جس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر ��اج لگانے کی بات ہو رہی ہے اس خیبرپختونخوا کی عوام کا اپنی حکومت اور اپنے لیڈر عمران خان سے محبت کا اندازہ کریں کہ یہ صرف ایک شہر مردان کے مناظر ہیں
اور یہ عوام صرف مردان سے نکلی ہے ، ایک ایک شہر میں ہزاروں افراد نکل رہے ہیں اور پرجوش ہیں، ایسے عوامی جذبے کو اگر اسٹیبلشمنٹ جنرل یحییٰ کے طریقے سے کچلنے کی کوشش کرے گی تو پھر عوام ردعمل دے گی اور وہ ردعمل کوئی برداشت نہیں کرسکے گا
اگر اسی طرح سارے نوجوان سامنے اگئے تو پاکستان کو بدلنے میں کچھ دیر لگیں گے سہیل افریدی مائنڈ سیٹ گیم کھیل رہا ہے پورے پاکستان کہ حکومت کے ساتھ🔥
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
جو شیلنگ ہم پر ہوتی ہے، ہم نے پکڑ کر واپس ان پر پھینکنا ہے لیکن ہم نے پرامن رہنا ہے۔ 13 اکتوبر کو جو پلان دوں گا ان کا ہوش اڑ جائے گا
ڈرائی فروٹ اور ماسک ساتھ لیکر آئیں
اگر ایک صوبے کا وزیر علی کہہ رہا ہے کہ میری پالیسی مانو س دن میں دہشتگردی ختم کر دوں گا تو یہ کیوں نہیں کر رہے ان کا فائدہ ہے دہشت گردی کرانے میں
#Ab_Raaj_Karegi_Khalq_Khuda
”جب میں کہتا ہوں کہ میری پالیسی مانو، صرف 100 دن میں دہشتگردی ختم ہو جائے گی، یہ نہیں مانتے کیونکہ ان کی نیت دہشتگردی ختم کرنا ہے ہی نہیں۔ یہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔“
سہیل آفریدی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
Thousands of Imran Khan supporters are on the way to Islamabad to demand his release from prison. Pakistan’s former PM has been in jail since 2023. The government says it will not allow the march to enter the capital.
مراد سعید کا گراؤنڈ پر ہونا اس وقت بالکل بھی جائز نہیں ہے ہم میں سے ہر کوئی مراد سعید بن سکتا ہے اگر وہ اپنے گھر سے باہر نکلے 🙏🏿
#Ab_Raaj_Karegi_Khalq_Khuda
یہ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے اور اس سے ہم پیچھے نہیں ہٹینگے ، بھائی میرے ہمِیں اس وقت آپ کی گراؤنڈ پر ضرورت ہے ، اس سے زیادہ مشکل وقت خان صاحب پر نہیں آسکتا ، ان کی گھر کی عورتیں تک جیل میں ہے اور ان کے انسانی حقوق معطل ہے ۔خان صاحب کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے اگر خان صاحب ہے تو ہم سب ہے لیکن اگر آپ کی جان زیادہ اہم ہے تو میں اصرار نہیں کرونگی ۔
اگر یہ آخری بازی ہے تو ہمِیں مل کر لگانی ہوگی ۔
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنای��۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبا��ی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا ط��اروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
In Khyber Pakhtunkhwa, only Imran Khan's policy will prevail. Only Imran Khan will hold sway. Rule by the people is, in fact, Imran Khan's rule.
@SohailAfridiISF