جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
@MuradSaeedPTI پس ایک بار پھر ثابت ہوا کہ وقتی طور پر ملک کچھ نیچ خود غرض اور ودنمائی کے مارے لوگوں کے قبضے میں ضرور ہے ورنہ اس دھرتی کی کوکھ سے آج بھی غیرت مند جنم لیتے ہیں جو وطن اور اپنے لوگوں کے لیے جان بھی قربان کرنے سے نہیں چوکتے۔ ایسے ہر غیرت مند کو اور اسے جننے والی ماں کو ہمارا سلام
@GFarooqi اس عدلیہ کے پاؤں میں گھنگھرو باندھ دیں تا کہ آپکے ساتھ عسکری ٹھمکے لگا سکے۔ اور اس دن کا انتظار کریں جب یہ وقت آپ پر ایا۔ پھر بتائیں گے اس دن کہ کیا کرنا ہے۔
اینٹی سٹیٹ ٹویٹس کرنے والوں کو چھل کر رکھ دیں گے منڈ کے رکھ دیں گے
این سی سی آئی اے کی ٹیمز ہر ڈسٹرکٹ میں سوشل میڈیا کی نگرانی کر رہی ہیں اینٹی سٹیٹ ٹویٹس اور پوسٹ کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا یہاں مورخ کہہ رہا دوڑ اپنی اپنی جے
@SaleemFarrukh@GFarooqi ہر جگہ بددیانتی ہر جگہ ملک پر مسلط مافیا کے سامنے دست بستہ اور ہر جگہ حقائق کو مسخ کرنا اس نام نہاد دانشور کا پیشہ ہے۔ تم سے تو کوٹھے پر بیٹھی طوائف بھی بہتر ہو شاید کہ وہ بھی جسم بیچتی ہے مگر ضمیر کا سودا نہیں کرتی تمھاری طرح
Video for International Media & Observers on Pakistan’s Governor’s Rule in KP and imposing of Emergency in the province.
The mandate snatching and killing of democracy series in Pakistan continues.