بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس ��نصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانست��ن وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رک��ا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں ��ظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا ��ر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
“When the tragic incident of the Fall of Dhaka occurred in 1971, the country was under martial law, imposed by the dictator Yahya Khan, who had made himself the ultimate authority. The Hamoodur Rahman Commission was established following the tragedy of East Pakistan. It revealed that Yahya Khan, in pursuit of his personal interests and to unlawfully extend his rule by another ten years, made decisions that led to Pakistan being split into two.
The Hamoodur Rahman Commission Report was prepared after extensive investigations involving representatives of the superior judiciary, the Army, Navy, and Air Force. During this process, statements of hundreds of people were recorded and four years were spent probing the causes of this national tragedy.
According to the Commission, one man's ego and lust for power led to a dark era of tyranny and oppression that permanently broke the country apart. His gravest mistake was the attempt to suppress Sheikh Mujibur Rahman’s Awami League, the most popular party of the time, which had won 160 out of 162 seats. Instead of respecting his party's mandate, it was pushed into a corner. Mujibur Rahman was imprisoned, and their own seats in West Pakistan were fraudulently increased. On March 24th, 1971, negotiations with Mujibur Rahman began, but on that very night, a military operation was launched against the Bengalis. According to official figures, 50,000 lives were lost, but the real death toll was far greater.
The same conditions as those of 1971 have been recreated in Pakistan today. Asim Munir orchestrated the false-flag operation of May 9th (2023) to crush the country’s most popular political party, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI). Over ten thousand PTI members and supporters were arrested within two nights. How was it possible that 10,000 people could be detained in just two nights without any investigation? Thereafter, a systematic campaign was launched to annihilate the party. All political activities of the largest political force in the country were banned. Anyone carrying a PTI flag was abducted, our candidates and their families were kidnapped, and even our electoral symbol was taken away. Yet on February 8th (2024), the people came out in defiance and shattered this entire false narrative.
February 8th was a day of revolution when the people voted against an oppressive system and gave PTI a two-thirds majority. When the Commissioner of Rawalpindi, in response to the call of his conscience, exposed electoral rigging and confessed to manipulation of votes by the tens of thousands, the very forces guilty of rigging concocted the absurd narrative that he had lost his mental balance—and then made him forcibly disappear. His whereabouts remain unknown to this day, but we will not allow his memory to be erased.
The real culprits of May 9th are those who stole the CCTV footage. Now, under the guise of that incident, our remaining seats in parliament are being taken away by handing down ten-year sentences of ten after sham trials. The height of shamelessness is that Ejaz Chaudhry’s seat was stolen and handed over to Rana Sanaullah, who had lost his own election. All these punishments are utterly unlawful.
Through deceit, seats are being snatched from us one by one. That is why we chose to boycott the by-elections, because those seats too will ultimately be stolen. To participate in such elections would be to legitimize these false convictions. I pay tribute to all those who have resigned from the National Assembly committees and given up all privileges, and I direct that resignations also be submitted from the Senate’s standing committees. I will announce our future course of action in the coming days.”
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his sisters in Adiala Jail (10 September 2025)
1/3
Today, I met Sulaiman and Kasim, the sons of @ImranKhanPTI, in my Washington office.
I am concerned to hear that Khan remains isolated from his family, friends, attorneys, and doctors. His sons also shared that his physical health may be deteriorating.
The people of #Pakistan deserve to have their leaders be treated fairly under the law.
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختی��ں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ د��ر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ ��یا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
The sacrifices made by Hazrat Imam Hussain (AS) emphasise his commitment to righteousness. He inspires people to uphold truth in the face of adversity.
جس طرح خان کےنام پرووٹ لینےوالوں کی ترجیحات میں اب عمران خان کی قید اسکی زندگی کولاحق خطرات کےخلاف کھڑاہونا شامل نہیں رہاٹھیک اسی طرح اسکےنام پر فالورز لینےوالوں کی ترجیحات میں بھی اب خان کی زندگی رہائی اہم نہیں رہی۔تاہم خان کےنام پرکوئی تماشہ لگاکےویوز ملنےچاہیے چاہےجیسےبھی ملیں
اس نمونے بدشکل انسان نے ایک سترہ سال کی گڑیا صرف اس لیے موت کے گھاٹ اتار دی کہ اس نے اسکا پرپوزل ریجیکٹ کیا تھا ۔اگر پروپوز کرنے سے پہلے اپنی شکل دیکھ لیتا تو ثنا یوسف کے بجاۓ خود کو گولی مارلینی چاہیے ۔😡جہاں ایک طرف عوام کہہ رہی ہے کہ ٹک ٹوک کا بے دریغ اور فضول است��مال اس طرح کے واقعات کا سبب ہے تو دوسری طرف لڑکوں کی تربیت پر بھی بحث ہونے چاہیے
ٹک ٹوکر تو پھی قابل عزت لفظ ہے آپ کسی طوائف کے ساتھ بھی زبردستی نہیں کرسکتے ۔
اس غلیظ شخص کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے
کسی کی شکل و صورت پہ کچھ کہنا اچھا تو نہیں لگتا لیکن صرف اس کوشش میں کہ عمران خان 72 سال کی عمر میں بھی سمارٹ خوبرو لگتا ہے اس لیے نوجوان نسل اسے اپنا لیڈر مانتی ہے تو میں بھی عمران خان کی کاپی کرتا ہوں کوئی اس عقل کے اندھے کو سمجھاۓ کہ عمران خان ٹف ایکسرسائز کی وجہ سے ایسا ہے ناکہ پتلا ہونے کے لیے پھٹی سیدھی دوائیوں اور سرجریز کی وجہ سے۔
پہلے ہی اسکی زبان نہ مونث ہے نہ مذکر اوپر سے پتلے اور سمارٹ ہونے کے چکر میں پٹھی سیدھی سرجریوں اور میڈیسنز نے مزید بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
پاکستان کی بدنام زمانہ طوائف الملوک نے 54 سال سے دین کی تیبلیغ کرنے والے مولانا طارق جمیل کو بھی نہ بخشا۔۔ثابت ہوا اس ملک میں مذہب کا چورن بھی صرف وہی بیچ سکتا ہے جو جی ایچ کیو کو سجدہ کرے