إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مراد سعید کے گھر پر ریڈ ۔ بھائی کو والدہ کو ہراس کرنا۔ گھٹیا ترین حرکت۔ یہ حرامی پن نہیں تو اور کیا ہے۔
فسطائیت کی رات جتنی بھی لمبی ہو انشاللہ سچ کا سورج طلوع ہو گا۔ اور پھر احتساب ہو گا۔ انصاف ہو گا۔
1۔ عمران خان تین سال سے جیل
2۔ انکی منکوحہ 2 سال سے جیل
3۔ انکی 3 بہنیں اور ایک کزن مہینے سے جیل
4۔ 100 سےزائد ورکرز شہید
5۔ درجنوں معزوری کی حدتک زخمی
6۔ ہزاروں ورکرز جیل
7۔ درجنوں اہم ترین و بزرگ رہنما جیل
8۔ سینکڑوں گھروں پرریڈ اور توڑپھوڑ، ماوں بہنوں کی تزلیل
9۔ کاروبارجبری طورپر بند، مکانات و بلڈنگیں سیل
10۔ بینک اکاونٹ بند، پاسپورٹ بند، سفر پہ پابندی
11۔ بچوں کےاسکول بند، سہمے سہمے وحشت و دہشت کا شکار
12۔ گھروں کےبزرگ، مائیں بہنیں خوف و خدشات سے جان لیوا بیماریوں کا شکار۔
ہم سب مر بھی جائیں تو ہماری نسلیں یاد رکھینگی۔
عمران خان آپ جیل بیٹھ کر غریبوں کے مفت علاج کے لئے ہسپتال بناتے چلے جارہے ہیں لیکن افسوس کہ خود آپ کو اپنی مرضی کا علاج میسر نہیں ۔۔۔
اللہ کریم آپ کو شوکت خانم سے مفت علاج کرانے والے مریضوں ، ان کے والدین کی دعاوں سے جیل میں کچھ نہیں ہونے دے گا انشااللہ
آپ سرخرو ہو کر نکلیں گے ، پہلے سے زیادہ صحت مند نکلیں گے انشااللہ
ماہرہ خان جیسے پاکستانی ہیرو ہیں جو اس کاز کے لیے کام کررہے ہیں
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
Forcibly evicting @MuradSaeedPTI elderly and disabled mother from her home and throwing her belongings onto the street is state brutality at its most shameful. What kind of lawlessness targets the mother of a political opponent? This is a flagrant violation of human dignity, fundamental rights and the rule of law. This is Viceroy Kundis Rule for you.
یہ چیز دماغ میں رکھ لو۔ عمران خان ایک ہی ہے۔ مت کوشش کرو کسی اور کو اس کا substitute بنا کر پیش کرنے کی۔ مت کرو یہ نئی نئی لانچیں۔
عمران خان کو یہ مقام کسی شعبدہ بازی سے نہیں ملا کہ آپ اپنی فنکاری سے یہ مقام کسی اور کو دلوا لیں۔
کوشش کریں آپ کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا
ایک وزیراعلی ایک سپیکر اسمبلی پارٹی کا صوبائی صدر اغواء ہیں۔ ان کی حالت کسی کو معلوم نہیں۔ ان کی سیاسی جماعت انکے لیے پریس کانفرنس تک نہیں کرپائی۔ بلکہ بلاوجہ کی اندرونی لڑائیوں میں مصروف ہیں گویا سہیل آفریدی سے جان چھڑوا کر بہت اچھا ہوا۔
سوشل میڈیا ایسے موقعوں پر کمان سنبھال لیتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بھی سرٹیفکٹیس بانٹنے میں مصروف ہوگئے اور اصل موضوع بہت پیچھے رہ گیا۔
اسی کے ساتھ عمران خان قید تنہائی میں ہے۔ عمران خان کی اہلیہ اور بہنیں قید میں ہیں۔ یہ گویا اب نہ عمران خان کی جماعت کا مسئلہ رہا ہے نہ ہی اسکے سوشل میڈیا کا مسئلہ رہا ہے۔ افسوسناک ، افسوسناک۔
Lest we forget, Imran Khan continues to be held in a 6x8 prison cell for 3+ years now.
Most of us here wouldn't survive 3 months in a seven-star resort, disconnected and isolated from the world, family, and human contact. And yet, just because he is braving prison with grace, his suffering and pain have been normalized.
And those who raised their voices for his release, his sisters, and cousins have also been abducted and imprisoned.
Our future generations will look back in history and wonder in horror how any of this was even allowed.
بار سکیم سواتی سہیل آفریدی جنید اکبر احسان طور غائب ہیں۔ اغواہ ہیں۔ گرفتار ہیں۔
کدھر ہے ہمارا KP میں ILF وکلا۔ لیبر ونگ۔ کیا ہر روز انکے غائب کئیے جانے پر ایک ایک پریس کانفرنس۔ یا والک نہیں ہو سکتی۔ وکلا بھی غائب۔
ظالمو کوئی چھوٹا موٹا چراغ تو جلاؤ۔
پنجاب کے 100 MPA. کیا ایک پریس کانفرنس؟
ایم این اے۔ سینیٹر۔ ایک والک سپریم کورٹ تک ؟
کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ؟
I have personally never ever been close to Sohail Afridi. I have been nowhere near govt over the last 2.5 years either, directly or indirectly.
But I raise a voice for CM Afridi, Speaker Babar Swati, President Junaid Akbar; and many others, because they deserve it - because we are all in the same cause IK fights for - and it is only a reflection of the complete absence of the law in Pakistan that these individuals are detained. Remember, the CM, Speaker and Ministers are all part of the state as defined in our constitution.
However, individual voices are not enough. Everyone in the party has a responsibility to speak. And those in particular in positions of power in the govt, those holding office in the party, those close to the CM and Junaid, those thumping their chests a few days ago, hold greater responbility.
In everything that's happening today, the biggest challenge for PTI is not the lawlessness of the state. It is the fact that as a party we have descended into individuals looking out for themselves and speaking to the gallery.
This must change. It must change from the top. And the day it does is the day the tables start to turn.
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
Video for International Media & Observers on Pakistan’s Governor’s Rule in KP and imposing of Emergency in the province.
The mandate snatching and killing of democracy series in Pakistan continues.
#FreeKhalidKhurshid
All patriots are abducted/jailed, while the Daaku Duffer Alliance ruling Pakistan.
The power and fascism cannot last forever. One day, there will be rule of law in our country and these resilient heroes will be celebrated forever.
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔