میں وڈھ سے کوئٹہ تک ایک لانگ مارچ کا اعلان کرتا ہوں، جو ہماری بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف ہے۔
میں اس مارچ کی قیادت خود کروں گا، اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔
یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، ہماری غیرت، اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔
جب تک ہماری ماہیں، بہنیں اور ب��ٹیاں محفوظ نہیں، ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
ہماری یہ تحریک پرامن ہے، ۔
ہم ظلم، جبر، اور ناانصافی کے خلاف نکلے ہیں،
اور جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔
وڈھ سے کوئٹہ تک ہمارا مارچ صرف قدموں کا نہیں، ضمیر کا سفر ہے۔
جو خاموش ہے، وہ بھی قصوروار ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک آواز بن جائیں۔
تفصیلات اور اگلے اقدامات جلد شیئر کیے جائیں گے۔
جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال ترلپر کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خام��ش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا — یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے
پشتونخوا ميپ کے چيرمين محترم مشر محمود خان اچکزئی سپین بولدک او�� چمن کے درمیان باب دوستی پر دونوں طرف اباد مقامی قبائل کی پیدل آمدورفت اور جائز تجارت پر پابندیوں کے خلاف جاری چمن احتجاجی دھرنے شريک
رات کے اس پہر پشتونخوامیپ کا DC آفس پشین کے سامنے احتجاج
پشین سے صوبائی اسمبلی کی 2 نشستوں پر پشتونخوامیپ کی جیت کو ہار میں بدلنے کے بعد سرکاری عملہ اس وقت سرکاری ریکارڈ غائب کرنے کیلئے سرگرم ہے۔
میران شاہ شمالی وزیرستان پولیس اور ایف سی کی جانب سے محسن داوڈ اور ساتھیوں پر سیدھی گولیاں چلانا انتحاٸی بزدلانہ اور شرمناک واقع ہے۔ محسن داوڈ زخمی ہے۔ ریاستی فاشزم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
#StopStateTerrorism
پولنگ ختم ھوئے ��چاس گھنٹے سے زائد ھونے کے باجود محسن داوڑ کے حلقے کا رزلٹ روکنا اور اسکے بعد احتجاج کرنے پر فوج کا اس اور اسکے ساتھیوں پر فائرنگ کرکے زخمی کرنا انتہائی قابل مذمت ہے
آج چمن دھرنے کا 79واں دن ہے۔ ہزاروں لوگ اس دھرنے میں موجود ہیں اور مطالبہ صرف روزگار کا آزادانہ حق ہے۔ اس بنیادی مطالبے کو تسلیم کرنے میں بھی انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
یہاں کے مقامی لوگ صدیوں سے آزادانہ طور پر کاروبار کررہے ہیں، معاشی قدغن عائد کرنا لاکھوں خاندانوں کے معاشی قتل کا مترادف ہے۔
چمن دھرنے کے لیے آواز اٹھائے
#ChamanSitIn