااللہ ہر کوئی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی
آج (3 نومبر ) ہی کے روز 15سال قبل آئین سے تجاوز ہوا ، آج تک آئین سے تجاوز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آئین کی خلاف ورزی کی تاریخ سے سیکھنا چاہیئے۔ آئین کی خلاف ورزی کے لوگوں اور پاکستان کی سرزمین پر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ عدالتیں غیر ضروری معاملات میں ملوث نہیں ہوتیں ، عدالت کا قابل ذکر وقت معاملات کو حل کرنے اورایڈوائس کرنے میں لگ جاتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی
اگر الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کرواسکتا تو پھر گھر جائے،اگر انتخابات نہیں ہوں گے تو ہم دیکھ لیں گے۔ پاکستان کے عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں عام انتخابات ہوں۔ جتنا بڑا آئینی ادارہ ہوگا اتنی ہی بڑی ذمہ داری اس پر ہوگی۔ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوانے میں اپنا معمولی کردار اداکیا ہے۔ آئین کو بنے 50سال ہو گئے ہیں اورکسی آئینی آفس اورآئینی باڈی کا کہنا ��ہیں بنتا کہ وہ آئین سے آگاہ نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی
سورت "الرحمن" قرآن پاک کی وہ سورت ہے جو لفظ" الرحمٰن" سے شروع ہو تی ہے جس میں شروع سے لے کر آخر تک" اللہ تعالیٰ کی صفات" بیان کی گئی ہیں۔ یہاں پر ایک جگہ" اللّٰہ تعالیٰ فرماتے" ہیں کہ "سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں یعنی آسمان کے تارے اور زمین کے درخت سب
"اللہ تعالیٰ کے قانون" کے پابند ہیں"
ان دونوں آیتوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس "کائنات کا سارا نظام اللّٰہ تعالیٰ کے حکم" کے "تابع "ہے اور اسی کی" اطاعت" میں چل رہا ہے۔
زمین سے لے کر آسمانوں تک نہ کوئی خود مختار ہے اور نہ کسی اور کی خدائی اس جہان میں چل رہی ہے۔ نہ خدا کی خدائی میں کسی اور کا دخل ہے ہم سب اللہ تعالیٰ کے بھیجے گئے ہیں۔
اور وہ "ایک واحد تنہا"
ہرچیز پر" قادر "ہے بے شک۔
پاکستان کی موجودہ سیاست کے سب سے بڑے مقدمے کی سماعت کا احوال
جسٹس عیسٰی نے 11 دسمبر 2017 کی تاریخ دوہرا دی،
دال میں کچھ کالا ہے یا انتہائی نیک نیتی سے بڑا حکم جاری؟؟👇
https://t.co/hMnkGNewW8